ColumnImtiaz Aasi

معدنیات اور صوبے

معدنیات اور صوبے
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ہمارا ملک جہاں دہشت گردی کا شکار ہے وہاں صوبوں کے عوام کو آئین پاکستان پر عمل داری کی بھی شکایت ہے۔ بلوچستان جو ملک کا رقبے سے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، معدنیات سے مالا مال ہے اسی طرح ہمارا کے پی کے بھی معدنیات سے بھرا پڑا ہے۔ دونوں صوبوں کے عوام کو یہی شکایات رہی ہے ان کے وسائل پر وفاق نے قبضہ کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس صورتحال میں وفاق کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے صوبے کے عوام کو مطمئن کرنا چاہیے تاکہ ان کے ذہنوں میں قدرتی وسائل بارے جو شکوک و شبہات ہیں دور ہو سکیں۔ بلوچستان کے عوام کو معدنیات کے آمدن کے حصول کی شکایت تو ہمیشہ رہی ہے مگر اب صوبہ کے پی کے بھی معدنیات بارے شکوئوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ ملک کا آئین قدرتی وسائل بارے کھلی کتاب کی مانند ہے، جس میں واضح طور پر لکھا ہے جس کسی صوبے سے کوئی معدنیات نکلے گی وہ اسی صوبے کی ملکیت ہوگی جس کے بعد کسی قسم کے تنازعے کا سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آخر معدنیات بارے تنازعہ کیونکر کھڑا ہو اس کے پس پشت وہ کون سے عناصر ہیں جو صوبوں کے حق ملکیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ1992ء کی بات ہے جب ریکوڈیک کا معاملہ منظر عام پر آیا، غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے باوجود بلوچستان کے ایک شہری کی درخواست پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھر ی نے غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ گو بعد ازاں ریکوڈک کا معاہدہ ازسر نو ہو گیا لیکن عمران خان کے دور میں اسی کمپنی سے نئی شرائط پر ایک با ر پھر سے معاہدہ کرنا پڑا۔ اس دوران بلوچستان کی حکومت ریکوڈک کی اراضی سے ملنے والے مالی وسائل میں اضافہ کا مطالبہ کر دیا۔ صوبے کا مطالبہ تھا زمین کی رائلٹی میں وقت کے ساتھ اضافہ کیا جانا ضرور ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں غیر ملکی کمپنی کے ساتھ از سرنو معاہدہ بعض نئی شرائط پر کیا گیا جس میں بلوچستان کے حصے میں کچھ اضافہ کیا گیااگر یہ معاہدہ نہ ہوتا غیر ملکی کمپنی نے جس طرح بین الاقوامی ثالثی کونسل میں یہ معاملہ لے گئی تھی پاکستان کو کئی ارب روپے جرمانہ ادا کرنا پڑ جاتا۔ چلیں سندھک جنرل پرویز مشرف نے چین کو دے کر کم از کم گوادر کی تعمیر تو کرا دی جس کے نتیجہ میں آج گوادر پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ کوسٹل ہائے وے کا منصوبہ بھی گوادر کے تناظر میں مکمل ہو چکا ہے، لیکن بلوچستان کے لوگوں کے مسائل بدستور وہیں ہیں۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بدولت معاملات بہتری کی طرف جانے کی بجائے بگڑتے جا رہے ہیں۔ گوادر میں مچھلیوں کو پکڑنے کا کنٹریکٹ کا معاملہ بھی ایک بڑا تنازع ہے، کیونکہ آئین نے گوادر کے سمندر کے سلسلے میں بھی صوبے کو کچھ حقوق دے رکھے ہیں، جن کو پورا کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ اب ہم آتے ہیں اپنے کے پی کے طرف جہاں کے عوام میں قدرتی وسائل بارے اضطراب پایا جا رہا ہے۔ گو صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کا انعقاد آئین میں دیئے گئے اختیار کے تحت عمل میں لایا گیا ہے، تاہم اس کے برعکس وہاں کے رہنے والوں کو اس بات کی شکایت ہے سابقہ فاٹا کے علاقوں سے نکالنے والی قدرتی معدنیات پر صوبے کا حق ہے نہ کہ وفاقی حکومت کے ملکیت ہے۔ بظاہر صوبوں کے وسائل بارے کوئی ابہام تو دکھائی نہیں دے رہا ہے، تاہم اس کے باوجود قانونی ماہرین کے نزدیک آئین اور صوبوں سے نکالنے والی معدنیات پر کس کا حق ہے۔ ہمارے خیال میں یہ معاملہ بھی اگر آئینی عدالت میں چلا جائے تو اس کا ایک بار حتمی طور پر فیصلہ ہو جانا چاہیے، صوبوں سے نکلنے والی معدنیات کس کی ملکیت ہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے دور میں آئین اور قانون کی بات تو کی جاتی ہے مگر آئین اور قانون کو گھر کی لونڈی سمجھا جاتا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک صوبہ کے پی کے سے نکالنے والے قدرتی وسائل پر بعض اداروں نے کنٹرول حاصل کر رکھا ہے حکومت کو اس بارے وضاحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے عوام پر صحیح صورت حال واضح ہو سکے۔ گو ہم صوبوں میں دہشت گردی کا ذمہ دار افغانستان اور بھارت کو گردانتے ہیں بلاشبہ دہشت گردی انہی ملکوں سے ہو رہی ہے تاہم اس کے برعکس وفاق کو صوبوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کو بھی پورا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ملک وجود میں آیا تو بانی پاکستان نے خان آف قلات کے ہاں جا کر ریاست قلات کا پاکستان سے الحاق کرنے کی درخواست کی، جس کے جواب میں میر احمد یار خان ریاست قلات کے خان نے چند مطالبات پیش کئے، جن میں وفاق کے دائرہ کار میں دفاع، کرنسی اور خارجہ امور ہوں گے، جبکہ بقیہ تمام امور صوبے کے دائر کار میں ہوں، لیکن اس معاہدے پر عمل نہ ہو سکا، اور صوبہ ابتداء سے شورش کا شکار ہی۔ لہذا حکمرانوں کو بلوچستان ہو یا کے پی کے، دونوں میں دہشت گردی اور شورش کی وجوہات کا جاننا بے حد ضروری ہے۔ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، بات چیت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے مشکلات سے نکلنے کا حل نکلتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر تو کئی ماہ سے بند تھا اب ایران کے ساتھ بارڈر کی بندش سے ہمارے ہاں کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کی بندش سے کیا ہماری معاشی حالت پہلے سے بہتر ہو جائے گی، یا پھر پہلے سے ابتر ہو جائے گی؟۔ امریکہ دوستی کا اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ ہوئے عشرے ہو چکے ہیں، ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن بلوچستان تک بچھا دی تھی، لیکن ہم امریکہ پابندیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے ایران سے گیس لینے سے محروم چلے آرہے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں ہمارے حکمرانوں کے امریکی صدر ٹرمپ سے تعلقات خوشگوار چلے آرہے ہیں، ٹرمپ سے کہہ کر دیکھ لیں ہمیں ایران سے گیس تو لینے دے، تو ہمیں امریکہ دوستی کا پوری طرح ادراک ہو جائے گا؟۔

جواب دیں

Back to top button