الفاظ کی جنگ کے ماہر

الفاظ کی جنگ کے ماہر
تجمّل حسین ہاشمی
مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان نے اسمبلی کے فلور پر الفاظ کا میدان مار لیا لیکن ایک لفظ ’’ تھو ‘‘ پر انہیں جنگ سے پیچھے ہٹنا پڑا ، آپ کو کیا لگاتا ہے کہ مولانا کو اس لفظ کی سمجھ نہیں یا یہ سمجھ نہیں کہ وہ کیا بول رہے ہیں، مولانا سیاسی چالبازیوں کے کھلاڑی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ’’ ریاست ماں ہوتی ہے، لیکن اس ماں پر تھو جو بچوں کو لڑاتی ہے‘‘ ، مولانا فضل الرحمان کا اسمبلی فلور پر سخت بیان یقینا قابل مذمت ہے۔ اس سے پہلے بھی مولانا اپنی پریس کانفرنس میں کئی قابل مذمت الفاظ بول چکے ہیں۔ افسوس کہ اس وقت پورے ہائوس میں کسی بھی ایک ممبر اسمبلی میں جرات نہیں ہوئی کہ کھڑے ہو کر مولانا کہ اس لفظ پر احتجاج ریکارڈ کراتے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی خاموش بیٹھے رہے۔ ویسے وہ اگلے روز کافی ایکٹو نظر آئے۔ جن خواتین پر خواجہ آصف نے فلور پر تنقید کی، انہیں خواتین میں پیپلز پارٹی کی ایک ایم این اے شاہدہ رحمانی نے جرات کے ساتھ مولانا کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، مولانا کو اس احتجاج کے بعد پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسمبلی فلور پر خواجہ آصف کی طرف سے کی گئی خواتین پر تنقید پر شازیہ مری کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ اسمبلی فلور اور میڈیا پر مولانا کو اڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے، جناب محسن نقوی کی طرف سے دئیے گئے بیانات کے بعد بظاہر یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ مولانا کے لیے آنے والے دن سیاسی طور پر سخت ہوں گے، کہا جاتا ہے کہ نقوی صاحب ٹھنڈے انسان ہیں، جوڑنا جانتے ہیں توڑنا نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو سیاست میں مذہب کے استعمال اور حکومتی مراعات لینے کا طعنہ دیا جا رہا ہے، دوسری سائیڈ پر مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری مولانا کے دوست ہیں اور ہمارے سیاسی تعلقات ہیں، لیکن یہ منہ بولا ’’ برخودار‘‘ اُن کا بھی نہیں ہے۔ یہ کسی اور کا ہے، وہاں سے جو ہدایت اسے ملتی ہے وہی باتیں کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان تو اتحادیوں کے ہمدرد ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے بھی ہم دم ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ مولانا اپنے اتحادیوں سے کیوں خفا ہیں، آج وہی اتحادی ان پر مفادات کے الزامات دئیے رہے ہیں، جو کبھی ان سے خان سے نجات مانگ رہے تھے۔ انہیں اتحادیوں کے دور 2008ء سے 2018ء تک مولانا کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے۔ ان 10سالوں میں جنریٹر بھی وہی پڑا رہا ہے۔ آج پھر یہ ماجرا کہاں چل نکلا ہے، ویسے ماضی کے سیاسی بٹواروں کو دیکھا جائے تو ہر بار مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے، ہر دور میں ان کے ساتھ وعدے ہوئے لیکن ان وعدوں میں صداقت نظر نہیں آئی۔ زیادہ عرصہ نہیں صرف خان حکومت کو ہی دیکھ لیں، خان حکومت کے خلاف اعلان جنگ کی بنیاد جس کو پی ڈی ایم کہتے ہیں مولانا کی محنت کا نتیجہ تھی، یہ فن مولانا نے نوابزادہ مرحوم سے سیکھا۔ وہ سیاسی اتحاد اور اپوزیشن کو ایک ٹیبل پر اکٹھا کرنے کے ماہر تھے، نوابزادہ مرحوم بھی کشمیر کمیٹی کے 1993ء سے 1996ء تک سربراہ رہے، انہوں نے بھی اے آر ڈی کی بنیاد رکھی۔ مشرف دور میں نوابزادہ نصر اللہ نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان صلح کرائی اور مشرف حکومت کو مجبور کیا۔ ویسے اسمبلی فلور پر داغے جانے والے بیانات کو زیادہ سیریس نہیں لینا چاہئے کیوں کہ جس جمہوریت کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں فیصلے صرف پارٹیوں کے سربراہان، جن میں میاں نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان ، عمران خان جو آج کل جیل میں ہیں، ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ہی کرنے ہیں ، آپ یقین رکھیں کہ اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر بیان دینے والے منسٹرز میں اتنی جمہوریت نہیں کہ وہ پارٹی سربراہ کے آگے سوال اٹھا سکیں، یا انہیں راستہ سمجھا سکیں۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مفادات کا سوال ہے تو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ زبانی وعدوں کو وفا نہیں ملی، 2018ء میں صدارتی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کو ان جماعتوں کی طرف سے کوئی سیاسی حمایت نہیں ملی، یہاں تک پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو اپنا امیدوار کھڑا کیا ۔ 2020ء میں تمام جماعتوں نے پی ڈی ایم کا صدر نامزد کیا کیوں کہ خان اور باجوہ کمپنی کو منہ دینے کی ہمت کسی بھی لیڈر کے پاس نہیں تھی، ماسوائے مولانا کے، اس موقع پر بھی مولانا استعمال ہوئے ، مشرف دور 2002ء میں بھی مولانا وزارت عظمیٰ کے امید وار سمجھے جا رہے تھے، لیکن ان ی دوست پارٹی نے سپورٹ نہیں کیا، حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی فلور پر جتنے مرضی بیان دئیے جائیں لیکن فیصلے سربراہان اور فیصلہ سازوں نے ہی کرنے ہیں، جس جمہوریت کا مظاہرہ آپ کو نظر آتا ہے اس کے پچھے کئی محاذ، کئی مفادات ہیں، قوم ان پر توجہ نہ دے۔ آپ کے حقوق کی جنگ کسی نے کبھی بھی نہیں لڑی، آپ بجلی، گیس، صحت اور تعلیمی اخراجات سے مارے جائیں گے۔ جہاں مولانا نے مفادات لئے ہیں تو یقینا باقی سیاسی جماعتوں نے کئی سال پروٹوکول اور وزیر اعظم ہائوس میں بھی گزارے ہیں، ایک ہی خاندان کے کئی افراد اسمبلیوں کا حصہ ہیں، سب ایک تھالی کے بینگن ہیں۔





