فیلڈ مارشل کا دورہ ایران

اداریہ۔۔۔۔
فیلڈ مارشل کا دورہ ایران
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنا بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، بداعتمادی اور ممکنہ تصادم کے خطرات سے دوچار ہے، پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینا ایک ذمے دارانہ اور دُوراندیش طرزِ عمل ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران اسی سفارتی کوشش کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور خطے کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال، دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تنا میں کمی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری بریگیڈئیر جنرل محسن رضائی سے ملاقاتوں میں علاقائی صورتِ حال، دو طرفہ روابط، سفارت کاری اور عالمی معاملات پر گفتگو اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ پیچیدہ مسائل کا حل طاقت کے اظہار سے زیادہ سنجیدہ مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے میں کسی نئے تصادم کے اثرات محض دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، تجارت، توانائی کی فراہمی اور انسانی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ امن کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے جو جنگوں کے باعث اپنے گھر، روزگار اور مستقبل کھودیتے ہیں۔ سیاسی بیانات اور تزویراتی مباحث اپنی جگہ، مگر عام شہری کے لیے امن کا مطلب بچوں کی محفوظ زندگی، روزگار کے مواقع، مہنگائی میں کمی کے امکانات اور معمولاتِ زندگی کا تسلسل ہے۔ جنگ کے شعلے سرحدوں کو پہچانتے نہیں، ان کی تپش پڑوسی ملکوں کی معیشتوں، منڈیوں اور معاشرتی حالات تک پہنچتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کا تنائو کم کرنے اور بات چیت کی راہیں کھلی رکھنے پر زور دینا محض سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ خطے کے عوام کے مفادات سے جڑا ہوا عمل ہے۔ تہران میں ہونے والی گفتگو کے تناظر میں ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ اختلافات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایرانی قیادت کی جانب سے افزودہ جوہری مواد ایران میں رکھنے کے موقف اور امریکا سے مذاکرات کے لیے اعتماد سازی اور اپنی شرائط پوری ہونے پر اصرار سے واضح ہے کہ معاملہ حساس اور پیچیدہ ہے۔ ایسے اختلافات کا فوری حل آسان نہیں، لیکن سفارت کاری کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ فریقین کے موقف کو سمجھتے ہوئے تصادم کے بجائے قابلِ قبول راستہ تلاش کیا جائے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی فریق کے خلاف محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے رابطے، تحمل اور پُرامن حل کی حوصلہ افزائی کرے۔ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں، جن کے درمیان جغرافیہ، تاریخ، مذہبی و ثقافتی روابط اور مشترکہ سرحدی مفادات موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں اعتماد اور تعاون نہ صرف سرحدی علاقوں کے امن کے لیے ضروری ہے بلکہ تجارت، توانائی، آمدورفت اور عوامی روابط کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ عاصم منیر کی جانب سے پاکستان ایران سرحد کے مسئلے کے حل اور سرحد دوبارہ کھلنے کی اطلاع ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سرحدوں کا محفوظ اور قانونی طور پر فعال رہنا مقامی آبادیوں کے روزگار، دوطرفہ تجارت اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم اس پیش رفت کو پائیدار بنانے کے لیے دونوں جانب مسلسل رابطہ، عملی تعاون اور باہمی اعتماد ضروری ہوگا۔ پاکستان خود معاشی دبا، مہنگائی، توانائی کی ضروریات اور داخلی سلامتی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں خطے میں جنگ یا طویل کشیدگی اس کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی براہِ راست عام شہری کی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس لیے امن کی کوشش پاکستان کے لیے کوئی دُور کا سفارتی نعرہ نہیں بلکہ اپنے معاشی اور قومی مفادات کا تحفظ بھی ہے۔ ایک مستحکم خطہ تجارت کے فروغ، روزگار کے مواقع اور ترقیاتی تعاون کے لیی بہتر ماحول فراہم کر سکتا ہے۔ البتہ سفارت کاری کی کامیابی صرف ملاقاتوں یا بیانات سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اس کے لیے مستقل رابطے، واضح مقاصد، حقیقت پسندانہ توقعات اور تمام متعلقہ فریقوں کی سنجیدگی درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں میں شفافیت، توازن اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ جہاں ممکن ہو، وہ دوست ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ مل کر مکالمے کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکا سمیت متعلقہ فریقوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ عدم اعتماد کی دیواریں یک طرفہ دبائو سے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات اور سنجیدہ مذاکرات سے کم ہوتی ہیں۔ پاکستان کی اہمیت اس کے جغرافیائی محلِ وقوع، مسلم دنیا سے روابط اور مختلف فریقوں کے ساتھ بات چیت کی صلاحیت میں بھی ہے۔ تاہم اس صلاحیت کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس سفارتی حکمتِ عملی اپنائے اور ہر قدم پر امن، خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کی حمایت کرے۔ امن کے لیے کوشش کرنا کمزوری نہیں، یہ اس سیاسی بصیرت کی علامت ہے جو ممکنہ نقصان کو بروقت روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوشش کرتی ہے۔ آج خطے کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو اشتعال کم کریں، انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں اور سیاسی اختلافات کو جنگ میں بدلنے سے روکیں۔ تہران کا دورہ اسی بڑے مقصد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کی اصل کامیابی تب ہوگی جب رابطے جاری رہیں، سرحدی تعاون مضبوط ہو اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی پیش رفت سامنے آئے۔ پاکستان کو اپنی اس کوشش کو تسلسل دینا چاہیے، کیونکہ امن کسی ایک ملک کی کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔
شذرہ۔۔۔۔۔
بلوچستان میں امن کی جنگ
بلوچستان میں گزشتہ دو برس کے دوران 60ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں اور 1100عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے سرکاری اعداد و شمار اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ غیر معمولی سنجیدگی اختیار کرچ کا ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 550مبینہ عسکریت پسند گرفتار بھی کیے گئے جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے 300سے زائد اہلکار اور افسران جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ قربانیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ امن کا قیام محض انتظامی ذمے داری نہیں بلکہ قومی استحکام کی بنیادی ضرورت ہے۔ تاہم کسی بھی انسدادِ دہشت گردی مہم کی کامیابی کا پیمانہ صرف کارروائیوں کی تعداد یا ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے اعداد و شمار نہیں ہونے چاہئیں۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، شاہراہیں بلاخوف استعمال کر سکیں، کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں اور خاندانوں کو اپنے پیاروں کے اغوا یا حملوں کا اندیشہ نہ رہے۔ کمشنر اسداللہ کاکڑ اور دیگر مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے حکومتی یقین دہانی بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ عوام کو بیانات کے ساتھ عملی نتائج بھی درکار ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف 14ارب روپے خرچ کیے گئے، 18نئے قوانین منظور ہوئے اور 17محکمے قائم کیے گئے۔ سیف سٹی منصوبے، نگرانی کے کیمروں اور سیکیورٹی مراکز کا قیام بھی قابلِ توجہ اقدامات ہیں، لیکن ان تمام کوششوں کی ثمرات اسی وقت حاصل ہوں گے جب اداروں کے درمیان مثر رابطہ، جدید تفتیش، شفاف نگرانی اور قانون کی یکساں عمل داری یقینی بنائی جائے۔ قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کا اصل امتحان منصفانہ اور موثر نفاذ ہے۔ شور پارود میں قریباً 30ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ اگر سیکیورٹی ضروریات کے باعث شہریوں کی نقل مکانی ناگزیر ہو تو ان کی جان، عزت، رہائش، خوراک، علاج اور بچوں کی تعلیم کے تحفظ کے لیے مکمل انتظامات ہونے چاہئیں۔ عوام کو اعتماد میں لینا اور ان کے حقوق کا احترام کرنا ریاستی ذمے داری ہے۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ تعلیم، روزگار، صحت، بنیادی سہولتوں اور سیاسی شمولیت کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ محرومیوں کا ازالہ دہشت گردی کے جواز کے طور پر نہیں، بلکہ عوام کو تشدد سے دُور رکھنے اور ریاست سے ان کا تعلق مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ بلوچستان کا امن پورے پاکستان کا امن ہے۔ حکومت، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور عوام کو اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ مضبوط سیکیورٹی، انصاف اور ترقی کا امتزاج ہی ایسا ماحول پیدا کر سکتا ہے جہاں خوف کی جگہ اعتماد اور بدامنی کی جگہ خوش حالی لے سکے۔







