Columnمحمد مبشر انوار

جنگ میں شدت

جنگ میں شدت
محمد مبشر انوار
گزشتہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگی صورتحال میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور حوثی مسلسل سعودی عرب کے لئے ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں،کہ قریبا ہر دوسرے روز ہی سعودی عرب کے کسی نہ کسی علاقے میں حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور سعودی عرب اپنے پورے وسائل ان حملوں کو روکنے کے لئے بروئے کار لا رہا ہے تا کہ شہریوں اور اپنے اثاثوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ چند دن پہلے سعودی شہر نجران میں ایک سعودی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا تھا جس کے متعلق حوثیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے حوثیوں نے اپنے ڈیفنس سسٹم سے تباہ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا ہے، جنگ میں سب سے پہلا قتل ہی چونکہ سچ کا ہوتا ہے اور دوسری بات فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا نقصان کم سے کم تسلیم کیا جائے جبکہ فریق مخالف کے نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، اس واقعہ میں بھی ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے کہ حوثی بطور باغی گروہ یہ سمجھنا کہ ان کے پاس کوئی ایئر ڈیفنس سسٹم ہو سکتا ہے یا ریڈارز ہو سکتے ہیں، بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ حوثی باغیوں کو ایسے وسائل میسر ہیں کہ وہ فضائی حملوں کو روک سکیں گو کہ اس کا معیار ایک باقاعدہ فوج کی نسبت بہت کم ہو سکتا ہے مگر اس امکان کو بہرحال رد نہیں کیا جا سکتا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی حدود، ماسوائے مکہ و مدینہ بقول حوثیوں کے، حوثیوں کے لئے میدان جنگ ہے اور ان کا سب سے زیادہ انحصار دارالحکومت ریاض کا ائیر پورٹ ہے کہ جہاں یومیہ ساڑھے سات سو کے قریب پروازیں آتی اور جاتی ہیں، اس ایئرپورٹ کو حوثیوں نے خصوصا نشانے پر رکھا ہوا ہے اور مسلسل اس پر حملے کءے جارہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر کئی ایک بین الاقوامی ایئر لائنز نے اپنی پروازوں کو فی الوقت معطل کر رکھا ہے جبکہ جو پروازیں اس ایئرپورٹ پر اس صورتحال میں بھی چلائی جارہی ہیں، ان میں نشستوں کا حصول اور کرایہ ایک الگ درد سر ہے تو یہ بھی یقینی نہیں کہ جس دن کی ٹکٹ مسافر کے پاس ہے، اس دن پرواز اڑان بھی بھرے گی یا نہیں، یوں سعودی عرب نہ صرف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے قاصر ہے بلکہ اس سے ہونے والی آمدن بھی اس وقت معطل ہے۔ یقینی طور پر یہ صورتحال ہمیشہ کے لئے نہیں ہے لیکن جب تک یہ صورتحال ہے، سعودی عرب کی ساکھ بری طرح متاثر ہورہی ہے کہ ایک پرامن ملک، جس نے امریکہ و ایران جنگ کے دوران بھی فالس فلیگ آپریشنز پر بھی انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور کسی جلد بازی کا شکار ہو کر جنگ کا حصہ بننے سے خود کو بچائے رکھا، اس وقت حوثیوں کے نہ صرف نشانے پر ہے بلکہ اپنے دفاع کے لئے بتدریج جنگ کا حصہ بھی بن رہا ہے۔ دوسری طرف حوثیوں کی حیثیت عالمی سطح پر ایک باغی گروپ کے طور پر مسلمہ ہے اور ان کی یمن پر حکومت کرنے کی تما م تر کوششیں اس وقت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ان کے مد مقابل اس وقت یمنی فورسز اتحادی افواج کے ساتھ بھرپور طریقے سے حوثیوں کے خلاف بروئے کار آ رہی ہیں گو کہ ماضی میں حوثیوں نے یمنی فورسز کو پیچھے بھی دھکیلا ہے اور ماضی کے یمنی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے، یمنی فورسز کو پسپا اور دارالحکومت کو عدن منتقل ہونے پر مجبور کیا تھا لیکن اس وقت یمنی فورسز ایک نءے عزم کے ساتھ میدان میں ہیں اور مسلسل حوثیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں ۔اس کے باوجود صورتحال ایسی ہے کہ حوثیوں تمام تر پسپائی کے باوجود ،مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اتحادی افواج کے حملوں کو دیکھا جائے تو واضح نظر آرہا ہے کہ اتحادی افواج کے حملوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے مگر اس سے حاصل ہونے والے مقاصد کی شرح وہ نہیں جو ایسے حملوں کے بعد ملنی چاہئے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ایک طرف ممکنہ طور پر اتحادی افواج کے پاس معلومات مصدقہ نہیں ہے اور اتحادی افواج کو حوثیوں کے ٹھکانوں کے متعلق علم نہیں ہورہا یا حوثیوں نے خود کو ایسے چھپا رکھا ہے کہ اتحادی افواج ان کے کیمو فلاج کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں یا تیسری صورت یہ بھی ہے کہ حوثی ایسی گنجان جگہوں پر سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں کہ جہاں کارروائی کرنے سے بے گناہ شہریوں کی زندگی بھی دائو پر لگ سکتی ہے، جس کے اتحادی افواج تیار نہیں ہیں۔ حوثیوں چونکہ قبائل ہیں اور ان کا زیادہ تر ٹھکانہ پہاڑوں پر ہے، اور شنید یہ ہے کہ جن پہاڑوں پر ان کی سکونت ہے، حوثی ان پہاڑوں کی غاروں میں خود کو ایسے چھپا کر رکھتے ہیں کہ ان غاروں کے دھانوں پر بھی پہاڑوں جیسا رنگ کرکے ان کو چھپا لیتے ہیں، اس صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ ایسی رہائشوں کا درست ٹھکانہ معلوم ہو تاکہ ہدف پر صحیح نشانہ لیا جا سکے۔ اتحادی افواج مسلسل پیش قدمی تو کر رہی ہیں لیکن ان کی رفتار نسبتا کم دکھائی دیتی ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں اتحادی افواج کی پیش قدمی میں واضح سرعت دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے اہم ترین ٹھکانوں، اہداف کو نشانہ بنانے میں بھی بہتری نظر آ رہی ہے۔ ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد، اتحادی افواج نے تقریبا اڑتالیس گھنٹوں میں کوئی تین سو سے زائد فضائی حملے، حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئے جس سے باغی حوثیوں کے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے اور سینکڑوں زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں لیکن اس کارروائی کے باوجود، حوثیوں کے حوصلے پست دکھائی نہیں دیتے کہ اس کا جواب دیتے ہوئے حوثیوں نے ایک طرف یمن کی چھائونی شبوہ میں ،نئے بھرتی کئے جانیوالے،زیر تربیت فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے تین بیلسٹک میزائل ،اس چھائونی پر گرائے ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ اتحادی افواج کی چھاؤنی پر گرنے والے بیلسٹک میزائلوں نے ،اپنے ہدف کو بھر پور طریقے سے نشانہ بنایا ہے اور یہاں موجود زیر تربیت فوجیوں کی بڑی تعداد تقریبا ساٹھ فوجیوں کو جاں بحق کیا ہے تو دوسری طرف سینکڑوں کی تعداد میں زخمیوں کی تصدیق بھی یمنی فورسز کے عہدیدار نے کی ہے، اسلحہ و گولہ و بارود ،اس کے علاوہ ہے، حوثیوں کی اس کارروائی کو اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جارہا ہے اور اتحادی افواج کے لئے یہ سب سے بڑی اور کاری ضرب ہے، جو اس سے قبل اتحادی افواج کو نہیں اٹھانی پڑی۔ بہرحال حوثیوں کی اس کارروائی نے ،اتحادی افواج اور ان کی اہلیت پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ضرور کیا ،جس کا فوری اور بھر پور جواب بھی اتحادی افواج نے حوثیوں کو دیا ہے۔ خبریں یہ ہے کہ اتحادی افواج کی جوابی کارروائی میں ،حوثیوں کا ایک اہم ترین ٹھکانہ،جس کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ یہ وہی اہم ترین مقام ہے جہاں سے حوثی نہ صرف یمن بلکہ سعودی عرب پر بھی حملے کررہے تھے،اس پر اتحادی افواج نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے،اس پر قبضہ کر لیا ہے اور حوثیوں کو یہاں سے فرار ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ تعز صوبہ میں ،جبل حبشی نامی پہاڑ کے متعلق یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ حوثیوں کی زیادہ تر کارروائیاں اس پہاڑ پر موجود بیس سے کی جاتی رہی ہیں،جس کو انتہائی کامیابی سے کیمو فلاج رکھا گیا تھا لیکن اتحادی افواج کی تازہ کارروائی میں ایک طرف ڈرونز استعمال کرتے ہوئے،اس پہاڑی پر موجود حوثیوں باغیوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں توپ خانے کی مدد سے ،یہاں موجود افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ہے، حملے کی شدت کا اندازہ کرتے ہوئے اور اس کو روکنے میں ناکامی پر کئی ایک باغی فرار بھی ہوئے ہیں،جس کے بعد اتحادی افواج نے یہاں پر اپنا پرچم لہرا کر جبل حبشی پر قبضہ کر لیا ہے اور اسے حوثی باغیوں سے چھڑوا لیا ہے۔ علاوہ ازیں! ایک اور پہاڑی، جبل بان کے متعلق بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ پہاڑی بھی حوثیوں کے زیر تسلط رہی ہے اور اتحادی افواج نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے، اس پہاڑی کو بھی حوثیوں کے قبضہ سے چھڑوا لیا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد، توقع یہی ہے کہ اتحادی افواج کے موقف کے مطابق، حوثیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہو گی اور اب وہ اتحادی افواج اور سعودی عرب کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے سے قاصر ہوںگے، اس کا اندازہ اگلے چند گھنٹوں میں ہی ہو جائیگا کہ کیا واقعی حوثیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے یا ان کے پاس ایسے مزید ٹھکانے موجود ہیں، جہاں سے وہ اپنی جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں البتہ جبل حبشی اور جبل بان پر اتحادی افواج کے قبضہ سے کم از کم یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اب اتحادی افواج کے پاس بھی حوثیوں کے حوالے سے بہتر اور درست معلومات پہنچ رہی ہیں اور وہ اپنی کارروائیوں میں زیادہ موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر ان ٹھکانوں کے بعد حوثیوں کی جانب سے مزید مزاحمت نہیں ہوتی تو کہا جا سکتا ہے کہ حوثیوں کی کمر واقعی ٹوٹ چکی ہے بصورت دیگر اس جنگ میں شدت کا امکان انتہائی واضح ہے کہ حوثی انتقام میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں تاہم اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کو ہو رہا ہے ۔

جواب دیں

Back to top button