عاصمہ جہانگیر اور وہ

عاصمہ جہانگیر اور وہ
روشن لعل
مرحومہ عاصمہ جہانگیر، اس ملک کا ایسا یکتا و یگانہ کردار ہیں ، جن کے لیے کچھ کہنے سے پہلے کسی قسم کی تمہید باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تحریر کے عنوان میں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ جس ’’ وہ ‘‘ کا ذکر ہے ، اس کے رویے اور کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس کے متعلق کچھ کہتے ہوئے، کراہت تنزیہی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام لینے کی بجائے صرف یہی کہا جارہا ہے کہ’’ وہ‘‘ جس کسی کے لیے بھی لغو اظہار خیال کرتا ہے، اس کا نقصان ہوتے ہوتے فائدہ ہو نے لگتا ہے۔ وکیلوں کے لیڈر ، احسن بھون ، کی مثال ہی سامنے رکھ لیں ، ان کے گروپ کو ضلعی اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے انتخابات میں لگاتا شکست ہوئی لیکن جیسے ہی اس ’’ وہ‘‘ نے ان کی ڈگریوں کے پہلے سے چیلنج شدہ معاملے کو نئے سرے سے ہوا دی ، احسن بھون کا گروپ پے درپے ناکامیوں کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا الیکشن جیت گیا۔ جس ’’ وہ‘‘ کی طرف سے احسن بھون کی مبہم ڈگریوں کے معاملے کو ہوا دینے کے باوجود ان کا گروپ جیت گیا ، اس ’’ وہ‘‘ کی قطعاً ایسی حیثیت نہیں ہے کہ اس کی ہرزہ سرائیوں سے عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ کردار پر کوئی حرف آسکے۔ اس ’’ وہ‘‘ کی باتوں سے، اس عاصمہ جہانگیر کی عظمت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا جو عاصم تمام عمر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سامنے سینہ سپر رہی، ہاں مگر ، ان کے لیے کی گئی لغو بیانی دیکھنے کے بعد، انہیں پھر سے خراج تحسین پیش کرنی کو دل کر آیا ہے۔
مرحومہ عاصمہ جہانگیر کا شمار ان خواتین میں نہیں ہوتا جن کی جنس ان کی پیش قدمی کی راہ میں کبھی رکاوٹ بنی ہو۔ عاصمہ کی مذکورہ صفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، مخالفین نے ان کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخاب میں صدارت کا امیدوار بننے کے بعد، جنسی تعصب کا نشانہ بنانے کی بجائے ان کی راہ میں ایسی شرمناک رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کیں جن کے ذریعے اس سماج میں بڑے بڑے نام اور مقام رکھنے والوں کو زیر کرنا ممکن سمجھا جاتا ہے۔ عاصمہ کی مخالفت میں کی گئی گری ہوئی حرکتوں کے باوجود ان کی جیت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کے مخالفین کے منفی پراپیگنڈے کے مقابلے میں انصاف کی سربلندی اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے کی گئی تین دہائیوں پر محیط ان کی جدوجہد کا پلڑا مسلسل بھاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ اس ملک میں سیاسی اداکاروں کے منفی پراپیگنڈے کے باوجود کردار کی پختگی کو پرکھنے والے لوگ ہر شعبہ زندگی میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہیں۔
عاصمہ جہانگیر اپنی زندگی میں قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہدکرنے کے علاوہ کبھی کوئی دوسرا کام کرتی نظر نہیں آئیں۔ قانون کی بالادستی کے لیے عاصمہ کی جدوجہد کا سفر ان کے زمانہ طالب علمی سے شروع ہوا۔ اس بات کی گواہی PLD1972میں درج پاکستان کی عدالتی تاریخ کا مشہور زمانہ کیس، عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب ہے ۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں قانون کی بالادستی کی جدوجہد کے دوران گرفتار کی گئی عاصمہ نے بعد ازاں اس سفر میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مارشل لاء کا زمانہ ہو یا جمہوری دور، عاصمہ نے اپنی جدوجہد اتنی بے باکی سے کی کہ انہیں بسا اوقات جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
عاصمہ نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ہوا کا رخ دیکھ کر کوئی موقف اختیار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنے قول اور فعل سے وہ کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی جسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق حق اور سچ سمجھا۔ وہ بلا شبہ اپنی آخری سانسوں تک اس طرح کا کردار بلا تعصب اور غیر جانبداری سے ادا کرتی رہیں۔ اگر اس صدی کے آغاز کے بعد پاکستان میں رونما ہونے والے اہم سیاسی و سماجی واقعات کو دیکھا جائے تو ہر واقعہ میں عاصمہ مثبت کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گی۔ ججو ں کی بحالی کی تحریک کے دوران اور اس کے بعد بھی انہوں نے اپنا کردار دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر طور پر ادا کیا۔ ججوں کی بحالی کی تحریک کے دورا ن بلا خوف و خطر جد جہد کرنے والی عاصمہ جہانگیر نے، ججوں کی بحالی کے بعد بھی غیر جانبداری کی روش پر قائم رہتے ہوئے، عدلیہ کے فیصلوں پر قابل جواز تحفظات ظاہر کرنے سے کبھی گریز نہ کیا۔ عاصمہ نے جہاں ضروری سمجھا عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کی اور جہاں انہیں یہ نظر آیا کہ حکومت بلاوجہ عدلیہ سے متحارب ہے وہاں اس کی بھی نشاندہی کی۔ عاصمہ نے این آر او کو امتیازی آرڈیننس کہا اور اسے ختم کرنے والے عدالتی فیصلہ کی حمایت بھی کی مگر اس فیصلے کے بعض حصوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کھل کر یہ کہا کہ ان میں عدلیہ نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران وکلا اس قدر بے باک تھے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو ’’ ڈوگر کورٹ‘‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کو ’’ ڈوگر کورٹ ‘‘ کا نام دینے والے وکیلوں کا کہنا تھا کہ ان کی یہ بے باکی چند ججوں کی بحالی تک محدود نہیں رہے گی۔ بعد ازاں یہ دیکھا گیا کہ آئین کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے وکیل آہستہ آہستہ منظر عام سے غائب ہونا شروع ہو گئے ، اس منظر نامے میں عدلیہ کے تحفظ سمیت اس کے فیصلوں پر جائز تنقید کا کام عاصمہ جہانگیر اور ان کے چند ساتھیوں کو سنبھالنا پڑا۔ عدالت عالیہ نے جب سندھ اور لاہور ہائیکورٹوں کے چھ ایڈیشنل ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو رد کیا تو عاصمہ نے کسی تردد کے بغیر پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہا کہ سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی ادارہ پارلیمانی کمیٹی کیطرف سے جج کے عہدے پر تعیناتی کے لیے رد کیے گئے ناموں کو بحال نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ نے جب جسٹس ( ریٹائرڈ) دیدار حسین شاہ کی بطور چیئر مین نیب تعیناتی کو کالعدم قرار دے کر انہیں آئندہ بھی اس عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تو اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عاصمہ کا کہنا تھا کہ فیصلے کا پہلا حصہ درست ہے کیونکہ حکومت نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے وقت آئینی تقاضوں کے مطابق قائد حزب اختلاف سے مشاورت نہیں کی تھی ، مگر دیدار حسین شاہ کو آئندہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے نااہل قرار دینا درست نہیں ہے۔ 2012ء کے سینیٹ کے الیکشن سے قبل جب میاں نواز شریف میمو کیس لے کر سپریم کورٹ گئے تو عاصمہ نے برملا اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سینیٹ میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی جگہ اپنے مہروں کو آگے لانا چاہتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنے بے مثال کردار سے یہ ثابت کیا کہ، حمایت و مخالفت کسی شخص کی حب یا بغض میں نہیں بلکہ انتہائی غیر جانبداری سے، انصاف کے تسلیم شدہ تقاضوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔
عاصمہ جہانگیر کا شمار ہمیشہ ایسے لوگوں میں ہوتا رہے گا جو آنکھوں کو کھلا رکھنے کے لیے نہیں بلکہ دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کسی ’’ وہ‘‘ کی لغو گوئی ایسی زندہ و جاوید شخصیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔







