Column

سوشل میڈیا اور بچے

سوشل میڈیا اور بچے
تحریر: رفیع صحرائی
کبھی بچے شام ہوتے ہی گلی، میدان یا گھر کے صحن میں کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں کرکٹ کا بلا ہوتا، کوئی پتنگ اڑا رہا ہوتا، کوئی سائیکل چلا رہا ہوتا اور کوئی کتاب لیے بیٹھا ہوتا۔ آج منظر بدل گیا ہے۔ بچے کھیل کے میدان سے زیادہ موبائل اسکرین پر نظر آتے ہیں۔ ان کی انگلیاں تیزی سے اسکرول کرتی ہیں، آنکھیں مسلسل اسکرین پر جمی رہتی ہیں اور ذہن ایک کے بعد دوسرے مختصر ویڈیو کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔
یہ تبدیلی محض ایک نئی عادت نہیں، ایک بڑا سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا متعلقہ ادارے سو رہے ہیں؟ عدالت کی طرف سے یہ ریمارکس دراصل ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جسے ہم والدین، اساتذہ اور معاشرہ مجموعی طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے 16سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قانون سازی کی ہے۔ دیگر ممالک میں بھی عمر کی تصدیق، والدین کی اجازت اور بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف ضوابط زیرِ غور یا نافذ ہیں۔ اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بچے ابھی بالغ نہیں ہوتے، ان کا ذہن تشکیل کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ یہی بات ہمیں پاکستان میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی شیطان نہیں۔ اس کے بے شمار مثبت استعمال ہیں۔ یوٹیوب سے بچہ ریاضی، سائنس، زبان اور کمپیوٹر سیکھ سکتا ہے۔ دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کر سکتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کا بے قابو اور بے مقصد استعمال ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچہ کتاب کے بجائے مسلسل شارٹ ویڈیوز دیکھنے لگے، کھیل کے بجائے موبائل گیمز میں گھنٹوں مصروف رہے، والدین سے بات کرنے کے بجائے اجنبی لوگوں سے آن لائن رابطے میں رہے اور حقیقی زندگی کے بجائے ایک مصنوعی ڈیجیٹل دنیا کو اپنا اصل ماحول سمجھنے لگے۔
بچے کے ذہن کو سب سے زیادہ ضرورت توجہ، مشاہدے، سوال کرنے، سوچنے اور تخلیق کرنے کی ہوتی ہے۔ اگر کم عمری میں اس کی توجہ مسلسل چند سیکنڈ کی ویڈیوز، فوری تفریح اور مسلسل نوٹیفکیشنز کے درمیان بٹتی رہے تو اس کے ارتکاز اور مطالعے کی عادت متاثر ہو سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر ہر شخص دوست نہیں ہوتا۔ بچوں کو سائبر بُلنگ، ہراسانی، جعلی شناختوں، نامناسب مواد، آن لائن فراڈ اور ایسے افراد سے خطرہ ہو سکتا ہے جو معصوم بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ والدین کا یہ فرض نہیں کہ وہ صرف بچے کو موبائل خرید کر دیں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ بچہ اس موبائل پر کیا دیکھ رہا ہے، کس سے بات کر رہا ہے اور کیوں دیکھ رہا ہے۔ یہاں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر والدین بچے کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل اس کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ بچہ روتا ہے تو موبائل، کھانا نہیں کھاتا تو موبائل، ضد کرتا ہے تو موبائل اور والدین خود مصروف ہوں تو بھی موبائل۔ یوں وہ آلہ جو کبھی ضرورت کے لیے خریدا گیا تھا، بچے کا مستقل ساتھی بن جاتا ہے۔
ہمیں اس معمول کو بدلنا ہوگا۔ بچوں کے لیے گھر میں ڈیجیٹل اصول بنائے جائیں۔ کھانے کے وقت موبائل نہ ہو، سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال محدود ہو، پڑھائی کے دوران غیر ضروری نوٹیفکیشن بند ہوں اور عمر کے مطابق اسکرین ٹائم مقرر کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر والدین خود بھی ان اصولوں کی پابندی کریں۔ اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف ہوں گے تو بچے کو لیکچر دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ آج ہم اپنے بچوں کو مصنوعی ذہانت سکھانے کی بات کر رہے ہیں۔ یقیناً اے آئی مستقبل کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شامل ہے اور بچوں کو اس سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اے آئی سیکھنے سے پہلے بچے کو سوچنا سکھایا جا رہا ہے یا نہیں؟ اگر بچہ ہر سوال کا جواب خود تلاش کرنے کے بجائے مشین سے مانگے گا، مضمون خود لکھنے کے بجائے اے آئی سے لکھوائے گا، حساب خود کرنے کے بجائے کیلکولیٹر پر انحصار کرے گا اور کسی مسئلے پر غور کرنے کے بجائے فوری جواب کا منتظر رہے گا تو ٹیکنالوجی اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کی فطری صلاحیتوں کو کمزور بھی کر سکتی ہے۔ ہمیں بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں کرنا، ٹیکنالوجی کا غلام بننے سے بچانا ہے۔
اے آئی ضرور سکھائیں، مگر پہلے بچے کو سوال کرنا، دلیل دینا، کتاب پڑھنا، لکھنا، مشاہدہ کرنا، کھیلنا اور لوگوں سے براہِ راست گفتگو کرنا سکھائیں۔ مشین کو بچے کا متبادل نہیں، معاون بنائیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بچے کو ہر وقت ڈیجیٹل مصروفیت فراہم کرنے کے بجائے اس کے لیے حقیقی دنیا کے دروازے کھولے جائیں۔ اسی کھیل کے میدان میں بھیجا جائے، کتاب دی جائے، پودا لگانے دیا جائے، گھر کے چھوٹے کاموں میں شریک کیا جائے، بزرگوں کے ساتھ بٹھایا جائے اور دوستوں کے ساتھ حقیقی کھیلنے کا موقع دیا جائے۔
کیونکہ بچپن صرف امتحان پاس کرنے کا نام نہیں۔ بچپن شخصیت بنانے کا زمانہ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ بچوں کو سوشل میڈیا دیا جائے یا نہ دیا جائے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کس عمر میں، کتنا، کس مقصد کے لیے اور کس نگرانی میں دیا جائے؟۔
ہمیں اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی سے خوفزدہ نہیں کرنا، مگر انہیں ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر بھی نہیں چھوڑنا۔ بچوں کو ٹیکنالوجی سے نہیں، ٹیکنالوجی کے بے لگام استعمال سے بچانے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button