لاہورجم خانہ: بیوروکریسی کی آخری پناہ گاہ

لاہور جم خانہ: بیوروکریسی کی آخری پناہ گاہ
تحریر : امتیاز احمد شاد
لاہور جم خانہ کے خلاف ان دنوں میڈیا میں جو مہم جاری ہے، اس کے کئی پہلو قابلِ غور ہیں۔ ایک طرف پنجاب حکومت اس ادارے کے معاملات پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف اس کے گرد اشرافیائی مراعات، سرکاری وسائل کے استعمال اور بااثر طبقوں کی اجارہ داری سے متعلق سوالات گردش کر رہے ہیں۔ لیکن جم خانہ کی کہانی صرف ایک کلب، اس کے سبزہ زاروں یا گالف کے میدانوں تک محدود نہیں۔ یہ اس ذہنیت کی کہانی بھی ہے جس نے برسوں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر حکمرانی کی، عوام کو دفتروں کے چکر لگوائے، اختیارات کو اپنی طاقت سمجھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ماضی کے رعب اور تعلقات سے دست بردار ہونا گوارا نہیں کیا۔
جم خانہ کا ایک ایسا رخ بھی ہے جس پر شاید کم بات ہوتی ہے۔ یہاں بہت سے ایسے بزرگ دکھائی دیتے ہیں جن کے بچے صبح انہیں کلب چھوڑ جاتے ہیں اور شام کو ڈرائیور واپس لے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ایک اشارے پر فائلیں حرکت میں آتی تھیں، تقرریاں اور تبادلے ہوتے تھے، محکموں کی ترجیحات بدل جاتی تھیں اور ماتحت افسران ان کے سامنے مودب کھڑے رہتے تھے۔ وقت مگر کسی کا تابع نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ان بزرگوں کی محفلوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جم خانہ ایک کلب کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ طاقتور طبقے کی سماجی پناہ گاہ بھی ہے۔ یہاں ماضی کے تجربات دہرائے جاتے ہیں، پرانے تعلقات تازہ ہوتے ہیں اور ان دنوں کی یادیں زیرِ بحث آتی ہیں جب ایک افسر کے دستخط کسی شہری کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے تھے۔
پاکستان کی بیوروکریسی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ایک حصے نے سرکاری ملازمت کو عوامی خدمت کے بجائے اختیار، مرتبے اور مراعات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ عام شہری کسی سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے جاتا ہے تو اسے کبھی فائل کی کمی، کبھی متعلقہ افسر کی عدم موجودگی اور کبھی کسی نئے اعتراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک معمولی دستخط کے لیے کئی دن انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بااثر شخص کا کام بسا اوقات ایک فون کال پر ہو جاتا ہے۔ یہ فرق صرف انتظامی نااہلی نہیں، ریاست اور شہری کے درمیان قائم اس غیر مساوی تعلق کی علامت ہے جس میں افسر خود کو خادم کے بجائے حاکم سمجھنے لگتا ہے۔
یہی ذہنیت سرکاری وسائل اور مراعات کے معاملے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اعلیٰ افسران کے لیے سرکاری رہائش، گاڑیاں، ملازمین، علاج اور دوسری سہولتیں قواعد کے مطابق فراہم کی جا سکتی ہیں، لیکن اصل سوال ان کے جواز، تناسب اور عوامی فائدے کا ہے۔ کیا ان مراعات کے مقابلے میں کارکردگی بھی اسی معیار کی ہے؟ کیا عام شہری کو بنیادی سرکاری خدمات میسر ہیں؟ کیا عوام کے ٹیکس سے چلنے والے ادارے شہریوں کے مسائل حل کر رہے ہیں؟ اور کیا سرکاری منصب پر فائز رہنے والے افراد اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے اسی قدر جواب دہ ہیں جس قدر عام ملازم اپنے معمولی فرائض کیلئے ہوتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب تسلی بخش نہیں تو پھر مراعات کا پورا ڈھانچا نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔
جم خانہ کے معاملے میں بھی اصل ضرورت جذباتی نعروں کے بجائے شفاف تحقیقات کی ہے۔ اگر کلب کو سرکاری زمین رعایتی شرائط پر دی گئی ہے تو لیز کے معاہدے اور ان کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ اگر زمین کے استعمال، مالی معاملات یا دیگر مراعات میں کسی خلاف ورزی کا شبہ ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ سرکاری وسائل کے استعمال کا حساب بھی اسی اصول کے تحت ہونا چاہیے جس کے تحت کسی عام شہری سے قانون کی پابندی کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ نہ کسی بااثر طبقے کو اس کے تعلقات کی بنیاد پر استثنا ملنا چاہیے اور نہ کسی ادارے کو محض اس لیے نشانہ بنانا چاہیے کہ وہاں طاقتور لوگ آتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جم خانہ کے معاملات پر سختی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ کارروائی قانون کے مطابق، شواہد کی بنیاد پر اور مستقل اصولوں کے تحت کی جاتی ہے یا نہیں۔ اگر حکومت واقعی اشرافیائی مراعات کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے صرف ایک کلب تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ سرکاری زمینوں، رہائش گاہوں، گاڑیوں، غیر ضروری اخراجات اور ریٹائرمنٹ کے بعد حاصل ہونے والی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں انتظامی طاقت کا اثر بعض اوقات افسر کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ پرانے تعلقات، سابقہ ماتحتوں سے روابط اور مختلف اداروں میں موجود اثر و رسوخ بعض افراد کو غیر رسمی طاقت فراہم کرتے ہیں۔ اس طاقت کا استعمال لازماً غیر قانونی نہیں، لیکن اگر اس کے ذریعے سرکاری فیصلوں پر ناجائز اثر ڈالا جائے، میرٹ کو نقصان پہنچایا جائے یا عوامی مفاد کے خلاف کام کروایا جائے تو اس کی جانچ ضروری ہے۔ کسی بھی سابق افسر کے خلاف الزام لگانے کے لیے شواہد درکار ہیں، لیکن کسی سابق عہدے کی بنیاد پر احتساب سے استثنیٰ دینا بھی اتنا ہی غلط ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی بیوروکریسی اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کیلئے تیار ہے؟ جم خانہ کے سبزہ زاروں میں بیٹھے بزرگ ہمیں وقت کی بے رحمی کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ عہدے ختم ہو جاتے ہیں، اختیارات چھن جاتے ہیں اور جسمانی قوت بھی ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ جو لوگ کبھی دوسروں کیلئے راستے بند یا کھول سکتے تھے، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انہیں اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ لاہور جم خانہ کا اصل مسئلہ اس کی عمارت یا اس کے سبزہ زار نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جس نے سرکاری اختیار کو ذاتی جاگیر، عوام کو محکوم اور ریاست کو چند طاقتور طبقوں کی ملکیت سمجھ لیا۔ یہ احتساب صرف جم خانہ کے دروازے پر ختم نہیں ہونا چاہیے؛ اسے ان تمام اداروں اور ایوانوں تک پہنچنا چاہیے جہاں عوام کے نام پر اختیار حاصل کرکے عوام ہی کو جواب دہی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ورنہ شور تو جم خانہ کیخلاف ہوگا، مگر بیوروکریسی کی وہ پرانی سلطنت محفوظ رہے گی جس میں افسر ریٹائر ہوتا ہے، اختیار نہیں۔







