ColumnImtiaz Ahmad Shad

خاموش بحران

خاموش بحران
امتیاز احمد شاد
پاکستان میں بیماری اب محض انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی، سماجی اور معاشی بحران بنتی جا رہی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کے مطابق 3کروڑ 24لاکھ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، معاشی عدم تحفظ، خاندانی تنازعات اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال ذہنی دبائو اور ڈپریشن میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی طبی مسئلے کے بجائے کمزوری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث لوگ علاج سے ہچکچاتے ہیں۔ حالانکہ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت جتنی اہم ہے اور اسے نظرانداز کرنا ایک بڑے معاشرتی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ہے، جس میں ایک کروڑ 29لاکھ افراد مبتلا ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماریاں جگر کے سرطان سمیت سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی طرح 4لاکھ 17ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ بدقسمتی سے آگاہی کی کمی اور معاشرتی تعصب کے باعث متاثرہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایچ آئی وی عام میل جول، ہاتھ ملانے یا ساتھ کھانا کھانے سے نہیں پھیلتا۔ ایسے افراد کو نفرت اور امتیازی سلوک کے بجائے علاج، تحفظ اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔
اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025ء سے جون 2026ء تک 3ہزار 900بچے اس وائرس سے متاثرہ رجسٹر ہوئے، جن میں زیادہ تعداد سندھ اور پنجاب کی ہے۔ یہ صورتحال ہمارے طبی نظام، حفاظتی انتظامات اور بچوں کے بنیادی حقوق پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ ضروری ہے کہ ہر کیس کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں اور بچوں کو محفوظ خون، جراثیم سے پاک طبی آلات اور معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ایک اہم مسئلہ علاج کی سہولتوں کی کمی بھی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کے مطابق ملک بھر میں صرف 1050رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات موجود ہیں، یعنی قریباً 2لاکھ 45ہزار افراد کے لیے ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ذہنی صحت کے شعبے میں ماہرین کی تعداد بڑھانے، ہسپتالوں اور مشاورتی مراکز کو فعال بنانے اور علاج کی سہولتیں عام کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پاکستان میں صحت کا نظام زیادہ تر بیماری کے بعد علاج تک محدود ہے، جبکہ ضرورت احتیاط، بروقت تشخیص اور بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینے کی ہے۔ مہنگا علاج، ادویات کی بڑھتی قیمتیں اور سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی غریب شہریوں کو مزید مشکلات سے دوچار کرتی ہے۔ یوں صحت کا بحران محض طبی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ سے بھی جڑ جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بیماریوں کے پھیلا میں حکومتی کمزوریوں کے ساتھ عوامی رویے اور معاشرتی بے احتیاطیاں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ غیر مستند معالجین سے علاج، ایک ہی سرنج کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ بلڈ ٹرانسفیوژن، غیر معیاری لیبارٹریوں سے ٹیسٹ اور طبی عملے کی جانب سے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ایسے معاملات ہیں جن پر کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ شہریوں کو محفوظ علاج کی ضمانت فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری صرف وزارتِ صحت یا ہسپتالوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی، مذہبی و سماجی رہنماں اور نجی شعبے کو ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ بیمار ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بیماریوں سے بچا کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم صحت کو قومی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں یا اسے صرف انتخابی نعروں اور حکومتی اعلانات کا موضوع بنائے رکھیں گے؟ جس ملک کے کروڑوں شہری ذہنی امراض، ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسے مسائل سے دوچار ہوں، وہاں ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کے خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔ صحت مند شہری ہی تعلیم حاصل کر سکتا ہے، روزگار کما سکتا ہے، خاندان کی کفالت کر سکتا ہے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی قوم کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی سڑکوں، عمارتوں، موٹرویز اور بلند و بالا منصوبوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کا عام شہری کتنا صحت مند، محفوظ اور مطمئن ہے۔ اگر ایک باپ اپنے بچوں کا علاج نہیں کروا سکتا، ایک نوجوان ذہنی دبا کے باعث زندگی سے مایوس ہے، ایک ماں بیماری کے خوف میں مبتلا ہے اور ایک بچہ غیر محفوظ طبی نظام کی قیمت اپنی صحت سے ادا کر رہا ہے تو ہمیں اپنی ترقی کے دعوں پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے منصوبے بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی زندگی کتنی محفوظ بناتی ہے۔ ہمیں بیماریوں کے اعداد و شمار پر افسوس کرنے کے بجائے ان میں کمی لانے کا عزم کرنا ہوگا۔ ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ علاج کو سستا، تشخیص کو آسان اور احتیاط کو قومی عادت بنانا ہوگا۔ ذہنی صحت کو مذاق نہیں، انسانی ضرورت سمجھنا ہوگا۔ ایچ آئی وی کے مریضوں کو نفرت نہیں، تحفظ دینا ہوگا اور بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے طبی نظام کو جواب دہ بنانا ہوگا۔
آج پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات، سیاسی استحکام اور انتظامی بہتری کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ بیمار معاشرے میں ترقی کے خواب تو دیکھے جا سکتے ہیں، مگر انہیں حقیقت میں بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ صحت کو حکومتی ترجیحات میں اولین مقام دیا جائے۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب بیماریوں کے اعداد و شمار ہمارے سامنے تھے تو ہم نے اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے کیا کیا؟۔

جواب دیں

Back to top button