Column

مہنگائی کی مار، غربت کا حصار

مہنگائی کی مار، غربت کا حصار

رفیع صحرائی

 

غربت صرف خالی جیب، خالی چولہے یا راشن کے ختم ہوجانے کا نام ہی نہیں۔ یہ انسان سے اس کا اطمینان، خود اعتمادی، خواب اور مستقبل کا یقین بھی چھین لیتی ہے۔ جب مہنگائی آمدن سے کئی گنا تیزی سے بڑھنے لگے، روزگار کے مواقع محدود ہوجائیں، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی، گیس، پٹرول اور گھر کا کرایہ آمدن کا بڑا حصہ نگل جائیں تو پھر غربت ایک معاشی مسئلہ ہی نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کا المیہ بن جاتی ہے۔پاکستان میں غربت اور معاشی عدم مساوات کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار اسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 2019ء میں 22فیصد تھی جو 2025ء میں بڑھ کر 29فیصد ہوگئی۔ یعنی چند برسوں میں غربت میں سات فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور کم آمدنی والے طبقات کی آمدن میں کمی غربت بڑھنے کی اہم وجوہات ہیں۔ 2024ء کے دوران 7کروڑ 26لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ عالمی بینک نے امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی فرق کی نشاندہی بھی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مساوات جانچنے کے انڈیکس میں پاکستان کا اسکور 2018ء میں 28.4تھا جو 2025 میں بڑھ کر 32.7ہو گیا۔ جبکہ روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن رکھنے والوں کی شرح 23فیصد ہے، جن کی تعداد 5کروڑ 67لاکھ سے بنتی ہے۔
یہ اعداد محض کاغذ پر لکھی ہوئی تعداد نہیں۔ ان میں کروڑوں انسان بستے ہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہے، ایک خاندان ہے، بچوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں، ایک باپ کی پریشانی ہے، ایک ماں کی بے بسی ہے اور نوجوانوں کی وہ نسل ہے جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کی تلاش میں در بدر پھر رہی ہے۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر اس شخص پر پڑتا ہے جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہو۔ ایک صاحبِ ثروت خاندان کے لیے آٹے، دال، بجلی یا پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ شاید بجٹ کو زیادہ متاثر نہ کرے، لیکن دیہاڑی دار، مزدور، کم تنخواہ دار ملازم یا پنشنر کے لیے یہی اضافہ گھر کے کسی دوسرے بنیادی خرچ کو قربان کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک عام گھرانے کا بجٹ صرف حساب کتاب کی مشق نہیں رہا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ترجیحات طے کرنے کی جنگ بن چکا ہے۔ بچوں کی فیس دینی ہے یا بجلی کا بل؟ دوا خریدنی ہے یا راشن پورا کرنا ہے؟ گھر کا کرایہ ادا کرنا ہے یا پٹرول ڈلوانا ہے؟ یہ سوال لاکھوں خاندانوں کے لیے ہر ماہ نہیں بلکہ ہر ہفتے پیدا ہوتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں کمی بیشی کی بحث تو ہوتی ہے، مگر اس کے انسانی اثرات پر کم بات ہوتی ہے۔ اگر مہنگائی کی شرح کم بھی ہوجائے لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر رہیں تو اس شخص کے لیے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہونا اور قیمتوں کا واپس نیچے آنا دو مختلف باتیں ہیں۔ معاشی ترقی کا اصل معیار صرف یہ نہیں کہ قومی آمدن کتنی بڑھی یا زرِمبادلہ کے ذخائر میں کتنا اضافہ ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ عام آدمی تک کتنا پہنچا؟۔
جب ایک طرف معاشرے کا ایک طبقہ آسائشوں کے نئے معیار قائم کررہا ہو اور دوسری طرف کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہوں تو معاشی عدم مساوات بڑھتی ہے۔ یہی عدم مساوات بالآخر معاشرتی بے چینی، احساس محرومی اور طبقاتی فاصلے کو جنم دیتی ہے۔ ریاست کا فرض صرف معیشت کے بڑے اعداد بہتر کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کیا بہتری آئی۔ اگر قومی پیداوار بڑھ رہی ہو مگر مزدور کی حقیقی آمدن کم ہورہی ہو، اگر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہو مگر نوجوان کو روزگار نہ مل رہا ہو، اگر شہروں میں بلند عمارتیں بن رہی ہوں مگر غریب بستیوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو تو ہمیں اپنے ترقی کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ غربت کا مستقل حل صرف راشن تقسیم کرنا، وظیفے دینا یا وقتی مالی امداد فراہم کرنا نہیں۔ یہ اقدامات ضرورت مند خاندانوں کے لیے بلاشبہ اہم ہیں، لیکن غربت کے خاتمے کے لیے مستقل آمدن کے ذرائع پیدا کرنا ہوں گے۔
روزگار کے مواقع پیدا کرنا، صنعت کا پہیہ چلانا، چھوٹے کاروبار کو آسان قرض دینا، ہنرمندی کی تعلیم عام کرنا، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا، برآمدات بڑھانا اور نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تربیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کسان کو مناسب قیمت، مزدور کو باعزت اجرت اور ملازم کو روزگار کا تحفظ دینا ہوگا۔ اگر محنت کرنے والا شخص اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کرسکے تو پھر معاشی پالیسی کے نتائج پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے ایک اور بنیادی شرط معاشی انصاف ہے۔ جب عام شہری ٹیکس ادا کرے اور اسے بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور سفری سہولتوں کے لیے مشکلات کا سامنا ہو، جبکہ مراعات یافتہ طبقات کو مختلف سہولتیں میسر ہوں تو معاشرے میں احساس محرومی بڑھتا ہے۔
ریاست کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات، مراعات، شاہانہ طرزِ زندگی اور وسائل کے غیر مساوی استعمال کو محدود کرکے عوامی سہولتوں پر زیادہ خرچ کیا جائے۔ ٹیکس کا نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جس میں بوجھ صرف تنخواہ دار اور کمزور طبقات پر نہ پڑے بلکہ صاحبِ ثروت طبقات بھی اپنی حقیقی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالیں۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف قیمتوں کی فہرستیں جاری کرنا کافی نہیں۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اسمگلنگ، مصنوعی قلت اور ناقص سپلائی چین کے خلاف موثر کارروائی ضروری ہے۔ زرعی پیداوار سے لے کر منڈی اور صارف تک اشیائے ضروریہ کی پوری زنجیر کو شفاف بنانا ہوگا۔
حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پالیسیوں کا بوجھ بار بار عام صارف پر منتقل نہ ہو۔ بجلی، گیس، پٹرول، ٹیکس اور دیگر اخراجات میں اضافہ اگر مسلسل ہوتا رہے تو ایک وقت آتا ہے جب تنخواہ میں معمولی اضافہ بھی مہنگائی کے سامنے بے معنی ہوجاتا ہے۔ ہمیں ترقی کا پیمانہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی ملک کی اصل خوشحالی اس وقت نظر آتی ہے جب مزدور کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل کرے، نوجوان کو میرٹ پر روزگار ملے، بچے معیاری تعلیم حاصل کریں، بیمار کو علاج کی سہولت دستیاب ہو اور ایک عام گھرانے کو یہ خوف نہ ہو کہ اگلے مہینے کا خرچ کیسے پورا ہوگا۔پاکستان کے پالیسی سازوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ غریب کو صرف زندہ رکھنا کافی نہیں، اسے باعزت زندگی دینا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button