Column

تعلیمی زبوں حالی: احساسِ زیاں جاتا رہا

تعلیمی زبوں حالی: احساسِ زیاں جاتا رہا
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری ۔۔۔
قومیں ہمیشہ جنگوں اور بحرانوں سے تباہ نہیں ہوتیں؛ بعض قوموں کا مستقبل اس وقت برباد ہونا شروع ہوتا ہے جب ان کے بچے اسکولوں سے باہر رہ جائیں اور اہلِ اقتدار کے ضمیر پر کوئی دستک نہ ہو۔ پاکستان میں تعلیمی زبوں حالی محض انتظامی ناکامی نہیں، قومی مستقبل اور اجتماعی شعور کا بحران ہے۔ ستمبر 2024ء میں قومی اسمبلی میں پیش کی گئی وزارتِ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر تھے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، دو کروڑ باسٹھ لاکھ خوابوں، صلاحیتوں اور امکانات کا سوال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اتنے بچے اسکول کیوں نہیں جاتے؛ سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں اسکول تک پہنچانے کے لیے کیا کیا؟۔
تعلیم سے محرومی، محرومیوں کا تسلسل: تعلیم انسان کو صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھاتی، اسے اپنے حقوق پہچاننے، درست فیصلے کرنے اور زندگی بدلنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ جب بچہ تعلیم سے محروم ہوتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے دروازے محدود ہو جاتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور بے بسی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتی ہے۔غریب گھرانوں کے بچے اکثر تعلیم کی عمر میں مزدوری کرنے، دکانوں پر ہاتھ بٹانے یا چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ والدین انہیں پڑھانا چاہتے ہیں، مگر آٹا، بجلی کا بل اور علاج کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو تو کتابیں، یونیفارم اور آمدورفت بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں بچے کو موردِ الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے؛ اصل ضرورت اس خاندان کو سہارا دینے کی ہے تاکہ غربت اس کے بچے کا مستقبل طے نہ کر سکے۔
اسکولوں سے باہر بچے: ذمہ دار کون؟، اس بحران کی وجوہات میں غربت، تعلیمی سہولتوں کی غیر مساوی تقسیم، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کا فاصلے پر ہونا اور بنیادی سہولتوں کا فقدان شامل ہیں۔ بچیوں کو محفوظ آمدورفت، گھریلو ذمہ داریوں اور بعض سماجی رویوں جیسی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کہیں اسکول ہے تو استاد نہیں، کہیں استاد ہے تو مناسب ماحول نہیں۔ کہیں داخلہ ہو جاتا ہے، مگر بچہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتا۔ اس لیے محض داخلوں کی مہم کافی نہیں۔ بچے کو اسکول لانا پہلا قدم ہے؛ اسے اسکول میں برقرار رکھنا اور معیاری تعلیم دینا اصل کامیابی ہے۔سرکاری تعلیم: عمارت نہیں، معیار اہم ہے، سرکاری اسکول غریب اور متوسط طبقے کے لیے ترقی کا سب سے اہم راستہ ہیں۔ ان کی بہتری لاکھوں خاندانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے عمارتوں اور اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تربیت یافتہ اساتذہ، صاف پانی، فعال بیت الخلا، بجلی، کتابیں اور محفوظ تعلیمی ماحول بنیادی ضرورتیں ہیں۔ استاد پر غیر تدریسی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کرنا، اس کی تربیت بہتر بنانا اور کارکردگی کا منصفانہ احتساب ضروری ہے۔ اسی طرح پیشہ ورانہ غفلت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم کا معیار صرف امتحان میں کامیابی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بچہ اپنی جماعت کے مطابق پڑھ سکتا ہے، بنیادی حساب سمجھتا ہے، سوال اٹھا سکتا ہے اور اپنی بات واضح انداز میں بیان کر سکتا ہے یا نہیں۔ سند مل جانا اور تعلیم یافتہ ہو جانا دو مختلف باتیں ہیں۔
