یتیم بچوں پر تو رحم کرو

یتیم بچوں پر تو رحم کرو
غلام مصطفیٰ جمالی
ملتان میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسا بچہ جس کے سر پر باپ کا سایہ نہیں تھا، جس کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب تھے، جو زندگی کی مشکلات سے لڑتے ہوئے کسی سہارے کی تلاش میں تھا، اسے مبینہ طور پر گاڑی کی ٹکر مار کر موت کے حوالے کر دیا گیا۔ پندرہ سالہ وسیم عباس محض ایک یتیم بچہ نہیں تھا، بلکہ وہ ان ہزاروں معصوم بچوں کی نمائندگی کرتا تھا جو اس معاشرے میں اپنی بقا، تعلیم اور باعزت زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ان یتیم بچوں کا قصور کیا ہے؟ کیا باپ کی شفقت سے محروم ہونا ان کا جرم ہے؟ کیا غربت میں پیدا ہونا ان کی غلطی ہے؟ کیا اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کوئی ہنر سیکھنے کی کوشش کرنا ان کا قصور ہے؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسے بے سہارا بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
وسیم عباس کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور اسے بجلی کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کام سے واپسی کے دوران گاڑی سے ٹکر مارنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے تمام حقائق، ذمہ دار افراد اور متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین شفاف تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک بے سہارا بچہ بھی محفوظ نہیں تو اس کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داری کیسے پوری کر رہے ہیں؟
جب یتیم بچوں کو کسی ادارے کے حوالے کیا جاتا ہے تو ان کے خاندان اور معاشرے کو امید ہوتی ہے کہ وہاں انہیں تعلیم، خوراک، رہائش، محبت اور تحفظ ملے گا۔ یتیم خانے محض رہنے کی جگہیں نہیں ہوتے بلکہ ان بچوں کے مستقبل کی حفاظت کرنے والے مراکز ہونے چاہئیں۔ اگر کسی بچے کو ہنر سکھانے کے نام پر ایسے ماحول میں بھیجا جائے جہاں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو اس فیصلے اور اس کے پس منظر کی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اکثر بچوں کو ہنر سکھانے اور خودمختار بنانے کی بات کی جاتی ہے، جو اپنی جگہ ایک مثبت سوچ ہے۔ لیکن ہنر سکھانے اور کم عمر بچے سے کام لینے میں فرق ہے۔ تربیت کا مقصد بچے کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے ایسی صورت حال میں چھوڑ دینا جہاں اس کی عزت، سلامتی اور زندگی خطرے میں پڑ جائے۔ بچوں کی تعلیم، عمر اور قانونی حقوق کو نظرانداز کرکے کسی بھی عمل کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
وسیم عباس کا واقعہ صرف ایک خاندان یا ایک یتیم خانے کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے رویوں پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک بے سہارا بچے کو انصاف، تحفظ اور انسانی عزت حاصل کرنے کے لیے بھی کسی بڑے سانحے کا شکار ہونا پڑے تو ہمیں اپنے نظام کی خامیوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین کا موجود ہونا کافی نہیں، ان پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ یتیم خانوں کی باقاعدہ نگرانی ہونی چاہیے۔ وہاں رہنے والے بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک، رہائش اور تربیت کا جائزہ لیا جائے۔ بچوں کو کسی دوسرے شخص یا ادارے کے حوالے کرنے سے پہلے مناسب جانچ پڑتال اور اجازت کا موثر طریقہ اختیار کیا جائے۔ اگر کوئی بچہ شکایت کرے، کام کرنے سے انکار کرے یا خود کو خطرے میں محسوس کرے تو اس کی بات سننے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کا قابلِ اعتماد نظام موجود ہونا چاہیے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ان بچوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ کون کرے گا؟ ایک بالغ شخص کے پاس اپنے دفاع کے کئی راستے ہوتے ہیں، لیکن ایک کم عمر بچہ اکثر اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا۔ وہ خوف، مجبوری اور بے بسی کے باعث خاموش رہتا ہے۔ اس لیے بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں کو ان کی خاموشی کو رضامندی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حکومت، متعلقہ محکموں اور سماجی بہبود کے اداروں کو چاہیے کہ وہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہر یتیم خانے کے انتظامات، بچوں کی تعلیم، تربیت اور انہیں بیرونی افراد کے حوالے کرنے کے معاملات کی جانچ ہونی چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی انتظامیہ یا کسی دوسرے شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی کسی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے تحقیقات اور قانونی کارروائی کو مکمل ہونے کا موقع دیا جائے۔
ملتان کے واقعے میں مرکزی ملزم کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے کی اطلاعات کے باوجود کئی سوال جواب طلب ہیں۔ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آنی چاہیے۔ پولیس مقابلے کے بارے میں بھی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ قانون کی عمل داری پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ انصاف کا مقصد صرف کسی ایک شخص کی موت کے بعد معاملہ ختم کرنا نہیں، بلکہ حقائق معلوم کرنا، قانونی ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یتیم بچوں پر رحم کرنا صرف جذباتی نعرہ لگانے کا نام نہیں۔ رحم کا اصل مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں انہیں کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ انہیں تعلیم دی جائے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے اور انہیں اپنی زندگی کے بارے میں محفوظ فیصلے کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
وسیم عباس کی زندگی واپس نہیں آسکتی، لیکن اس کی موت سے سبق ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی یتیم خانوں کی نگرانی، بچوں کے تحفظ اور قانون پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں کسی دوسرے معصوم بچے کے ساتھ ایسا سانحہ پیش آنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ملک کے حکمرانوں، انتظامیہ، سماجی بہبود کے اداروں اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو سوچنا چاہیے کہ یتیم بچے بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کی زندگیاں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی کسی امیر اور بااثر خاندان کے بچوں کی۔ ان کی آنکھوں میں بھی خواب ہیں، ان کے دلوں میں بھی خواہشات ہیں اور انہیں بھی ایک محفوظ مستقبل کا حق حاصل ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کے یتیم بچوں پر تو رحم کرو! انہیں لاوارث سمجھ کر حالات کے رحم و کرم پر مت چھوڑو۔ ان کی حفاظت کرو، ان کی تعلیم کا بندوبست کرو اور انہیں ایسا معاشرہ دو جہاں کوئی طاقتور شخص ان کی بے بسی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ وسیم عباس کا واقعہ ہم سب کے لیے ایک دردناک تنبیہ ہے کہ اگر بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح نہ دی گئی تو انسانیت کے دعوے کرنے کے باوجود ہم اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے منہ موڑتے رہیں گے۔





