
جگائے گا کون؟
فرانس جیسا احتجاج پاکستان میں کیوں نہیں؟
تحریر: سی ایم رضوان
فرانس میں ان دنوں کرفیو، مار دھاڑ، آتشزدگیزں تک شدت اختیار کر جانے والا پرتشدد احتجاج دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام و خواص میں بھی حیرت، تجسس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی تو اکثر ایک ہی سوال کر رہے ہیں کہ اگر فرانس پیرس جیسے مثالی ملک کے عوام ایک متشددانہ احتجاج پر آ چکے ہیں تو مقابلتاً پاکستان جیسے پسماندہ اور محروم ترین لوگ اس طرح کے احتجاج پر کیوں آمادہ نہیں۔ واضح رہے کہ ایک تو فرانس میں بڑے پیمانے پر یہ احتجاج اور ہنگامے محض اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ یہ برسوں سے جمع ہو جانے والے معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل کا شاخسانہ ہیں۔ دوسرا فرانس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے عوام اپنے حقوق اور فلاحی مراعات میں کمی پر سڑکوں پر نکلنے کی ایک طویل روایت رکھتے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کی اصل اور بنیادی وجہ فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیائ، توانائی ( بجلی و گیس) اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عام شہریوں اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے نہیں بڑھیں، جس سے قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی۔ اس احتجاجی تحریک کا آغاز تعلیمی شعبے سے ہوا تھا۔ سکولوں میں فنڈز کی کمی، اساتذہ کی شدید قلت، اور تعلیمی معیار کے گرتے ہوئے گراف نے طلبا، والدین اور اساتذہ کو سراپا احتجاج کر دیا۔ جبکہ فرانسیسی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر اور فلاحی اداروں کے اخراجات میں کٹوتیوں کی پالیسی کے باعث صحت، تعلیم اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کا زوال بھی اس احتجاج میں شدت اور طوالت کا سبب بنا۔ اس پر مستزاد معاشی عدم مساوات اور مستقبل کا عدم تحفظ بھی ہے۔ روزگار کے غیر یقینی مواقع اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام کا یہ احساس پختہ ہو چکا ہے کہ حکومتی پالیسیاں عام آدمی کے بجائے اشرافیہ کے مفاد میں ہیں۔ ایک اور سوال جو پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خالصتاً فرانسیسی، یورپی عوام کا احتجاج ہے یا کوئی غیر ملکی سازش پیچھے کار فرما ہے جیسا کہ پاکستان میں عام طور پر ہوتا یا سمجھا جاتا ہے لیکن فرانس کی حقیقت یہ ہے کہ اس احتجاج کی جڑیں فرانس کے اپنے داخلی اور معاشی مسائل میں پیوست ہیں۔ طلباء یونینز، ٹریڈ یونینز، مزدور طبقے اور عام شہریوں کی اس میں براہ راست شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مقامی سطح کے سنگین معاشی و سماجی مسائل کا شاخسانہ ہے۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ فرانس میں جب بھی عوام پر معاشی بوجھ بڑھتا ہے، وہ اسی طرح سڑکوں کا رخ کرتے ہیں۔
فرانسیسی حکومت اس پرتشدد احتجاج کے تدارک اور مہنگائی، عوامی بے چینی کے بحران پر قابو پانے کے لئے سختی کرنے اور ساتھ ساتھ مراعات دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حکومت جہاں ایک طرف امن و امان بحال کرنے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف معاشی بوجھ کم کرنے کے لئے مختلف امدادی پیکجز بھی دے رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت پرتشدد مظاہروں، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کو روکنے کے لئے فرانسیسی حکومت نے سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں اضافی پولیس اور سکیورٹی فورسز ( جیسے سی آر ایس وغیرہ ) کو تعینات کیا ہے۔ قانون شکنی کرنے والوں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف فوری گرفتاریاں اور سخت قانونی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کے لئے سبسڈی فراہم کی ہے۔ ایندھن ( فیول) پر ٹیکس میں چھوٹ اور مہنگائی الانس کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو فوری ریلیف مل سکے۔ حکومت نے مہنگائی کے تناسب سے کم از کم اجرت میں بتدریج اضافے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ مزدور طبقے کی قوتِ خرید کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ اساتذہ اور طلبا کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے تعلیمی اداروں میں فنڈز بڑھانے، اساتذہ کی نئی اسامیاں پیدا کرنے اور سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے مذاکرات اور فنڈنگ کا اعلان کیا ہے لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود فرانسیسی عوام اور ٹریڈ یونینز کی اکثریت حکومتی اقدامات کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی جس تیزی سی بڑھی ہے، حکومت کے دینے گئے ریلیف پیکجز اتنے ناکافی ہیں کہ وہ عام آدمی کی مشکلات کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ حکومت کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے متنازع فیصلوں نے عوامی غصے کی آگ پر مزید تیل ڈالا ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ حکومت فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں کو ختم کر کے سرمایہ دارانہ مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی سکیورٹی کریک ڈائون اور دھمکیوں کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں سٹرائیکس اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ عوام کا اصرار ہے کہ جب تک ان کے مطالبات مستقل بنیادوں پر تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ یہ دبائو جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ان طویل اور متشددانہ احتجاجی تحریکوں نے ملک کے سیاسی نظام، حکومتی استحکام اور مستقبل کی سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور یہ تحریکیں محض چند روز کی ہڑتالیں نہیں بلکہ فرانس کے روایتی ’’ فلاحی ماڈل‘‘ اور موجودہ سیاسی ڈھانچے کے لئے ایک کڑی آزمائش بن چکی ہیں۔ ان بحرانوں کی وجہ سے فرانسیسی صدر اور حکومت کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ میں اکثریتی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات اور بار بار کی برطرفیوں یا عدم اعتماد کی تحریکوں نے حکومتی فیصلوں کے تسلسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ پالیسی سازی کا عمل سست پڑ گیا ہے اور حکومت دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔ اس سیاسی و معاشی عدم اطمینان کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ انتہا پسند یا پاپولسٹ جماعتوں کو ہو رہا ہے۔ ایک طرف جہاں دائیں بازو کی انتہائی متشدد قوتیں ( جیسے میرین لی پین کی پارٹی) مضبوط ہو رہی ہیں، وہیں بائیں بازو کے انتہا پسند حلقے بھی پارلیمنٹ اور سڑکوں پر طاقتور آواز بن کر ابھرے ہیں۔ اس سے فرانس کی روایتی مرکز پسند سیاست کا اثر و رسوخ کمزور ہوا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ فرانسیسی پولیس کے سخت کریک ڈائون اور حکومت کے سخت گیر فیصلوں ( جیسے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بغیر متنازع بل پاس کرنا) کی وجہ سے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج وسیع ہو گئی ہے۔
فرانس کے ساتھ پاکستان کے تقابل سے یہ بات درستگی کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں تو معاشی بحران، مہنگائی، تعلیم اور ذہنی صحت کی سہولیات کا فقدان فرانس کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور سنگین ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام فرانسیسی عوام کی طرح سڑکوں پر نکل کر بڑے پیمانے پر متشدد یا منظم احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ اس کے پیچھے متعدد تاریخی، سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کار فرما ہیں۔ جن میں زندہ رہنے کی جنگ اور روزمرہ کی تگ و دو ایک بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان میں اکثریت آبادی کا ایک بڑا حصہ روزانہ کی بنیاد پر روٹی کمانے کی جنگ میں لگا ہوا ہے۔ جہاں انسان کی تمام تر توانائیاں صرف دو وقت کی روٹی، بجلی کے بل اور گھر کا خرچ چلانے میں صرف ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، فرانسیسی معاشرے میں بنیادی ضروریات ایک حد تک محفوظ ہیں، اس لئے وہاں کے عوام کے پاس اپنے حقوق، مستقبل اور فلاحی مراعات کے لئے لڑنے کی نفسیاتی اور معاشی گنجائش ہوتی ہے۔ فرانس میں احتجاج کی طویل تاریخی روایت ہے ( جو 1789ء کے فرانسیسی انقلاب سی جڑی ہے)۔ وہاں کے عوام ریاست کو اپنا ملازم اور خود کو اس کا آقا سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے کسی بھی حق میں ذرا سی بھی کمی برداشت کرنے کی بجائے فوراً سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ وہاں ٹریڈ یونینز بھی انتہائی طاقتور ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں احتجاج کا کلچر زیادہ تر سیاسی جلسے جلوسوں، دھرنوں یا مذہبی و سیاسی جماعتوں کی کال تک محدود ہوتا ہے۔ عام آدمی اکیلے یا سماجی سطح پر اس طرح سے منظم ہو کر ریاستی پالیسیوں کے خلاف طویل مدتی معاشی ہڑتالوں کی سکت یا روایت نہیں رکھتا۔ یہاں تو ایک روزہ احتجاج کے شرکا شامل ہونے سے پہلے بریانی ملنے کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت کا ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ ایک مختلف نفسیاتی رشتہ ہے۔ یہاں جب سرکاری ادارے یا سہولیات ناکام ہوتی ہیں تو خاندانی نظام، رشتہ دار، پڑوسی، دوست احباب اور فلاحی ادارے ( جیسے ایدھی یا دیگر ٹرسٹ) ایک حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ لوگ مشکل وقت میں ان غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، جس سے فوری بڑا دھماکہ یا طوفان نہیں اٹھتا۔ یہ بھی کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی اور ثقافتی رنگ کی وجہ سے مشکلات اور تکلیفوں کو بہت حد تک قسمت یا ’’ آزمائش‘‘ سمجھ کر برداشت کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ لوگ حالات کے خلاف بغاوت کرنے کی بجائے صبر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
فرانس جیسے جمہوری ممالک میں مظاہرین کے پاس آئینی اور قانونی تحفظات زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور ریاست کے خلاف آواز اٹھانے پر ایک مخصوص حد تک لچک پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں عام شہریوں کے لئے ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہاں عوامی احتجاج کو بہت جلد سختی سے کچل دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی خوف کے مارے خاموش رہتا ہے۔ پاکستان کا معاشرہ نسلی، لسانی، سیاسی، فرقہ وارانہ اور طبقاتی بنیادوں پر منقسم ہے۔ یہاں عوام ایک قوم یا ایک طبقے کے طور پر متحد ہو کر اپنے معاشی حقوق کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوتے۔ جب کوئی معاشرہ اندرونی طور پر منقسم ہو، وہاں ایک مضبوط، متفقہ اور بڑی عوامی تحریک کا اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا پاکستان اور فرانس کے تقابل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فرانس کے لوگ اپنے حقوق کے لئے اس لئے لڑتے ہیں کیونکہ وہ اپنے حقوق سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ریاست کو جوابدہ بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں عوام اتنے زیادہ بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں کہ ان کی ساری توانائی محض زندہ رہنے میں صرف ہو جاتی ہے، اور اجتماعی شعور یا خاندانی و سماجی سپورٹ حکومت پر غصے کو باہر نکلنے سے روک کر اندر ہی اندر گھٹن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔





