موجودہ مہنگائی میں عوام کیلئے امید

اداریہ۔۔۔۔۔
موجودہ مہنگائی میں عوام کیلئے امید
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے عالمی معیشت کو ایک بار پھر بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے ۔ توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھائو، تیل اور گیس کی ترسیل میں مشکلات، بحری راستوں کو لاحق خطرات اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات نے دنیا کے بیشتر ممالک کو معاشی دبائو میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی صورتِ حال سے الگ نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر معاشی دبائو پیدا کرتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہری، مزدور، ملازم، کسان، تاجر اور ٹرانسپورٹر تک پہنچتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے عوام پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والی اقدامات خصوصی توجہ اور تحسین کے مستحق ہیں۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ حکومت عوام پر مزید مالی بوجھ منتقل کرنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف امکانات پر کام کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آئل ریفائنریز سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے تاکہ نئے فارمولے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں فی لٹر 15روپے تک کمی ممکن بنائی جاسکے۔ یہ محض معمولی رعایت نہیں بلکہ ایسے وقت میں اہم پیش رفت ہے جب عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو بھی اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ حکومت کا یہ موقف کہ ریفائنریز کے منافع کے ساتھ عوامی مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے، ایک متوازن اور عوام دوست سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مستحق وہ عام شہری ہے جس کی روزمرہ زندگی کا پہیہ پٹرول کی قیمت سے جڑا ہوا ہے۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم ہو، رکشا چلانے والا محنت کش، چھوٹا کاروبار کرنے والا دکان دار یا محدود آمدن میں گھر چلانے والا سربراہِ خاندان، پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی اس کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا بوجھ روکنے اور ریفائنریز کے تعاون سے مزید کمی کی کوشش مثبت قدم ہے۔ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو پاکستان اپنے اختیار سے نہیں روک سکتا، لیکن ان کے اثرات عام شہری تک کم سے کم پہنچانے کے لیے موثر حکمتِ عملی اختیار کرنا حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔ حکومت کی جانب سے فیول سبسڈی اسکیم کا اجرا بھی اسی سلسلے کی ایک نمایاں کڑی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اس اسکیم سے اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہوچکے ہیں اور 27ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کو اسکیم میں شامل کرنا اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ ذرائع آمدورفت بڑی تعداد میں کم اور متوسط آمدن رکھنے والے شہری استعمال کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل پاکستان میں محض سواری نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور روزمرہ ضروریات تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح رکشا ڈرائیور کے لیے ایندھن کی قیمت اس کی روزانہ آمدن سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان طبقات کو سبسڈی فراہم کرنا ان کے گھریلو اخراجات اور معاشی مشکلات کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ تاہم عوامی ریلیف صرف اعلانات سے موثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی فراہمی کا طریقہ بھی آسان، شفاف اور قابلِ اعتماد ہونا ضروری ہے۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کے اشتراک سے فیول سبسڈی اسکیم پر عمل درآمد کے اقدامات کیے ہیں، جو ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ رجسٹریشن، ادائیگی اور تصدیق کے مراحل غیر ضروری پیچیدگیوں سے پاک ہوں۔ کسی شہری کو اپنے جائز حق کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی سفارش یا غیر ضروری دستاویزات کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے۔ شفافیت ہی وہ بنیادی اصول ہے جو کسی بھی عوامی فلاحی منصوبے پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم کی جانب سے ایل پی جی کی ناجائز قیمتوں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر عالمی بحران یا رسد کی مشکلات کو جواز بناکر مقامی سطح پر من مانے نرخ وصول کیے جائیں تو اس کا نقصان براہِ راست عام صارف کو ہوتا ہے۔ حکومت نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مہنگی ایل این جی فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ مارکیٹ کی موثر نگرانی کریں۔ گیس کی فراہمی، قیمتوں پر کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام بھی عوامی ریلیف کا لازمی حصہ ہیں۔ پاکستان کے لیے موجودہ توانائی بحران کا ایک اہم پہلو ایل این جی کی فراہمی بھی ہے۔ خطے میں جنگی حالات اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث درآمدی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ وزیر پٹرولیم نے متبادل راستوں پر کام کرنے اور عوام کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایک ضروری حکمتِ عملی ہے، کیونکہ توانائی کی مسلسل فراہمی صرف گھریلو صارفین ہی نہیں بلکہ صنعت، زراعت، تجارت اور مجموعی قومی پیداوار کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہنگامی اقدامات کے ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی کرے تاکہ پاکستان مستقبل میں عالمی منڈی کے اچانک جھٹکوں سے کم متاثر ہو۔ عالمی بحران کے دوران حکومت، آئل ریفائنریز، درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہوجاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ریفائنریز سے عوامی مفاد میں تعاون کی درخواست اسی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ مشکل وقت میں کسی ایک فریق کو تمام بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنے کے بجائے ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں کاروباری اداروں کا جائز مفاد بھی محفوظ رہے اور عوام کو بھی مناسب ریلیف ملے۔ معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور نجی شعبہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ بلاشبہ حکومت کو مہنگائی، مالیاتی دبائو، درآمدی اخراجات اور محدود معاشی وسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود عوامی ریلیف کے لیے سبسڈی اسکیم، پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ 15روپے فی لٹر کمی کی کوشش، ریفائنریز سے مذاکرات اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے جیسے اقدامات ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کوششوں کو تسلسل دے، مستحق طبقوں کو ترجیح دے اور ریلیف کی فراہمی کے نتائج باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ قومی بحرانوں کا مقابلہ صرف حکومتی فیصلوں سے نہیں بلکہ اجتماعی ذمے داری، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی اعتماد سے کیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی حکومتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات محض وقتی سہولت ثابت نہ ہوں بلکہ ایک مستقل عوام دوست معاشی پالیسی کی بنیاد بنیں، تاکہ مشکل حالات میں سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی تحفظ مل سکے۔
شذرہ۔۔۔
آلودہ فضا اور ہماری اجتماعی غفلت
کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرستوں میں جگہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہماری اجتماعی صحت، طرزِ زندگی اور ماحولیاتی مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ لاہور میں اسموگ کی شدت، فضائی آلودگی کا خطرناک اشاریہ اور شہریوں کو درپیش طبی مسائل اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں صاف ہوا ایک بنیادی ضرورت کے بجائے خواب بنتی جارہی ہے۔ کراچی بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں، جہاں ٹریفک، صنعتی دھویں، تعمیراتی گردوغبار اور کچرا جلانے جیسے عوامل فضا کو مسلسل آلودہ کررہے ہیں۔ فضائی آلودگی اب صرف موسمِ سرما یا لاہور کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پورے ملک کے شہری ماحول کا چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی تحقیق کے مطابق کراچی میں باریک ذرات کی آلودگی میں صنعتی سرگرمیوں کا حصہ قریباً 49فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کا حصہ 33فیصد ہے۔ لاہور میں بھی گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والا دھواں آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلے کا حل صرف وقتی پابندیوں یا چند روزہ مہمات میں نہیں بلکہ مستقل اور مربوط اقدامات میں پوشیدہ ہے۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور سانس و دل کے امراض میں مبتلا افراد کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آلودہ ہوا میں سانس لینا محض وقتی تکلیف نہیں بلکہ طویل المدتی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ کھانسی، آنکھوں میں جلن، سانس لینے میں دشواری اور پھیپھڑوں کے امراض اس کے نمایاں اثرات ہیں۔ اگر ہم نے آج اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔ تاہم اس مسئلے کی تمام ذمے داری حکومت یا متعلقہ اداروں پر ڈال کر شہری اپنے کردار سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ فضائی آلودگی کے خاتمے میں ہر شہری اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ غیر ضروری طور پر ذاتی گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرنے کے بجائے مشترکہ سواری اختیار کرنا، گاڑیوں کی بروقت مرمت، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی، کچرا اور پلاسٹک نہ جلانا اور گھروں، گلیوں اور محلوں میں درخت لگانا ایسے اقدامات ہیں جن سے مجموعی طور پر مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ شہریوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سڑکوں پر کوڑا پھینکنا، تعمیراتی ملبہ کھلا چھوڑنا اور درختوں کی کٹائی میں خاموش تماشائی بننا بھی ماحولیاتی تباہی کو بڑھاتا ہے۔ حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ صنعتی یونٹس کے اخراج کی باقاعدہ نگرانی کریں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں، صاف ایندھن کے استعمال کو فروغ دیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا ایسا موثر نظام قائم کریں جس سے شہریوں کا نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہو۔ تعمیراتی منصوبوں میں گردو غبار روکنے کے انتظامات لازمی بنائے جائیں اور شہر بھر میں شجرکاری کو محض تصویری مہم کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ فضائی معیار کی نگرانی کے مستند مراکز بھی قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بروقت درست معلومات فراہم ہوسکیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صاف ہوا کسی ایک طبقے، علاقے یا شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ کراچی ہو یا لاہور، دونوں شہروں کے شہریوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ماحول کی حفاظت صرف حکومتی حکم سے ممکن نہیں، اس کے لیے انفرادی شعور اور اجتماعی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو بھی ماحولیاتی آگاہی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم فضائی آلودگی کو محض خبروں، اعداد و شمار اور موسمی انتباہات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی روزمرہ ترجیحات کا حصہ بنائیں۔ ہر شہری اگر ایک درخت لگانے، کچرا نہ جلانے، گاڑی کا دھواں کم کرنے اور دوسروں کو ماحول کی حفاظت کی ترغیب دینے کا عزم کر لے تو تبدیلی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے صاف فضا، صحت مند شہر اور محفوظ مستقبل چھوڑنا ہے۔ یہ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، ہم سب کی ہے۔





