سر قلم کہانی

سر قلم کہانی
تحریر: سیدہ غنبرین
ہزاروں سال قبل کے بادشاہوں کے زمانے میں مجرموں کو کئی روز سے بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیا جاتا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے انہیں چٹ کر جاتے تھے، پھر ایسا وقت بھی آیا کہ مجرم کو شیر کے سامنے پھینکا گیا، لیکن شیر نے قریب آنے کے بعد بھی اس پر حملہ نہ کیا۔ بادشاہوں کے اس طرز انصاف کو دیکھنے کیلئے جمع ہزاروں افراد اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دیتے کہ شیر کے سامنے پھینکا جانے والا شخص بے گناہ تھا، حالانکہ معاملہ کچھ اور تھا، تمام سال جانوروں کا گوشت کھانے اور لہو پینے والے شیر کو انسانی گوشت کچھ پھیکا پھیکا سا لگتا تھا، لہٰذا وہ منہ موڑ کر بھوکا رہنے کو ترجیح دیتا تھا، بالکل ایسے جیسے آپ کو چینی والی چائے پینے کی عادت ہو اور آپ کو اچانک کئی روز پھیکی چائے دے دی جائے۔ شیروں نے مجرموں کا گوشت کھانا چھوڑا تو بادشاہوں نے اسے اپنی بے عزتی سمجھا، اور یہ سلسلہ ختم کرتے ہوئے سزائے موت دینے کے دیگر طریقے سوچے، اور ان پر عمل کیا جانے لگا۔
ان زمانوں میں بینک تو تھے نہیں جنہیں لوٹا جا سکتا۔ کار، موٹرسائیکل ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی کہ انہیں چرایا جا سکتا، البتہ بادشاہت کے خلاف کوئی سر پھیرا کچھ کہہ دیتا تو بغاوت کے الزام میں سزائے موت کا حق دار سمجھا جاتا۔ بغاوت کے قانون کے تحت مقدمہ چلانا اور سزائے موت دینا آج دنیا بھر میں آسان ترین سمجھا جاتا ہے، اس دو دھاری تلوار سے کئی کام لئے جا رہے ہیں۔
نزول اسلام اور غلبہ اسلام کے بعد شریعت کے مطابق سزا و جزا کا نظام آیا، یہی نظام آج کل سعودی عرب میں رائج ہے۔ سعودی عرب کی آبادی قریباً ساڑھے تین کروڑ ہے، ان میں پینتیس لاکھ بنگلہ دیشی مرد و خواتین ہیں، جو وہاں مسلمان ممالک سے آئی ہوئی مزدور کلاس میں سب زیادہ تعداد ہیں، اس کے بعد بھارتیوں کا نمبر آتا ہے، جو اٹھائیس لاکھ کے قریب ہیں، اور زندگی کے ہر شعبے میں نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا نمبر تیسر ہے، جو قریباً چھبیس لاکھ کے قریب ہیں۔ بنگلہ دیش کی مزدور کلاس ہر سال پانچ ارب ڈالر کا زرمبادلہ بنگلہ دیش بھجواتی ہے ۔ بنگلہ دیش اسلامی ملک ہے، یہاں کے باسی مذہبی رجحانات رکھتے ہیں۔ یہ محنتی لوگ ہیں، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں حج اور عمرہ کیلئے آنے والے کئی ارب ڈالر سعودی عرب کو اسی مد میں لوٹا دیتے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ دیگر اسلامی ممالک کا ہے۔ ایک واقعے نے آج عالمی بحث مباحثوں کا رخ اپنی جانب موڑ لیا ہے، یہ واقعہ بنگلہ دیشی مرد اور عورت کے سر قلم کرنے کا واقعہ ہے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک کا میڈیا اسے اپنے اپنے مفادات کے تحت پیش کر رہا ہے، تاکہ امریکہ اور یورپ میں ہونے والے فسادات اور لوٹ مار سے توجہ ہٹائی جا سکے، جبکہ بھارت کا میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اسلامی سزائوں کے نام پر بربریت ثابت کرنے پر تلا ہے۔ مسلمان علماء اپنی زبانیں بند کئے بیٹھے ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا زبان درازی کی تمام حدود پار کر چکا ہے۔ انہیں یہ یاد کرانے والا کوئی نہیں کہ اسلامی سزائیں تو جرم ثابت ہونے کے بعد دی جاتی ہیں، جبکہ ہندو دھرم میں خاوند کے مرنے کے بعد بیوی سے زندگی کا حق چھین لیا جاتا تھا۔ اس پر لازم تھا کہ جب اس کے خاوند کی چتا کو آگ لگائی جائے تو وہ بھی اس کے ساتھ جل مرے، خاوندوں کے ساتھ جل مرنے والی یہ تمام عورتیں بے قصور تھیں۔ آج پورے بھارت میں ان کا نوحہ پڑھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
بنگلہ دیشی جوڑے کی سر قلم کرنے کے حوالے سے درجنوں نہیں اب تو سیکڑوں داستانیں سوشل میڈیا پر آچکی ہیں، لیکن کچھ بھی مصدقہ نہیں، کیونکہ ابھی سعودی عرب حکومت نے اپنی عدالت کا فیصلہ اور اس کے حاصل کردہ ثبوت سامنے نہیں رکھے، نہ ہی انہیں بنگلہ دیش بھجوایا گیا ہے۔ سعودی عرب میں موجود بنگلہ دیشی قونصلیٹ کے پاس بھی کوئی واضع بات موجود نہیں۔ سزا پانے والے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی تھے یا نہیں تھے، ان کا اصل جرم کیا تھا، کیا حقیقت ہے، اور کیا زیب داستان کیلئے مشہور کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سزا پانے والی لڑکی کا تعلق ٹاینکائی مرزا پور سے ہے، وہ چار بہنوں میں سے سب سے چھوٹی تھی، اس کے والد مزدور ہیں، وہ اپنی غربت ختم کرنے اور گھر کے حالات سنوارنے کے خواب لئے 2023ء میں ورک ویزے پر سعودی عرب گئی۔ نقی اسکی ایک سہیلی نے اہل خانہ کو فون پر بتایا کہ سویٹی اب ہم میں نہیں رہی، پھر اس نے ایک ویڈیو ارسال کی، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر چلتی نظر آئی۔ اہل خانہ کے مطابق اسے سعودی عرب پہنچنے کے چھ ماہ بعد ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، اسے مہینے میں فقط ایک بار اپنے اہل خانہ سے بات کی اجازت تھی۔ جس میں وہ صرف یہ بتاتی کہ وہ جیل میں ہے، جلد رہا ہو کر ان سے آن ملے گی، اس نے کسی بھی قسم کا سوال کرنے سے منع کر رکھا تھا، اس نے کبھی جیل جانے کی وجہ نہیں بتائی۔ آخری مرتبہ اس نے اپنے اہل خانہ سے گزشتہ منگل کو گفتگو کی، جس کے بعد بدھ کو سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
سزا پانے والے نوجوان کا تعلق براہمن باریا سے ہے، اس کے والد نے بتایا کہ بدھ کو اسے اطلاع ملی کہ اس کے بیٹے کی سزا پر عمل درآمد کر دیا ہے، اس نے آخری کال اتوار کو کی، اور میری طبیعت پوچھی، وہ گزشتہ تین سال سے جیل میں تھا۔
سزا پانے والے لڑکے اور لڑکی کی شناخت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں گئیں۔ پوری دنیا میں ان کا انتظار کیا جا رہاہے۔ عالمی میڈیا پر یہ واقعہ چھایا ہوا ہے، آج کسی کو یاد نہیں کسی ملک نے کس ملک کا گھیرائو کر رکھا ہے، کون کہاں بلا جواز بمباری کر رہا ہے، کون کس کے وسائل پر قبضے کے خواب کو تعبیر دینا چاہتا ہے، کہاں بھوک و پیاس اور ادویات نہ ملنے سے لاکھوں بچے ہلاک ہوئے، کہاں مردوں کا قتل عام کب سے جاری ہے، اور کہاں کہاں مسلمان عورتوں کی آبروریزی کے ہزاروں واقعات سامنے آ چکے ہیں ۔
عالمی میڈیا پر یہ واقعہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر کے مڈ ٹرم الیکشن تک تازہ رکھا جائے گا۔ بنگلہ دیشی جوڑے کا جرم کیا ہے، وہ کب سے جیل میں تھے، ابھی کچھ واضح نہیں، واضح ہے تو بس صرف ایک بار وہ اس کے منظر عام پر آنے کی ٹائمنگ ہے، سر قلم کہانی میں حقائق سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق انہیں فحش فعل کے ارتکاب میں یہ سزا دی گئی ہے۔ عدنان خشوگی قتل کے بعد عالمی میڈیا اس واقعے کو خوب جگہ دے رہا ہے۔





