تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

کاروباری اصلاحات سے معاش ترقی کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے،سینیٹر محمد اورنگزیب

برآمدات میں اضافے، ایس ایم ایز کی فنانسنگ اور کاروباری اصلاحات سے معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے: وفاقی وزیر خزانہ

لاہور، 3 نومبر۔ وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ، نجی شعبے کی مو¿ثر شمولیت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔حکومت پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور برآمدات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ برآمدات کو ملکی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ضروری ہیں جو پاکستانی برآمد کنندگان کو علاقائی اور عالمی منڈیوں میں بہتر مقابلے کے قابل بنا سکیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایس ایم ایز سمیت کاروباری شعبے کے مسائل کا ازالہ ضروری ہے تاکہ حکومتی پالیسیاں سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے ایس ایم ایز کے فروغ، مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے حوالے سے لاہور چیمبر کی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار دوست ماحول، پالیسیوں میں تسلسل و پیش بینی، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے مسلسل مشاورت کی جائے تاکہ کاروباری پالیسیوں میں زمینی حقائق اور تاجروں و صنعت کاروں کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھا جا سکے۔علی حسام اصغر نے ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، کاروباری توسیع میں معاونت اور جدید خطوط پر کاروبار کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں وسعت دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور معاشی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کرنے کے لیے عملی اور ہدفی اقدامات کی ضرورت ہے۔ٹیکس اور ضابطہ جاتی پالیسیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کا مقصد پیداواری معاشی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اقدامات کے کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کاروباری مسائل کے حل، ایس ایم ایز کے فروغ اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے چیمبرز آف کامرس، صنعتی نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی مسابقتی معیشت کی تشکیل کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مو¿ثر اشتراک ناگزیر ہے۔ملاقات میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وفاقی سیکرٹری خزانہ اور ٹیکس پالیسی آفس، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نمائندے بھی شامل تھے۔

صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو یادگاری شیلڈ پیش کررہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی ساتھ موجود ہیں۔

جواب دیں

Back to top button