ملک ایسے نہیں چلتے!!

ملک ایسے نہیں چلتے!!
محمد مبشر انوار
وطن عزیز کی حالت اس وقت عجیب صورت اختیار کر چکی ہے کہ جہاں قانون کی عملداری کے نام ذاتی بغض و عناد کی تسکین کے علاوہ اپنی اپنی انا کو تقویت پہنچائی جارہی ہے جبکہ قانون مکڑی کا وہ جالا بن چکا ہے کہ جس کو طاقتور و اشرافیہ روندتے ہوئے نکل جاتے ہیں اور کمزور اس میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ عدلیہ کی حالت اس وقت سب سے زیادہ پتلی دکھائی دیتی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں، قانون کی عملداری میں عدلیہ وہ واحد ادارہ تصور ہوتی ہے کہ جو مظلوم کی داد رسی کرتی ہے اور انتظامیہ پر ہر صورت لازم ہوتا ہے کہ عدلیہ کے احکامات کی تعمیل من و عن کی جائے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی عدلیہ کی آزادی اور طاقت دونوں سلب کی جا چکی ہیں اور عدلیہ میں اتنی سکت نہیں کہ اپنے دئیے گئے فیصلوں پر کماحقہ عمل درآمد کروا سکے۔ انتظامیہ جس پر عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانا لازم ہے اگر وہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے یا ان پر عملدرآمد کروانے میں حیلے بہانے، تاویلیں ڈھونڈے اور مقننہ کے ساتھ مل کر عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف قانون سازی کرنے لگے تو ایسے معاشرے میں نہ صرف ناانصافی بڑھے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی عدلیہ سے اٹھ جاتا ہے۔ عوام کا اعتماد اگر اداروں سے اٹھ جائے، بالخصوص عدلیہ سے، تو یہ بات طے سمجھی جاتی ہے کہ ایسے معاشروں میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ سو فیصد ہوتا ہے کہ دیگر محکمے یا ادارے اگر بدنظمی یا غیر قانونی حرکت کے مرتکب بھی ہوں، تب بھی بہرحال یہ عدلیہ ہی ہوتی ہے جو نکیل ڈالنے کی طاقت رکھتی ہے اور بدقسمتی سے اگر عدلیہ کے احکامات کو ہوا میں اڑائے جانے کا تصور عام ہو جائے تو محکمے بے لگام ہو جاتے ہیں، تب عوام اپنے حقوق کے لئے ازخود بروئے کار آتے ہیں، ایسی صورت میں کوئی بھی ریاستی ادارہ یا محکمہ بچ نہیں پاتا۔ پاکستانی عدلیہ کی حالت اس وقت تاریخ میں سب سے کمزور تصور کی جارہی ہے اور اس کا ثبوت پاکستانی عدلیہ کی عالمی رینکنگ سے بھی ملتا ہے، ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی رینکنگ کے مطابق2025ء میں 143ممالک کی عدالتوں کے ڈیٹا کے مطابق پاکستانی عدلیہ کا130واں نمبر ہے جبکہ اس کے بعد جن ممالک کی فہرست ہے، ان میں زیادہ تر افریقی ممالک دکھائی دیتے ہیں۔ حتی کہ اس فہرست میں مصر135ویں نمبر پر موجود ہے، مصر کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں عمران خان کی قید کے حوالے سے جس مماثلت کا ذکر تواتر سے کیا جارہا ہے ،اس میں مصر کے محمد مرسی کی شہادت بعینہ ایسے ہی حالات میں ہوئی، جس سے اس وقت عمران خان دوچار ہیں اور عمران خان خود اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی یہی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو بھی محمد مرسی کی طرح منظر سے ہٹائے جانے کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اپنی کئی تحاریر میں اس امر کا ذکر کر چکا ہوں اور ماہرین قانون بھی یہی کہتے ہیں کہ عمران خان پر قائم مقدمات کی نوعیت ایسی نہیں کہ عمران خان کو جیل میں اتنی سخت سزا دی جائے اور اگر عدالتیں واقعتا آزاد ہوں، عدالتوں پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہ ہو، تو یہ مقدمات چند گھنٹے بھی نہیں ٹھہر سکتے اور ججز کو بری کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا فیصلہ لکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ مگر صد افسوس کہ ماہرین قانون کا یہ دعوی کسی بھی صورت بر آنے کا امکان نہیں ہے کہ ہر وہ کیس، جو اگر عدالتوں میں بروقت لگے اور عمران خان کے وکلاء کو سن کر میرٹ پر فیصلہ ہو، تو ممکنہ طور پر ان ماہرین قانون کے دعوے کی حقیقت سامنے آ سکتی ہے لیکن تب تک ان ماہرین قانون کا یہ دعوی صرف دعویٰ ہی ہے کہ ہماری عدالتوں کے اختیارات اب ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ جس میں صرف جج کو یا بینچ کو دیکھتے ہوئے ہی، فیصلے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔
اس وقت بھی عمران خان کے حوالے سے مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے، جو بتدریج نچلے مراحل سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں اور اس میں بہت سا وقت عدالتی کارروائی میں صرف کرکے، عمران خان کو اسیر رکھا گیا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں عدالتوں کی جانب سے ایسے ہائی پروفائل کیس میں حکومت سے زندگی کی ضمانت طلب کی جاتی رہی ہے جبکہ عمران خان کے حوالے سے ان کی پارٹی کے قائدین سے ہسپتال کے باہر احتجاج یا پارٹی کارکنان یا عوام کے اجتماع نہ ہونے کی ضمانت مانگی جارہی ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری عدالتوں کے معیار اس قدر دہرے ہو چکے ہیں کہ ایک جیسے مقدمہ میں، دوران اسیری ایک سیاسی رہنما کی ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں، اس کی سیاسی گفتگو پر کوئی قدغن نہیں، اس کے ذاتی معالج کی سہولت اس کو ہر وقت میسر، جبکہ دوسری سیاسی رہنما سے علاج معالجے کی سہولت دینے سے قبل، اس کی سیاسی مصروفیات کی معطلی کی ضمانت مانگی جارہی ہے۔18اگست کو کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، کے مصداق سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے، طبی رپورٹس کی سمری کو دیکھتے ہوئے، حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ان ضمانتوں کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے عبوری حکم میں یہ بھی کہا کہ ایک میڈیکل بورڈ، جس میں ان امراض کے ماہرین شامل ہوں، جن امراض کا حوالہ عمران خان کی رپورٹس میں کی گئی تھی، تشکیل دیا جس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز کے علاوہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان کو شامل کیا جائے، اور اس کے ساتھ ہی مقدمہ کی سماعت 16ستمبر تک ملتوی کر دی۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت بغیر کسی رد و کد کے، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرواتی لیکن ایک طرف حکومتی رہنمائوں کی طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا تو دوسری جانب چند وزراء نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دیا، 19اگست کو نظر ثانی کی درخواست دائر بھی کی گئی لیکن اس دوران میڈیا پر ایک بحث چل نکلی جس میں تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو 16ستمبر تک ہسپتال رکھا جائے گا جبکہ نظر ثانی درخواست میں حکومت کی جانب سے بھی ایسی ہی بات کی گئی، جسے اس بحث کے بعد حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ نظر ثانی درخواست میں عمران خان کو اگلی سماعت تک ہسپتال میں رکھنے پر اتفاق کر کے، عدالتی فیصلے کو تسلیم کر چکی ہے۔ اس صورت میں ہوتا یہ کہ نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران عمران خان کے ستمبر تک ہسپتال رہنے پر مہر ثبت ہو جاتی جو حکومت کو بہرحال منظور نہیں لہذا خبریں یہی ہیں کہ درخواست کو ڈائری نمبر لگنے کے باوجود، اس پر اعتراضات عائد کروا کر، درخواست واپس لی گئی اور 20اگست کو پھر درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جبکہ اس دوران سپریم کورٹ کی دی گئی دو دنوں کی مہلت کے آخری لمحات میں، اڈیالہ جیل سے دو قافلے نکلے، ایک قافلے میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو لے کر شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچا جبکہ دوسرے میں عمران خان اور ڈاکٹر عظمی خان رات کی تاریکی میں پمز ہسپتال پہنچے، جس کی تصدیق وفاقی وزیر عطا تارڑ نے اپنے ایکس پیغام میں کر دی اور جواز یہ بنایا کہ چونکہ تحریک انصاف کے کارکن موجود تھے، اس لئے عمران خان کو شفا کی بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا البتہ جن ڈاکٹرز نے عمران خان کا چیک اپ کیا، ان میں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ بہرحال حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کی حکم عدولی ہو چکی کہ سپریم کورٹ نے انتہائی واضح الفاظ میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ حکومت نے ان احکامات کی رتی برابر پرواہ نہ کرتے ہوئے، عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے، صرف وزٹ کروا کر دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا ہے۔ جبکہ نظر ثانی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت عظمی نے حکم دیتے ہوئے جیل رولز کو نظر انداز کر دیا ہے اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو اس میں فریق نہیں بنایا گیا کہ یہ درخواست بھی چیف کمشنر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس کا مقصد بہرحال سوائے عمران خان کو ملنے والے انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے بلکہ اس کے مسلمہ انسانی حقوق بھی سلب کرنا ہے۔ حکومت، حکمران یا انتظامیہ عوام الناس کو انصاف اور انسانی حقوق فراہم کرنے کے ضامن ہوتے ہیں لیکن جب ضامن، خود خائن بن جائیں تو عوام الناس کا کیا حال ہو گا ؟ یہاں یہ امر بھی بہرحال برمحل ہے کہ حکمرانوں کو لانے والے اپنے پورے جتن کر چکے کہ کسی طرح حکومت اپنے معاملات سنبھال لے، مگر بدقسمتی سے حکمرانوں کے کردہ و ناکردہ ( حقیقت تو یہی ہے کہ جو لائے ہیں، وہی ذمہ دار ہیں) اعمال کی ساری وصولی لانے والوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے، اس لئے وہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی منظر سے ہٹے دکھائی دیتے ہیں، جو بہرحال ایک مفروضہ ہے اور سچ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ایسے رویوں سے ملک نہیں چلا کرتے!!







