سوال توہین عدالت کا ہے یا ترجیحی سلوک کا؟

سوال توہین عدالت کا ہے یا ترجیحی سلوک کا؟
روشن لعل
سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کے طبی معائنہ کے معاملے سے ابھرنے والے توہین عدالت کے پہلو پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے ایک نئی عدالتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے الشفا ہسپتال اسلام آباد سے طبی معائنہ کرانے کا جو حکم جاری کیا ، حکومت نے اس پر من و عن عمل نہ کر کے توہین عدالت کا ارتکاب کیا ہے ۔ تحریک انصاف، شہباز حکومت کی اس مبینہ توہین عدالت کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس عمل کے مساوی تصور کر رہی ہے جسے سابق چیف جسٹس ا فتخار چودھری نے توہین عدالت قرار دے کر انہیں وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کا موقف یہ ہے کہ توہین عدالت کی مرتکب شہباز حکومت نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے لوگ خود ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے طبی معائنہ کے معاملے پر سیاست نہ کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔ شہباز حکومت کے ترجمان نہ صرف شد و مد سے میڈیا پر اپنے مذکورہ موقف کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے عمران خان کے طبی معائنہ کے لیے جاری کردہ سپریم کورٹ کے حکم کو دیگر قیدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک تصور کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی درخواست بھی دائر کر دی ہے ۔
قانونی اور عدالتی معاملات کے ماہر مبصر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ایک دوسرے پر عائد توہین عدالت کے الزامات کو مبالغہ آمیز اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ عدالت اپنا حکم نظر انداز کرنے پر کسی کی سرزنش کر دے لیکن کسی بھی فریق کا توہین عدالت کے الزام میں سزاوار قرار دیا جانا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں، اس معاملے سے ایسا شور شرابہ اور ہنگامہ خیزی ضرور برآمد ہو سکتی ہے جس کے تسلسل میں مختلف سیاستدانوں، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے تعلقات اس طرح سے اچھے یا برے نہ رہیں جس طرح گزشتہ دو ، تین برسوں کے دوران نظر آتے رہے۔
جو کچھ آنے والے وقت میں ہو سکتا ہے، اس کی یقینی پیش گوئی تو ممکن نہیں ، ہاں فی الوقت صرف اندازوں سے اخذ کیے گئے ممکنہ حالات کی تصویر کشی کی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے الشفا ہسپتال میں عمران خان کے طبی معائنہ کا حکم معمولی نہیں بلکہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اس وجہ سے غیر معمولی ہے کیونکہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کبھی بھی خود رو پودوں کی طرح رونما نہیں ہوئے بلکہ زمین کو خاص طریقے سے ہموار کر کے خاص انتظام کے تحت خاص فصل کے طور پر اگائے جاتے رہے ہیں۔
کمزور بنا دی گئی، یادداشتوں کے باوجود ، یہ بات ابھی تک اکثر ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہو گی کہ عمران خان کے دور حکومت کے دوران ، میاں نوازشریف کی طبی بنیادوں پر قید سے رہائی اور پھر وطن عزیز میں لاعلاج قرار دی گئی بیماری کے بہانے لندن میں علاج کے لیے روانگی کا واقعہ بھی کوئی خود رو پودا نہیں بلکہ خاص قسم کی کھاد ڈال کر خاص مقاصد کے تحت اگائی گئی فصل تھا۔ جس میاں نواز شریف کو ان کے اپنے دور حکومت میں پہلے میڈیا ٹرائل اور پھر عدالتی کاروائی کا سامنا کرنے کے بعد نااہلی کی سزا کا مرتکب قرار دیا گیا انہیں جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے انعقاد سے انیس روز قبل ان کے لندن قیام کے دوران، ایون فیلڈ کرپشن کیس میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وطن واپسی پر، پہلے میاں نوازشریف اور پھر مریم کو بھی جیل بھیج دیا گیا۔ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی سزا اور قید کے پس منظر سے واقف لوگوں کے لیے یہ تصور کرنا بہت مشکل تھا کہ مستقل قریب میں ان دونوں کے لیے حالات یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں ۔
میاں نوازشریف کے جیل جانے کے کچھ عرصہ بعد ان کی خرابی صحت کے متعلق خبریں سامنے آنے لگیں۔ ایسی خبروں کا پہلے تو پی ٹی آئی حکومتوں کے ترجمانوں نے مذاق اڑایا لیکن بعد ازاں ، نیم دلی سے ان کی تائید شروع کردی۔ میاں نوازشریف کی بگڑتی ہوئی صحت کے متعلق ان کے ذاتی معالجوں اور حکومتی ڈاکٹروں کی یکساں رائے کے بعد طبی بنیادوں پر ان کی چودھری شوگر مل ریفرنس میں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے العزیزیہ کیس میں قید کی سز ا میں آٹھ ہفتوں کی معطلی کا فیصلہ جاری ہوا۔ ان فیصلوں کے بعد سرکاری نگہداشت میں سروسز ہسپتال میں زیر علاج میاں نوازشریف کو مزید علاج کے لیے شریف میڈیکل سٹی کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔ شریف میڈیکل سٹی کمپلیکس منتقلی کے بعد بھی ان کی طبیعت میں بہتری نہ آنے پر کہا گیا کہ پاکستان میں جب ان کے مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو سکتی تو علاج کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں بغرض علاج ان کی بیرون ملک منتقلی کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی عمران حکومت کا میاں نوازشریف کے لیے رویہ اچانک تبدیل ہونا شروع ہو گیا ۔ اس تبدیلی کے بعد عمران خان کے ترجمانوں کے طرف سے یہ اشارے سامنے آئے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومت کو میاں نوازشریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس طرح کے ہمدردانہ جذبات کے اظہار کے بعد سننے میں آیا کہ میاں نوازشریف کے لیے ایئر ایمبولینس بک کروا لی گئی ہے اور وہ کسی بھی وقت بیرون ملک روانہ ہو سکتے ہیں۔ میاں نوازشریف کے لیے حکومت کے تبدیل شدہ رویے کو پہلے تو ڈھیل کہا گیا مگر جب یہ نظر آنے لگا کہ ان کی روانگی کسی بھی وقت ممکن ہو سکتی ہے تو اچانک سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ میاں صاحب کے معاملے میں اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ ’’ ڈھیل ‘‘ سے زیادہ کسی کے ساتھ ہونے والی ’’ ڈیل‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کی افواہوں کے درمیان میاں نوازشریف 19نومبر 2019ء کو خود ایئر ایمبولینس کی سیڑھیاں چڑھ کر لندن کے لیے روانہ ہوئے۔ میاں نوازشریف کی لندن روانگی سے قبل مریم نواز کو بھی ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف میں نوازشریف نے لندن میں سیاسی معاملات پر اپنی زبان بند کیے رکھی بلکہ پاکستان میں ان کی بیٹی مریم نواز کا ٹویٹر بھی طویل عرصہ تک خاموش رہا۔
اب جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا عمران خان کے الشفا ہسپتال میں طبی معائنے کا حکم دوسرے قیدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے ، تو وہ لوگ تسلی رکھیں کہ عام قیدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا مظاہرہ یہاں پہلی مرتبہ نہیں کیا جارہا۔ فی الوقت عمران خان کو جس ترجیحی سلوک سے مستفید کیا جارہا ہے، اس ترجیحی سلوک سے میاں نوازشریف سات برس قبل استفادہ حاصل کر چکے ہیں۔ میاں نوازشریف لندن جانے کے بعد اس وقت تک خاموش رہے جب تک عمران خان اور ان کو مسند پر بٹھانے والوں کے صفحے الگ الگ ہونا شروع نہیں ہوئے تھے۔ جو لوگ عمران خان کے ساتھ بعد ازاں ایک صفحے پر نہ رہے انہوں نے شاید پہلے ہی کسی کے لیے ترجیحی سلوک کی راہ ہموار کر کے اپنے لیے بیک اپ تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔





