ستلج ویلی منصوبہ، تقدیر بدل سکتا ہے

ذرا سوچئے
ستلج ویلی منصوبہ، تقدیر بدل سکتا ہے
امتیاز احمد شاد
ذرا تصور کیجیے کہ ایک طرف دریائے ستلج پوری روانی سے بہہ رہا ہو اور دوسری طرف دور تک پھیلا صحرا پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا ہو۔ تقریباً ایک صدی پہلے یہی صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دے رہی تھی: پانی کو وہاں کیسے پہنچایا جائے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ یہ صرف انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک پورے خطے کے مستقبل کا سوال تھا۔ اسی سوچ نے ستلج ویلی منصوبے کو جنم دیا، جس نے پانی، زراعت، آبادی اور معیشت کے تعلق کو ایک نئی شکل دی۔ آج جب پاکستان پانی کی کمی، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی زرعی ضروریات کا سامنا کر رہا ہے، یہ تاریخی منصوبہ ہمیں ماضی کی کاوشوں کے ساتھ مستقبل کی ترجیحات کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
انیسویں صدی کے آخری برسوں میں ریاستِ بیکانیر شدید خشک سالی اور قحط کی زد میں تھی۔ 1899ء اور 1900ء کے قحط نے صورتحال مزید سنگین کردی۔ مہاراجہ گنگا سنگھ نے اس بحران کو قسمت کا فیصلہ سمجھنے کے بجائے ایک انجینئرنگ مسئلہ قرار دیا۔ 1903ء میں انجینئر اے۔ ڈبلیو۔ ای۔ اسٹینڈلی کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ دریائے ستلج کا پانی بیکانیر کے خشک علاقوں تک پہنچایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ ممکن تھا۔ یوں ایک خواب نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی شکل اختیار کی۔ اس کا بنیادی سبق یہ تھا کہ پانی کی کمی کو صرف قدرتی مجبوری سمجھنے کے بجائے تحقیق اور انجینئرنگ کے ذریعے اس کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
لیکن منصوبہ صرف انجینئرنگ سے مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ بیکانیر دریائے ستلج کے کنارے واقع نہیں تھا اور اس کے راستے میں ریاستِ بہاولپور موجود تھی۔ سوال پانی کے حق اور تقسیم کا تھا۔ کئی برس مذاکرات جاری رہے اور بالآخر پنجاب، بہاولپور اور بیکانیر کے مفادات کو ایک میز پر لایا گیا۔ 1920ء میں شملہ میں تاریخی معاہدہ طے پایا، جس نے ستلج ویلی منصوبے کی راہ ہموار کی۔ یہ اس حقیقت کی مثال تھی کہ بڑے آبی منصوبوں کے لیے انجینئرنگ کے ساتھ سیاسی اتفاقِ رائے، مذاکرات اور مختلف فریقوں کے مفادات میں توازن بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس منصوبے پر سرمایہ کاری بھی غیر معمولی تھی۔ 1926ء اور 1927ء کے اختتام تک قریباً 12کروڑ 19لاکھ روپے خرچ ہوچکے تھے۔ بہاولپور اور بیکانیر کا مشترکہ حصہ قریباً 6کروڑ 11لاکھ روپے جبکہ برطانوی حکومت کا حصہ قریباً 6کروڑ 8لاکھ روپے تھا۔ بہاولپور کے لیے یہ محض مالی سرمایہ کاری نہیں بلکہ مستقبل کی زراعت اور معیشت میں سرمایہ کاری تھی۔ نہریں بننی تھیں، بنجر زمینیں آباد ہونی تھیں، زرعی پیداوار بڑھنی تھی اور ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہونا تھا۔ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہاولپور کو قرض بھی لینا پڑا۔ یعنی اس وقت کے حکمرانوں نے موجودہ مالی مشکلات کے باوجود آنے والی نسلوں کے فائدے کو ترجیح دی۔
منصوبے کے تحت قریباً 90لاکھ ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کا ہدف سامنے تھا، جس میں قریباً 35لاکھ ایکڑ ریگستانی علاقہ شامل تھا۔ گنگا نہر کے ذریعے ستلج کا پانی بیکانیر تک پہنچا اور وقت کے ساتھ ان علاقوں میں زراعت، آبادی اور معیشت نے نئی شکل اختیار کی۔ پانی زمین تک پہنچا تو معلوم ہوا کہ نقشے پر قابلِ کاشت نظر آنے والی ہر زمین حقیقت میں زرعی صلاحیت نہیں رکھتی۔ بہاولپور کی عباسیہ نہر اس کی مثال تھی۔ اس کا کمانڈ ایریا قریباً 2لاکھ 70 ہزار ایکڑ تصور کیا گیا، مگر تحقیقات میں صرف قریباً 30ہزار ایکڑ زمین واقعی قابلِ کاشت پائی گئی۔ 1932ء تک منصوبے کے تقریباً 2,313 میل نہری نظام میں سے تقریباً 473 میل نہریں مستقل طور پر ترک کردی گئیں۔
