عدالتی حکم کی خلاف ورزی، تنہائی کی اذیت اور تاریخ کا موڑ

عدالتی حکم کی خلاف ورزی، تنہائی کی اذیت اور تاریخ کا موڑ
تحریر خواجہ عابد حسین
سپریم کورٹ نے 18اگست 2026ء کو واضح حکم دیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو دن کے اندر عدلیہ جیل سے اسلام آباد کے شیفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں وہ 16ستمبر کی اگلی سماعت تک رہیں، پانچ ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان علاج میں شریک رہیں، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں اور لندن میں مقیم بیٹوں سے ہفتے میں دو بار فون کالز کی اجازت دی جائے۔ یہ حکم بنیادی حقوق کے تحفظ کے تحت جاری کیا گیا تھا۔
لیکن کیا ہوا؟ حکومت نے اس حکم کو ’’ حرف بہ حرف‘‘ نافذ کرنے کا دعویٰ کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو شیفا کے بجائے پی آئی ایم ایس لے جایا گیا، مختصر طبی جانچ کے بعد ’’ صحت مند‘‘ قرار دے کر فوری طور پر عدلیہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔ سرکاری دلیل ’’ سیکیورٹی‘‘ تھی، پی ٹی آئی حامیوں کا ہجوم۔ حالانکہ شفا تک ڈیکوئے قافلے بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچے تھے۔ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اس طرح مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ شاید حکمران چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ نہ رہے۔
ہمارے خیال میں یہ پوری’’ ایکسرسائز‘‘ دراصل صرف عمران خان کی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے تھا۔ اور اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عمران خان زندہ ہیں۔
آج کا دن بہت بھاری ہے۔ ریاست عوام سے بنتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اور اسی دوران آرٹیکل 245کے تحت راولپنڈی میں تین کمپنیاں پاک فوج کی چھ ماہ کے لیے ’’ حساس سیکیورٹی ڈیوٹیز‘‘ اور غیر متوقع حالات کے لیے تعینات کر دی گئی ہیں۔ سرکاری وجہ: پنجاب حکومت کی درخواست۔ حقیقت: کوئی واضح خطرہ نہیں ، مگر عدلیہ جیل والے اور شہر میں فوجی موجودگی بڑھ گئی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ عمران خان کی صحت واقعی سنگین مسائل کا شکار ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ ان کی صحت کا بوجھ حکومت، ڈاکٹروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ بانٹ رہی ہے۔ مگر اصل اذیت ذہنی ہے: تنہائی، کوئی انسانی ملاقات نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں۔ یہ تنہائی بین الاقوامی اور پاکستانی قانون کے تحت تشدد ہے۔ بہنیں عظمیٰ، نورین اور علیمہ بی بی بار بار اس کا ذکر کر چکی ہیں۔
حکمران سمجھتے ہیں کہ جیل کی دیواروں اور فوجی تعیناتیوں سے عوام کی آواز دب جائے گی۔ مگر ریاست عوام سے بنتی ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم، تنہائی کی اذیت، اور راولپنڈی میں بغیر کسی الرٹ اور خطرے کے فوجی موجودگی، یہ سب مل کر ایک حقیقت ظاہر کر رہے ہیں: طاقت کا جال اب خود اپنے بنانے والوں کو گھیر رہا ہے۔ عمران خان کی ہمت اور ان کی بہنوں کی استقامت نے ثابت کر دیا کہ سچائی اور صبر آخرکار تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ آج کا بھاری دن کل کی آزادی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم ٹا ن لاہورپریس ریلیز
لاہور( ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹان شپ لاہورکے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبو کانفرنس جامع مسجد مدینہ میں منعقد ہوئی، کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امت کے تمام طبقات نے بھرپور انداز میں شرکت کی، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہرمسلمان کی ذمہ داری اورمذہبی فریضہ ہے۔تمام مسلمانوں کو اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جذبہ صدیقی سے سرشار ہوکرمیدان عمل میں نکلنا ہوگا۔قادیانی ایک سازشی گروہ ہے جس نے ہمیشہ آئین پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ قادیانی اسلام، مسلمان اور پاکستان کے لیے یہود وہنود سی بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی محمدزبیرحسن، مبلغ مجلس لاہور مولانا عبد النعیم، مولانا محمدیوسف شیخوپوری،خواجہ غلام دستگیر فاروقی، قاری حبیب الرحمن، مولانا محمدخان، مولانا مختارالحق ظفر، پیرمحمدآصف،مولانا محمدمہتاب فاروق، مولانا محمدعمران نقشبندی،مولانا ابونکر خان، مولانا محمداسلم، مولانما محمدکاشف بلال سمیت متعدد دینی ومقتدر شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما ء مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ اندرون ملک وبیرون ممالک کی کئی عدالتوں نے قادیانیت کے کفر پر مہر ثبت کردی ہے قادیانیوں کی سازشوں کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دینگے قادیانیت اپنے منطقی انجام کو پہچنے والی ہے،قادیانی فتنے کا خاتمہ قریب ہے۔ مولانا عبدالنعیم نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع دراصل اسلام کا فاع ہے،قادیانی جہاں بھی جائیں گے ان کا مقابلہ دلائل اور براہین سے کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ عقید ختم نبوت کا دفاع کرنے والے ہر وقت اسلام کی افضل ترین عبادت میں مصروف ہیں۔مولانا خواجہ غلام دستگیر فاروقی نے کہا کہ قادیانیت کا فتنہ یورپی ممالک کا تربیت یافتہ، اسرائیل کا ایجنٹ اور صہیونی قوتوں کے مفادات کیلئے پیدا کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا وجود ننگ انسانیت و ملت اسلامیہ کیلئے ناسور اور اسلام وایمان کیلئے زہر قاتل ہے،۔مولانا مہتاب نے کہا کہ قاد یانیوں کو احمدی ہرگز نہیں کہنا چاہیے کیونکہ احمد ہمارے نبیٔ کا نام ہے تو لہذاٰ ہم مسلمان احمدی ہیں، حرمت رسول ٔ کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دینا دنیوی واخروی نجات کا سبب اور ذریعہ ہے۔ کانفرنس کے آخر میں علماء نے سامعین سے وعدہ لیا کہ 7ستمبر وحدت روڈ کرکٹ گرائونڈ میں منعقد ہونیوالی کانفرنس کی بھرپور تیاری کریں اور قافلوں کی صورت میں کانفرنس میں شریک ہوں۔







