صعدہ کی چیخ اور سمندر کی رسید

صعدہ کی چیخ اور سمندر کی رسید
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
یمن کے شمالی پہاڑوں میں ایک نعرہ گونجا تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن اس کی بازگشت بحیرہ احمر کی لہروں پر سنائی دے گی اور اس کی قیمت دنیا بھر کے صارفین اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ آج جب کوئی بحری جہاز افریقہ کا طویل چکر کاٹ کر یورپ پہنچتا ہے تو اس کے ایندھن کے بل میں صعدہ کی وہ چیخ بھی شامل ہوتی ہے جو کبھی چند مسجدوں اور مدرسوں تک محدود تھی۔ سوال یہ نہیں کہ حوثی کتنے طاقتور ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک مقامی مذہبی احیائی تحریک نے کس طرح ایک ریاست پر قبضہ کیا، معاشرے کو نسب کی بنیاد پر تقسیم کیا اور پھر دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ کو اپنی سیاست کا یرغمال بنا لیا۔
کہانی 1990ء کی دہائی کے اواخر سے شروع ہوتی ہے جب حسین بدرالدین الحوثی نے الشباب المومن کی باگ ڈور سنبھالی۔ ابتدا میں یہ زیدی شناخت کے احیا کی کوشش دکھائی دیتی تھی، مگر رفتہ رفتہ اس پر جارودیہ کا رنگ غالب آ گیا، جو زیدیت کی ایک سخت گیر شاخ ہے اور جس پر ایرانی انقلاب کی فکر کے اثرات نمایاں ہیں۔ حسین الحوثی کے لیکچرز، جو ’’ ملازم‘‘ کے نام سے دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں، تحریک کا لازمی نصاب بن گئے۔ انہی سے وہ نعرہ نکلا جسے الصرخہ کہا جاتا ہے۔ امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، یہودیوں پر لعنت۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے عالمی نقطہ نظر کا اعلان تھا جس میں ہر مسئلے کی جڑ مغرب میں تلاش کی جاتی ہے۔
ستمبر 2014ء میں صنعا پر قبضے کے بعد یہ نقطہ نظر ریاستی پالیسی میں ڈھلنے لگا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال 2020ء میں نافذ کیا گیا خمس کا قانون ہے، جس کے تحت قدرتی وسائل پر بیس فیصد محصول عائد کیا گیا اور اس کا حق دار بنی ہاشم کو ٹھہرایا گیا۔ ذرا غور کیجیے کہ اکیسویں صدی میں ایک ملک کے شہریوں سے کہا جاءے کہ ان کی زمین سے نکلنے والی دولت کا پانچواں حصہ ایک مخصوص خاندانی سلسلے کا ہے۔ یہ ٹیکس سے زیادہ ایک سماجی درجہ بندی ہے جسے قانون کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔
اس سے بھی تلخ باب بچوں کا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں SAMاور یورو میڈ مانیٹر کے تخمینے کے مطابق 2014ء سے 2021ء تک دس ہزار سے زائد بچوں کو بھرتی کیا گیا، جن میں سات برس تک کے کم سن بھی شامل تھے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل برائے یمن نے جنوری 2022ء کی رپورٹ میں بتایا کہ جنوری 2020ء سے مئی 2021ء کے دوران حوثیوں کی صفوں میں لڑنے والے قریباً دو ہزار بچے مارے گئے۔ یہ اعداد کسی پروپیگنڈا مہم کے نہیں، ایک عالمی ادارے کی دستاویز کے ہیں۔ جو تحریک اپنے مستقبل کو محاذ پر بھیج دے، وہ کس آنے والے کل کی بات کرتی ہے؟
عسکری پہلو پر نظر ڈالیں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ Conflict Armament Researchاور اقوام متحدہ کے ماہرین نے حوثیوں کے زیر استعمال ہتھیاروں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ قاصف ڈرون کا ڈیزائن ایرانی ابابیل ٹی سے ملتا ہے، واعد ڈرون میں ایرانی شاہد سلسلے کی جھلک ہے، صماد کو بھی ایرانی ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے، اور قدس کروز میزائل کا تعلق ایرانی سومار اور پاوہ ڈیزائن سے بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ طوفان جیسی بغیر عملے کی کشتیاں ہیں جو سیکڑوں کلوگرام دھماکا خیز مواد لے کر تیز رفتاری سے جہازوں کی طرف بڑھتی ہیں۔ یہ سب سلامتی کونسل کی قرارداد 2216کے باوجود ہوا، جس نے 2015ء میں حوثیوں پر اسلحے کی پابندی عائد کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ وہ پابندی صرف کاغذ پر تھی یا سمندر میں بھی؟۔
