Abdul Hanan Raja.Column

سیاست اور حماقت کا گٹھ جوڑ

سیاست اور حماقت کا گٹھ جوڑ

عبدالحنان راجہ

جرمن فلاسفر بون بوفر ہوں، اطالوی معاشی مورخ کارلو ایم چییولا، ابونصر فارابی ہوں یا محمد الغزالی سبھی اس پر متفق کہ ’ احمق سے بات چیت اور بحث فضول کہ وہ اس سے قائل نہیں ہوتا ‘۔

امام غزالی نے اس بارے لکھا کہ ’’ احمق حکمران کا سب سے بڑا عیب کہ وہ اپنی رائے کو سب سے مقدم اور مشورے سے انکار کرتا ہے‘‘۔

امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلینکسی کے حالات ہی دیکھ لیجیے۔ یوکرین کے صدر زیلینکسی کی مثال عوامی مقبولیت اور حماقت کا امتزاج۔ روسی مخالفت کے باوجود نیٹو میں شمولیت کے پاپولر نعرے کے نام پر یوکرینی عوام نے ایک اداکار کا انتخاب کیا مگر اب نیٹو بچا نہیں پا رہا اور ہزاروں مربع میل روسی قبضہ میں جبکہ آئے روز ہلاکتیں اس سے سوا۔ کثرت سے رنگ بدلنے کے قول کئی ایک رہنمائوں پر صادق مگر ٹرمپ اس کا بڑا استعارہ۔

پاکستان ہی کیا دنیا بھر میں تعلیم یافتہ احمقوں کی کمی نہیں حتی کہ غیر ملکی اداروں سے فارغ التحصیل بھی احمق بن جاتے ہیں یا بنا دئیے جاتے ہیں۔ احمق کی تباہ کاریوں کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ عہدے پر فائز ہو۔

حضرت عیسیٌٰ سے پوچھا گیا احمق کون ہوتا ہے تو آپٌ نے فرمایا: ’’ جو خود پسند ہو، ہر فضیلت اور حق کو اپنے لیے جانے اور اپنے اوپر کسی کے حق کو نہ مانے‘‘۔ باب الحکمت فرماتے ہیں کہ کثرت سے رنگ بدلنا احمق کی نشانیوں میں سے ہے۔

ماضی میں جب جرمنی کا ستارہ عروج پر اور جرمن قوم نے صنعتی ترقی میں انقلاب برپا کر رکھا تھا۔ امن، سکون اور خوشحالی سبھی کچھ تو جرمن قوم کے پاس تھا۔ مگر کوئی سوچ سکتا تھا کہ جرمن جیسی تعلیم یافتہ، مہذب اور قومیت کے جذبہ سے سرشار قوم دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے احمقانہ فیصلوں کے پیچھے کھڑی ہو جائے گی۔ نرگسیت کے حامل راہنما کے دور میں دانش کی بات موت کو دعوت تھی۔ اور پھر بون بوفر جیسے دانش ور کو موت کے گھاٹ اتار بھی دیا گیا۔

حکما کے مطابق حماقت کا علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے اثر اور طاقت کو ختم نہ کیا جائے کہ اس کے بغیر سلامتی ناممکن۔

کارلو ایم چییولا معروف اطالوی معاشی مورخ کہ جس کی کتاب ’’ انسانی حماقت کے بنیادی اصول‘‘ ایک طنزیہ اور گہرا علمی مقالہ میں لکھتے ہیں کہ حماقت عالمگیر ہے اور کسی معاشرے کی عمومی ذہانت و عقل مندی بھی اسے انسانی حماقت سے محفوظ نہیں رکھتی۔ چییولا انسانوں کو چار اقسام میں تقسیم کرتا ہے۔

بے بس خود کو نقصان دیکر دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

چور، ڈاکو دوسروں کو نقصان دیکر خود فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

عقل مند لوگ خود کو اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

احمق خود کو اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

بہت لوگ حماقت کی تباہ کن صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ایک بھی احمقانہ فیصلہ معاشرے کے لیے کتنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مشورہ اولوالعزم لوگوں سے کرنے کو کہا گیا نہ کہ ہر عامی و احمق سے۔ یہی وجہ کہ اقبال بھی بندوں کو تولنے کے قائل نہ کہ گننے کے۔