یہاں منصوبہ بندی کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ ابتدائی نقشہ ہر قیمت پر مکمل کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ زمینی حقائق سامنے آنے پر فیصلوں میں تبدیلی کی جائے۔
یہ پوری تاریخ دراصل انسان اور پانی کے تعلق کی تاریخ ہے۔ مقامی آبپاشی سے لے کر منظم نہری نظام اور بڑے بیراجوں تک ہر دور نے اپنے مسائل کا حل تلاش کیا۔ مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ آبادی بڑھ چکی ہے، زرعی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے اور پانی کے ذخائر پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ اس لیے صرف نئی نہریں بنانا کافی نہیں۔ پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے، ضیاع کم کرنے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین پانی بحال کرنے اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دینے کی جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ماضی کی کاوشیں آج کی ضرورت بن جاتی ہیں۔ تقریباً ایک صدی پہلے محدود وسائل رکھنے والی ریاستوں نے پانی کو مستقبل کی بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج پاکستان کے پاس انجینئرز، ٹیکنالوجی، تحقیقی ادارے اور وسیع زرعی تجربہ موجود ہے۔ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دستیاب پانی کو کیسے تقسیم کیا جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کیسے محفوظ کیا جائے، ضیاع کیسے روکا جائے اور بنجر زمینوں کو سائنسی بنیادوں پر کیسے آباد کیا جائے۔
حکومتیں چند سال کے لیے آتی ہیں، لیکن آبی منصوبوں کے اثرات کئی نسلوں تک رہتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کو ایسی قومی آبی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو سیاسی ادوار سے بالاتر ہو۔ نئے آبی ذخائر، موجودہ نہری نظام کی بحالی، پانی کے ضیاع میں کمی، بارش کے پانی کا ذخیرہ، زیرِ زمین پانی کی بحالی اور جدید آبپاشی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ پانی کو صرف بحران نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔ اگر ایک صدی پہلے محدود وسائل کے باوجود صحرا تک پانی پہنچانے کا خواب دیکھا اور عملی شکل دی جاسکتی تھی تو آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس سے بڑا خواب کیوں نہیں دیکھا جاسکتا؟۔
ستلج کی یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ پانی کو راستہ دیا جائے تو زمین کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے خواب کے ساتھ تحقیق، منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور مستقل مزاج قیادت ضروری ہے۔ ماضی کی نسلوں نے اپنے وسائل استعمال کرکے آنے والی نسلوں کے لیے بنیاد رکھی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کا تجربہ صرف تاریخ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے مستقبل کی پالیسی میں تبدیل کریں۔ پاکستان کے پاس دریا ہیں، زمین ہے، کسان ہیں اور پانی کے انتظام کی ایک طویل تاریخ بھی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان تمام وسائل کو ایک قومی وژن کے تحت جوڑا جائے۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا ہم پانی کے بحران کو آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ دیں گے یا اسے پاکستان کی نئی زرعی اور معاشی ترقی کی بنیاد بنائیں گے؟ ستلج ویلی منصوبے کی ایک صدی پرانی داستان آج بھی یہی پیغام دیتی ہے کہ بڑے مسائل کا حل بڑے خواب، طویل المدت منصوبہ بندی اور فیصلہ کن قیادت سے نکلتا ہے۔ اُس وقت مقصد صحرا کو آباد کرنا تھا، آج مقصد پاکستان کے پانی کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ ماضی کی کاوشیں ہمیں راستہ دکھا چکی ہیں؛ اب فیصلہ ہماری قیادت کو کرنا ہے کہ ہم اس راستے پر آگے بڑھتے ہیں یا نہیں۔







