سیاست میں مذاکرات ناکام کیوں؟

ذرا سوچئے
سیاست میں مذاکرات ناکام کیوں؟
امتیاز احمد شاد
پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں اختلافات موجود ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ اختلافات کو اختلافِ رائے کے بجائے دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف تو ہوتی ہیں، مگر ہمارے ہاں اکثر یہ مخالفت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک دوسرے کے وجود، موقف اور سیاسی حق کو تسلیم کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید اب معاملات افہام و تفہیم سے آگے بڑھیں گے، لیکن چند ہی دنوں بعد بیانات کی تلخی، الزامات کی بوچھاڑ، احتجاج کی دھمکیاں اور طاقت کے استعمال کی باتیں ماحول کو پھر تصادم کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست مذاکرات کی میز سے اٹھ کر سڑکوں اور محاذ آرائی تک کیوں پہنچ جاتی ہے؟ کیا ہماری سیاسی قیادت اختلافات حل کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے، یا ہمارا سیاسی نظام ہی اس انداز میں تشکیل پا چکا ہے کہ مفاہمت کے امکانات بار بار دم توڑ جاتے ہیں؟۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی اختلافات کو برداشت کرنے اور اقتدار کی منتقلی کو معمول کا جمہوری عمل بنانے میں ہم مسلسل مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشمکش، انتخابی نتائج پر اعتراضات، سیاسی جماعتوں کے باہمی عدم اعتماد اور اداروں کے کردار سے متعلق تنازعات نے جمہوری عمل کو بارہا متاثر کیا ہے۔ کبھی احتجاجی تحریکیں سیاسی بحران کو جنم دیتی ہیں، کبھی حکومتیں مخالفین کو سیاسی حریف کے بجائے ریاستی نظم کے لیے خطرہ قرار دینے لگتی ہیں، اور کبھی اپوزیشن حکومت کو کسی بھی قیمت پر ناکام بنانے کو اپنی کامیابی سمجھنے لگتی ہے۔ یوں سیاست عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار حاصل کرنے اور مخالف کو زیر کرنے کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جمہوریت کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ اختلافِ رائے ایک حقیقت ہے، کوئی جرم نہیں۔ ہر سیاسی جماعت کو اپنے موقف کے اظہار، حکومت پر تنقید اور عوامی حمایت حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی لازم ہے کہ اختلاف کو تشدد، نفرت اور ریاستی نظام کی تباہی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں برداشت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔ ایک جماعت اقتدار میں ہو تو اپنے فیصلوں کو قومی مفاد کا واحد راستہ قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن انہی فیصلوں کو ملک کے لیے تباہ کن ثابت کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرتی ہے۔ اقتدار سے باہر جماعتیں فوری تبدیلی چاہتی ہیں اور حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے کو ہر حال میں کامیابی سمجھنے لگتی ہیں۔ اس کشمکش میں عام آدمی کے مسائل، معاشی مشکلات، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی معاملات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم اعتماد ہے۔ مذاکرات محض ملاقاتوں، مشترکہ بیانات اور تصویروں کا نام نہیں، بلکہ ان کے لیے نیت کی سچائی، وعدوں کی پاسداری اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ جب حکومت مذاکرات کو صرف احتجاج ختم کرانے یا سیاسی دبا کم کرنے کا ذریعہ سمجھے، اور اپوزیشن انہیں محض حکومت سے رعایتیں حاصل کرنے یا اپنی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کرے، تو بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق کچھ مطالبات پر اصرار کریں، کچھ معاملات میں لچک دکھائیں اور کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سیاست اکثر اصولوں کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تصادم کی تمام ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات، اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش، قانون کے غیر یکساں اطلاق کے خدشات اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی سیاسی بے چینی کو بڑھا دیتے ہیں ۔
اس ساری صورتِ حال کا سب سے بڑا نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سیاسی بحران بڑھتا ہے تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاری میں غیر یقینی پیدا ہوتی ہے، انتظامی توجہ عوامی مسائل سے ہٹ جاتی ہے اور قومی وسائل سیاسی کشمکش کی نذر ہونے لگتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے محض مذاکرات کی اپیل کافی نہیں۔ سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو ایک ایسے کم از کم جمہوری ضابطہ اخلاق پر اتفاق کرنا ہوگا جس میں انتخابی شفافیت، آئینی حدود، پُرامن احتجاج، سیاسی آزادیوں اور اقتدار کی قانونی منتقلی کے اصول واضح کرنا ہوں گے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مذاکرات کو کمزوری اور لچک کو شکست تصور کرنے کی روایت ختم کی جائے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں سخت اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے نظریات ترک کر دیتی ہیں، بلکہ وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ قومی ریاست کسی ایک جماعت، ایک رہنما یا ایک انتخابی دور سے بڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کو بھی ایسی سیاست درکار ہے جس میں حکومت کو اپنی غلطی تسلیم کرنے میں شرمندگی نہ ہو، اپوزیشن کو ہر مسئلے پر تصادم ضروری محسوس نہ ہو اور اداروں کو اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کا اعتماد حاصل ہو۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے تو پھر سیاسی کامیابی کا پیمانہ مخالف کو شکست دینا کیوں بن گیا ہے؟ اگر جمہوریت اختلافِ رائے کا نام ہے تو اختلاف کرنے والے کو برداشت کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟، اور اگر ہر سیاسی فریق خود کو ملک کا خیر خواہ سمجھتا ہے تو پھر ملک کو بار بار بحرانوں کے حوالے کرنے میں کسی کو اپنی ذمہ داری کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت نہیں جو ہر اختلاف کو جنگ بنا دے؛ اسے ایسی قیادت درکار ہے جو اختلاف کے باوجود بات کرنے، سننے، سمجھنے اور قومی مفاد میں فیصلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ کیونکہ قومیں مخالفین کو خاموش کرانے سے نہیں، اختلافات کو انصاف اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے سے مضبوط ہوتی ہیں۔