بون ہوفر کے مطابق احمق اپنے آپ سے مکمل مطمئن ہوتا ہے ذرا چھیڑو تو حملہ آور ہوتا ہے اور اس کا اعلی تعلیم سے تعلق نہیں ہوتا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ احمق ہو سکتے اور ان پڑھ دیہاتی اس سے پاک۔

بون ہوفر دوسری جنگ عظیم میں قید ہوا کہ وہ معروف فلسفی اور نازی مخالف تھا۔ اپنے خطوط میں وہ اس بات پر حیران تھا کہ جرمنی جیسا پڑھا لکھا اور مہذب معاشرہ کیسے ہٹلر کا آلہ کار بن گیا۔ اس پر اس نے بدی، برائی اور حماقت کا تعلق اور اس کے نتائج اخذ کیے۔ بوفر کے مطابق ’’ برے انسان کو اندرونی طور پر احساس جرم رہتا ہے اور یہ کہ برائی کو بے نقاب کیا اور بزور طاقت روکا بھی جا سکتا‘‘۔ بوفر کے نزدیک حماقت ذہنی نقص نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ ہے اور حماقت کا تعلق تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہونے سے نہیں۔

بوفر نے دیکھا کہ جب بھی معاشرے میں کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت ابھرتی ہے تو عوام کا ایک بڑا حصہ حماقت کا شکار ہو جاتا ہے۔ طاقتور طبقہ کو اپنی بقا کے لیے احمقوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ جلد چند نعروں، پراپیگنڈا اور جذباتی باتوں کے کنٹرول میں آ جاتا ہے۔

حماقت صرف اہل سیاست تک محدود نہیں بیوروکریسی میں بھی اس نے گھر کر رکھا ہے۔ ہر دور میں احمقانہ و چاپلوسانہ فیصلے اور قوانین ریکارڈ پر کہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ معروف فلسفی و مورخ امام غزالی نے بڑی پتے کی بات لکھی کہ ’’ میں نے طب اور فسلفے کے مشکل ترین مسائل کا علاج تلاش کر لیا مگر جب احمق کا علاج کرنا چاہا تو خود کو عاجز پایا کہ احمق اپنی جہالت کو ہی عین علم اور دانائی تصور کرتا ہے‘‘۔

مفکرین کی آرا کا نچوڑ کہ حماقت کی جڑ انسانی انا اور اخلاقی اندھا پن ہے جو بصیرت کو ختم کر کے پوری قوم کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

آج کی دنیا عقل کی دنیا ہے پہلے وحشی بزور طاقت تہذیب و ثقافت تباہ کرتے تھے تو آج احمق معاشی و معاشرتی تباہی لاتے ہیں، کاش عوام پاکستان اندھی عقیدت، خوابوں کی جنت اور سیاست دان و حکمران حماقتوں کی دنیا سے باہر نکلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہی وسائل و مسائل کے ساتھ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو۔ باب الحکمت کے قول کہ ’’ جب کم ظرف اور نادان لوگ حاکم بن جائیں تو شرفا ذلیل اور اوباش معزز بن جاتے ہیں ‘‘۔

لمحہ فکریہ ! امام غزالی کے اس قول کے ساتھ کہ ’’ جو حکمران عقل اور بصیرت سے عاری ہو وہ منصب اقتدار کے لائق نہیں رہتا‘‘۔ خود کو ضمیر کی عدالت میں پیش کر کے سوال کیجیے کہ ہم نے کتنے صاحبان بصیرت و فہم دانش چنے۔ مگر عقل سے سوچییے گا !کلٹ سے نہیں۔

عنوان سے مطابقت رکھتے انجم رہبر کے اشعار:

اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو

مجھ کو جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دو

میکدے بند بھی ہو جائیں تو پروا نہ کرو

کسی کم ظرف کے ہاتھوں میں مگر جام نہ دو

جواب دیں

Back to top button