نومبر 2023ء میں یہ صلاحیت عالمی تجارت کے خلاف استعمال ہونے لگی۔ گلیکسی لیڈر نامی جہاز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اغوا کیا گیا اور اس کے بعد تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نہر سوئز سے گزرنے والی آمدورفت میں پچاس سے ستر فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ جولائی 2025ء میں دو تجارتی جہاز ڈبو دئیے گئے اور ان میں سے ایک کے عملے کے کئی ارکان جان سے گئے۔ حوثی اسے غزہ سے یکجہتی کا نام دیتے ہیں، مگر جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی کا اس جنگ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے آرٹیکل 38کے تحت بین الاقوامی آبنائے سے گزرنے کا حق ہر جہاز کو حاصل ہے، اور باب المندب اسی زمرے میں آتا ہے۔ جنوری 2024 ء میں سلامتی کونسل نے قرارداد 2722کے ذریعے ان حملوں کی مذمت کی۔ امریکی قیادت میں آپریشن پراسپیریٹی گارڈین اور یورپی یونین کا مشن ایسپائیڈز بھی اسی پس منظر میں سامنے آئے۔
حوثیوں کے حامی کہتے ہیں کہ یہ تحریک خلا میں پیدا نہیں ہوئی۔ صعدہ کا علاقہ دہائیوں تک ریاستی ترقی سے محروم رہا۔ 2004ء سے 2010ء کے دوران علی عبداللہ صالح کی حکومت نے وہاں چھ جنگیں لڑیں، اور 2004ء ہی میں حسین الحوثی مارے گئے۔ پھر 2015ء میں شادی کی تقریبات، بازاروں اور اسکول بسوں تک کو نشانہ بنایا، جس پر عالمی اداروں نے بارہا تشویش ظاہر کی۔ یہ دلیل وزن رکھتی ہے کہ بمباری اور ناکہ بندی نے حوثیوں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کے بیانیے کو تقویت دی۔ میں اس دلیل کو رد نہیں کرتا۔ مگر محرومی کا جواب ذات پات کا نظام نہیں ہو سکتا، اور مظلومیت بچوں کے ہاتھ میں بندوق تھمانے کا جواز نہیں بنتی۔ ظلم سہنے والا جب خود ظلم کا نظام کھڑا کر لے تو تاریخ اسے مظلوم کے خانے میں زیادہ دیر نہیں رکھتی۔ یہاں عالمی برادری کی ناکامی کا اعتراف بھی لازم ہے۔ فضائی حملے میزائلوں کے لانچنگ پیڈ تو تباہ کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے کو ختم نہیں کر سکتے جو ملازم کے صفحات سے نکل کر کلاس روم تک پہنچ چکا ہے۔
تو راستہ کیا ہے؟ میرے نزدیک پہلا قدم اسلحے کی پابندی پر سنجیدہ عمل درآمد ہے، جس میں دوہرے استعمال کے پرزوں کی تجارتی ترسیل پر کڑی نگرانی شامل ہو، کیونکہ ڈرون کا انجن اکثر کسی عام کاروباری کھیپ میں چھپ کر آتا ہے۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ بچوں کی بھرتی کو جنگی جرم کے طور پر دستاویزی شکل دی جائے اور ذمہ داروں کے نام عالمی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل کیے جائیں۔ تیسرا اور شاید سب سے اہم قدم یہ ہے کہ یمن کے سیاسی حل میں ان آوازوں کو جگہ دی جائے جو نہ ریاض کی ترجمان ہیں نہ تہران کی، یعنی وہ قبائل، خواتین اور نوجوان جو برسوں سے اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
صعدہ کی چیخ اب صرف یمن کا مسئلہ نہیں رہی۔ اس کی رسید ہر اس گھر تک پہنچ رہی ہے جہاں درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا یہ رسید ادا کرتی رہے گی یا اس کھاتے کو بند کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے گی؟ ممکن ہے آپ میری رائے سے اختلاف کریں، اور شاید یہی مکالمہ اس بحث کو آگے بڑھائے۔





