CM RizwanColumn

مڈٹرم الیکشن، جنگ۔۔۔ شکریہ نواز شریف

جگائے گا کون؟
مڈٹرم الیکشن، جنگ۔۔۔ شکریہ نواز شریف
تحریر: سی ایم رضوان
اسرائیلی حکمران نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے شر سے اس وقت ساری دنیا خطرات سے دوچار ہے اور دنیا کا ہر شہری دل میں اور با آواز بلند ان دونوں بلائوں سے گلو خلاصی کی دعائیں کر رہا ہے۔ ان حالات میں حالیہ امریکی صدارت کے مڈٹرم انتخابات ایک موہوم سی امید کی حیثیت رکھتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس الیکشن میں ٹرمپ کی ذلت آمیز شکست کی خواہاں ہے لیکن ہو گا تو امریکہ میں وہی جو پینٹاگون چاہے گا۔ تاہم سیاسی اور آئینی نقطہ نظر سے، امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کا ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار پر اثر کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ مڈٹرم انتخابات صدارتی انتخاب نہیں ہوتے۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت جنوری 2029ء میں ہی ختم ہو گی۔ الیکشن کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو ٹرمپ صدارت کے عہدے سی فارغ نہیں ہوں گے۔ بالفرض اگر ڈیمو کریٹ پارٹی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ٹرمپ کے ’’ لنگڑا بطخ‘‘ صدر بننے کا خدشہ ہو گا۔ وہ اندرونی پالیسیوں یا بجٹ میں اپنی مرضی کے قوانین پاس نہیں کروا سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ ایسی صورت میں امریکی آئین کے تحت جنگ کا بجٹ منظور کرنا کانگریس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اکثریت میں آتے ہیں، تو وہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف فوری عسکری کارروائی یا جنگ کے بجٹ پر سخت ترین رکاوٹیں لگا سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی اکثریت کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف سرکاری تحقیقات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ٹرمپ کو اپنی خارجہ اور اندرونی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ وہ معاشی ٹیرف، یکطرفہ فیصلے اور مشرقِ وسطیٰ میں جارحانہ عسکری یا سفارتی پالیسیوں کو بغیر کسی بڑی آئینی رکاوٹ کے نافذ کر سکیں گے لیکن جیسا کہ امید ہے کہ اگر مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کے مخالفین کی فتح ہوتی ہے تو وہ صدارت سے تو نہیں ہٹیں گے لیکن ان کا ہاتھ ضرور باندھ دیا جائے گا جس سے جنگ اور بڑے غیر متوقع فیصلوں کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ یہ الیکشن بچا جاتے ہیں تو ان کی طاقت اور پالیسیوں پر کسی قسم کی داخلی روک تھام نہیں رہے گی۔ یہاں ٹرمپ کی افتاد طبع کو بھی نہیں بھولنا چاہئے اور یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ مڈٹرم انتخابات میں شکست کے باوجود بھی اپنے وہ اختیارات استعمال کر سکتے ہیں جن کی امریکی آئین انہیں اجازت نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ وہ امریکہ میں مارشل لاء ٹائپ حکومت بھی نافذ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا وہ ہارنے یا جیتنے دونوں صورتوں میں ہی دنیا کے لئے شدید خطرات کا باعث ہیں اور 2029ء تک رہیں گے۔
عالمی امن کو لاحق شدید خطرات کے اس دور میں یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستانی اپنی دفاعی صلاحیت اور خطے کے مجموعی امن و امان کے حوالے سے محفوظ ملک ہے۔ اس کی ایٹمی صلاحیت نے خطے میں طاقت کا توازنِ قائم کیا ہے۔ اس توازن کی وجہ سے کوئی بھی متخاصم ملک یا اتحاد پاکستان کے خلاف براہِ راست یا کھلی جارحیت کا سوچنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ پاکستان کے پاس نہ صرف ایٹمی صلاحیت ہے بلکہ اس کے پاس دور تک اور باکفایت طریقے سے نشانہ لگانے کے لئے جدید میزائل سسٹمز ( مثلاً شاہین، غوری، ابابیل) اور مضبوط پدافندی سسٹمز بھی موجود ہیں، جو کسی بھی اچانک حملے کے خطرے کو بے اثر کرتے ہیں۔ پاکستانی افواج روایتی جنگی توازن کے علاوہ طویل عرصہ سے غیر روایتی اور گوریلا جنگی چیلنجز سے نبرد آزما رہی ہیں، جس کی وجہ سے فورسز کا ردِعمل اور آپریشنل تیاری انتہائی اعلیٰ معیار کی ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت خطے میں کسی ایک قوت کے مطلق العنان تسلط کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور آئندہ بھی رہے گی اس توازن نے جنوبی ایشیا میں 1977ء کے بعد سے اب تک کسی بڑی ہمہ گیر جنگ کو روکے رکھا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی ایٹمی اور دفاعی طاقت کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور پوری مسلم دنیا کے حوالے سے بھی ایک اہم دفاعی فیکٹر سمجھا جاتا ہے، جو کسی بھی یکطرفہ جارحیت کے خلاف ایک نفسیاتی اور عسکری توازن کا کام دیتی ہے اور ایک ایٹمی قوت ہونے کا مقام پاکستان کو عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک باوقار آواز فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت پاکستان خطے کے تنازعات کے حل کے لئے اعتماد کے ساتھ سفارتی کوششیں کر سکتا ہے جو کہ موجودہ سول و عسکری قیادتیں بخوبی سر انجام دے رہی ہیں۔ یہاں مئی 1998ء کے دوران ایٹمی دھماکوں کا تاریخی فیصلہ اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کا ایک تاریخی کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ 11اور 13مئی 1998ء کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر ناقابلِ برداشت عالمی اور معاشی دبا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تمام تر بین الاقوامی ترغیبات اور اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے 28مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر چھ ایٹمی دھماکے کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ اس تاریخی موقع پر سیاسی قیادت کی جانب سے فیصلے پر قائم رہنا یقیناً ایک بڑا سنگِ میل تھا اور اس پر اس وقت کی قیادت ( بشمول نواز شریف) کے جرات مندانہ اقدام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے دہائیوں کی قومی محنت شامل تھی جس کی سائنسی بنیاد ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کی ٹیموں نے نامساعد حالات میں رکھی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تسلیم کہ اس پروگرام کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہوا اور بعد میں آنے والی تمام فوجی و سول حکومتوں نے اس کی سرپرستی کی اور اسے تحفظ دیا۔ اس پر طرہ یہ کہ بہادر پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے اس حساس اثاثے کو دشمن نظروں سے ہمیشہ محفوظ رکھا۔ یہی وجہ باعث اطمینان ہے کہ پاکستان کا ایٹمی اور مضبوط دفاعی نظام آج عالمی اور علاقائی بے یقینی کے دور میں ملک کی خود مختاری کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ یاد رہے کہ 11اور 13مئی 1998ء کو بھارت نے پوکھران کے مقام پر پانچ ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد خطے میں دفاعی اور نفسیاتی توازن شدید متاثر ہوا۔ بھارتی دھماکوں کے فوری بعد بھارتی سیاسی، عسکری قیادت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے اور آزاد کشمیر سے متعلق جارحانہ اشارے دیے گئے۔ تب اگر پاکستان جواب نہ دیتا تو خطے میں روایتی عسکری توازن کے تحت پاکستان کے وجود کو مستقل خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، جس نے فوری ردِعمل کو لازمی بنا دیا۔ اس وقت پاکستان پر دھماکے نہ کرنے کے لئے تاریخی سطح کا عالمی دبا بھی تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو فون کر کے اربوں ڈالر کی معاشی و عسکری امداد کی پیشکش کی اور دھماکوں سے باز رہنے کا کہا۔ جاپان، امریکہ اور یورپی اتحاد کی طرف سے سخت اقتصادی پابندیوں، قرضوں کی معطلی اور عالمی مالیاتی اداروں ( آئی ایم ایف، ورلڈ بینک) کی فنڈنگ بند ہونے کی واضح تنبیہ کی گئی۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقوں نے پاکستان کو باور کرایا کہ پہل بھارت نے کی ہے، لہٰذا پاکستان صبر کر کے عالمی ہمدردیاں اور معاشی فائدے حاصل کرے۔ اس تمام تر عالمی دبا، لالچ اور اقتصادی نتائج کے خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی کابینہ نے قومی خودمختاری کو ترجیح دیتے ہوئے دھماکوں کا حتمی فیصلہ کیا۔ پاک فوج، ڈائریکٹوریٹ فار ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ، پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور کے آر ایل کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیموں نے چاغی ( بلوچستان) کی راس کوہ پہاڑیوں میں تیاریوں کو مکمل کیا۔ افواجِ پاکستان نے کسی بھی ممکنہ سیکنڈ اسٹرائیک یا پیشگی بھارتی یا اسرائیلی حملے کو ناکام بنانے کے لئے ایئر ڈائریکشن اور فضائی سرحدوں کو الرٹ پر رکھا اور پاکستان نے 28مئی کو پانچ اور 30مئی کو ایک مزید تجربہ کر کے بھارت کے جواب میں کل چھ ایٹمی دھماکے کیے اور دنیا پر اپنی کم از کم موثر بازرست کی صلاحیت ثابت کر دی۔ ایٹمی قوت کے باضابطہ اظہار کے بعد جنوبی ایشیا میں براہِ راست ہمہ گیر جنگ کے امکانات ختم ہو گئے اور ’’ متبادلے کا توازن‘‘ قائم ہوا ( مثلاً 1999ء کی کارگل جنگ اور 2001ء کی سرحدی کشیدگی کے باوجود بڑی جنگ نہیں ہوئی)۔ اس بڑے فیصلے کے بعد پاکستان پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں، جن کا پاکستان نے قومی یک جہتی اور تدبر سے مقابلہ کیا۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں باضابطہ ایٹمی ملک بن کر ابھرا، جس نے پاکستان کو عالمی سفارت کاری میں ناقابلِ تسخیر مقام دیا۔ یہاں آج کے دور کے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ضروری ہے کہ ان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے ٹرمپ اور نیتن یاہو لاکھ شر انگیزی کے باوجود پاکستان کی سفارتکاری اور اس کی عسکری سٹریٹجی کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ اس سے مرعوب ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ریاست کی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کا امتیاز یا استثنیٰ نہیں برتا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی پی کے سہیل آفریدی کو واضح طور پر دہشت گردوں کا سہولت دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ جو بھی عناصر خواہ ان کا تعلق کسی سیاسی عہدے سے ہو یا انتظامی مرتبے سے دہشت گردوں، ان کے نیٹ ورک یا ان کی سیاسی و مالی معاونت میں ملوث پائے جائیں گے تو ان کے خلاف یکساں، سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پاک فوج نے دہشت گرد تنظیموں یا ان کے حمایتیوں کو سیاسی یا انتظامی تحفظ دینے کی کوششوں کو قومی سلامتی پر سمجھوتہ قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ بار بار کیا ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لئے دہشت گردوں اور ان کی مددگاروں کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کے آپریشنز جاری رہیں گے۔ فوج کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور شہداء کی قربانیوں پر کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کا محاسبہ بلا تفریق قانون و آئین کے مطابق کیا جائے گا۔ عسکری قیادت کا یہ اقدام اور بیانیہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ عسکری قیادت ملکی جیو پولیٹیکل صورتحال، جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی استحکام کے حوالے سے یکسو اور ہمہ وقت حساس ہے۔

جواب دیں

Back to top button