طبقاتی تقسیم اور تعلیمی ناانصافی: ہمارے معاشرے میں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ صاحبِ استطاعت خاندان مہنگے نجی اسکولوں اور اضافی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ غریب بچے اکثر بنیادی وسائل سے محروم رہتے ہیں۔ پھر دونوں کو ایک ہی معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ ایک بچے کو کتابوں، کمپیوٹر، تربیت یافتہ اساتذہ اور سازگار ماحول تک رسائی حاصل ہو، جبکہ دوسرا ان سہولتوں کے لیے ترستا رہے، تو ان کے نتائج میں فرق کو صرف قابلیت کا فرق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ مواقع کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ تعلیم کا مقصد امیر کے بچے کو مزید آگے اور غریب کے بچے کو مزید پیچھے رکھنا نہیں، بلکہ ہر بچے کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع دینا ہے۔ معیاری سرکاری تعلیم اسی معاشرتی انصاف کی بنیاد بن سکتی ہے۔
مدارس، فنی تعلیم اور متبادل راستے: تعلیمی پالیسی میں مدارس کے طلبہ، مزدوری کرنے والے بچوں اور اسکول چھوڑ دینے والے نوجوانوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ بنیادی خواندگی، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر اور فنی تربیت تک رسائی ان کے لیے روزگار اور بہتر مستقبل کے راستے کھول سکتی ہے۔ غیر رسمی تعلیمی مراکز، شام کی کلاسیں اور دوبارہ داخلے کے پروگرام ان بچوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں جو روایتی تعلیمی نظام سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ غریب خاندانوں کو وظائف، کتابیں، یونیفارم اور آمدورفت کی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ بچے کی تعلیم گھر کے معاشی حالات کی بھینٹ نہ چڑھے۔
بجٹ، ترجیحات اور عملی اقدامات: تعلیم پر سرمایہ کاری حکومت کا احسان نہیں، قومی مستقبل کی ضرورت ہے۔ تاہم بجٹ میں اضافہ اسی وقت بامعنی ہوگا جب اس کے نتائج بچوں کی زندگیوں میں نظر آئیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اسکولوں سے باہر بچوں کی درست تعداد، ان کے علاقوں اور محرومی کی وجوہات معلوم کرکے ضلع اور تحصیل کی سطح پر واضح اہداف مقرر کریں۔ اساتذہ کی خالی آسامیاں پُر ہوں، دور دراز علاقوں میں سہولتیں بہتر بنائی جائیں اور داخلوں کے ساتھ حاضری، تعلیمی معیار اور اسکول چھوڑنے کی شرح کی نگرانی بھی کی جائے۔ نجی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور مخیر حضرات بچوں کی فیس اور تعلیمی ضروریات میں مدد کر سکتے ہیں، مگر یہ مدد ریاست کی بنیادی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انفرادی خیرات کسی بچے کی زندگی بدل سکتی ہے۔ موثر تعلیمی نظام پوری نسل کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
اختتامیہ: احساسِ زیاں کب جاگے گا؟، قوموں کے مستقبل کا فیصلہ نعروں سے نہیں، ترجیحات سے ہوتا ہے۔ سڑکیں، پل اور عمارتیں ترقی کے لیے اہم ہیں، لیکن ان سے زیادہ اہم وہ ذہن ہیں جو ان وسائل کو بہتر زندگی میں بدلتے ہیں۔ کروڑوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر ترقی یافتہ پاکستان کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔ اسکول سے باہر ہر بچہ محض ایک سرکاری عدد نہیں؛ اس کے اندر کوئی استاد، ڈاکٹر، سائنس دان، ادیب یا ہنرمند بننے کی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے۔ غربت نے اگر اس کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ اوزار تھما دیا ہے تو یہ اس کی نااہلی نہیں، ہمارے نظام کی ناکامی ہے۔تعلیمی زبوں حالی کا علاج اجلاسوں، پالیسیوں اور اعلانات سے نہیں، عملی اقدامات، سیاسی عزم، شفافیت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے ممکن ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، اساتذہ اپنے منصب کا حق ادا کریں، والدین کو سہارا ملے اور معاشرہ تعلیم کو قومی ضرورت سمجھے۔
اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں؛ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس صورتِ حال کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ جس قوم کو اپنے بچوں کے ضائع ہوتے مستقبل پر دکھ محسوس نہ ہو، اس کا احساسِ زیاں واقعی جاتا رہا۔

جواب دیں

Back to top button