Abdul Hanan Raja.Column

لانگ مارچ سے شارٹ تک  

لانگ مارچ سے شارٹ تک

تحریر : عبد الحنان راجہ

تاریخ: پانچ اکتوبر۔ مقصد: کپتان کی رہائی۔ منزل: اسلام آباد۔ متوقع شرکا:40لاکھ۔ قیادت کی جانب سے کیے گئے اعلان اور وعدہ کے مطابق PTIکا لانگ مارچ ایک بار پھر پوری تیاری، نظم و ضبط، اتحاد و یگانگت کے ساٹھ ان سطور کی اشاعت تک شروع ہو چکا ہو گا۔ راہنما لاکھوں مخلص کارکنان کے پرجوش اجتماع کے ساتھ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہوں گے۔ اس بار مقبول عام جماعت کا نعرہ اور مقصد ’’ جیل کے دروازے ٹوٹیں گے، کپتان ہمارے چھوٹیں گے‘‘کہ اس کی خاطر حکومتی فرائض و ذمہ داریوں سے غافل نوجوان محترم وزیر اعلیٰ نے ماحول اتنا گرمایا کہ اب عوامی سمندر کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ چشم تصور میں تاحد نگاہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہیں اور جذبات کا طلاطم ایسا کہ کوئی رکاوٹ روک نہ پائے لانگ مارچ کے راستے جگہ جگہ مرد و زن پھولوں کی پتیاں لیے شرکا مارچ پر نچھاور کرنے کو تیار۔ استقبال ایسا کہ وزیر اعلی خود کو مقبولیت و شہرت کے آسمان پر محسوس کر رہے ہوں گے کہ اب عہد نبھانے اور جان لٹانے کا لمحہ آن پہنچا کہ اس کا سبھی کو تھا انتظار۔ یورپ، برطانیہ، خلیجی ممالک اور امریکہ تک سے جانبازوں کے قافلے کے قافلے ائیر پورٹس کی طرف اور کارکنوں سے لدے جہاز اسلام آباد کی سرزمین پر۔ لاکھوں Likes کے حامل اینکرز اور یو ٹیوبرز کارکنان کے جذبات کو مہمیز لگانے، لمحہ بہ لمحہ مارچ کی خبر دینے اور فریق مخالف کی خبر لینے کو آن موجود۔ کہ ان کی دی ہوئی ایک ایک خبر نے ہر بار اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کیا۔ یہ ناہنجار یورپ و امریکہ کے پرتعیش ماحول کو خیر آباد کہہ کر 5اکتوبر کی شام بنفس نفیس میدان کارزار میں آن وارد ہوں گے تو پھر سوچئے کہ کئی millionفالورز کے حامل جب اپنے چاہنے والوں کے دماغوں پر سوار مارچ کے شرکا کو پل پل اور اندر کی خبریں بہم پہنچا پہنچا کر ان کا لہو گرما رہے ہوں گے تو جذبات کے اس طلاطم کے آگے بند باندھنا کس کے بس میں۔؟ اسی لیے تو صاحبان اقتدار کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ بڑھو جوانو قوم تمہارے ساتھ ہے۔ شہر لاہور سے صحافت کے بے تاج بادشاہ کے تذکرے کے بغیر کالم بے مزہ کہ جن کی وجہ شہرت کپتان بارے بلند دعویٰ اور پیش گوئیاں۔ اگرچہ گزشتہ تین سالوں میں ان کی لاتعداد خبریں جھوٹی ثابت ہوئیں مگر اس کے باوجود یہ ثابت قدم۔ ان کے تجزیے ڈگمگائے نہ آواز خاموش۔ خاص بات یہ کہ وہ ہر وی لاگ کا آغاز اللہ کے با برکت نام اور نبی آخر الزماں پر درود و سلام سے کرنے کے بعد اندر کی خبریں دیتے ہیں اور بند کمروں کی سرگوشیاں ہد ہد سلیمان کی طرح جاننے کے دعویٰ دار۔

اپنے قائد سے عقیدت و جذبات کا ایسا طلاطم چشم فلک نے کبھی دیکھا نہ ہو گا، اب دعا ہے کہ وطن کی شاہراہیں تنگ پڑیں اور نہ میدان چھوٹے۔ کپتان کے چاہنے والوں کے زور دار نعروں سے زمین کانپ رہی ہو گی اور میلوں دور تخت شہباز اور قلب شریف دہل رہا ہو گا جبکہ مدبر اچکزئی جیل کے دروازے پر سیڑھی سمیت اندر کودنے کو آن موجود۔ کہ اب وقت آن پہنچا کہ جس کا قوم کو انتظار تھا۔ 05اکتوبر کو پاکستانی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہونے کو کہ غریبوں کی بھوک کا مداوا ہو گا ریاست بے سہاروں کا سہارا بنے گی۔ انصاف کا راج ایسا کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر، قانون کی علمداری کا سورج طلوع ہو گا اور لاقانونیت اپنی موت مر جائے گی۔ BLAہو یا TTPسبھی تائب ہوں گے، شر پسند بھاگ جائیں گے اور کوئی ایمبولینس رکے گی، میٹرو جلے گی اور نہ نجی و سرکاری املاک کے شیشے ٹوٹیں گے۔ اب امن کی فاختہ ہر سو بولے گی۔ ملک ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا اور کپتان کالے رنگ کی شیروانی میں ملبوس پھر سے عالم اسلام کی قیادت کا ذمہ اٹھائے کو تیار۔ ریاست مدینہ کا خواب جھوٹ، بہتان بے حیائی و فحاشی کے خاتمہ سے پورا ہو گا۔ عمال حکومت اہل، باکردار اور ایسے امانت دار کہ فرشتے گواہی دیں۔ رشوت ہو گی نہ سفارش چلے گی۔ مہنگائی کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔ ( نوٹ : کالم مرشد کی محبت میں اسیر کارکن کے تخیل سے ماخوذ ہے )۔ لانگ مارچ سے جیل کون جاتا ہے اور جیل سے لانگ مارچ میں کون آتا ہے نگاہیں اس کی منتظر۔

آقا کریمؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے بہتر مسلمان کون تو آپؐ نے فرمایا کہ’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں‘‘۔

سر پہ تہمت و بہتان اٹھا لیتے ہیں

ہم مروت میں ہی نقصان اٹھا لیتے ہیں

زخم جب کوئی دکھاتا ہوں تو احباب مرے

طنز کرتے ہیں ، نمک دان اٹھا لیتے ہیں

ہماری زبان اور ہاتھ سے کون کتنا محفوظ، گریبان میں جھانکنا اور خود کو تبدیل کرنا ہو گا۔ پاکستان پائندہ باد !

جواب دیں

Back to top button