Column

پاک، ملائیشیا تعاون کا نیا روشن باب

اداریہ۔۔۔۔
پاک، ملائیشیا تعاون کا نیا روشن باب
پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات محض سفارتی رابطوں کا نام نہیں بلکہ مشترکہ مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور باہمی احترام کی ایسی بنیاد پر قائم ہیں جس نے وقت کے ساتھ ان رشتوں کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل اور آزمائش کے ادوار میں ایک دوسرے کے لیے خیرسگالی اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین نصوتیون اسماعیل کا پاکستان کا حالیہ دورہ اسی دیرینہ دوستی کو نئی جہت دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی الگ الگ ملاقاتیں اس امر کا واضح اظہار ہیں کہ پاکستان اور ملائیشیا اپنے باہمی تعلقات کو محض روایتی سفارتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے سیکیورٹی، تجارت، قانون نافذ کرنے، انسداد دہشت گردی، سیاحت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں وسعت دینا چاہتے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی ملائیشین وزیر داخلہ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اس بدلتی ہوئی دنیا میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی، منشیات، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن جیسے جرائم کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ، ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہوچکی ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کا ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کا آئینہ دار بھی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں نے بھی اپنے خون سے امن کی قیمت ادا کی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے عالمی اور علاقائی سطح پر انسداد دہشت گردی کے تعاون کو فروغ دینا ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اس کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ حکومت پاکستان کی موجودہ کوششیں اس اعتبار سے قابل تحسین ہیں کہ وہ داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ دوست ممالک کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے نئے راستے بھی تلاش کر رہی ہے۔ ملائیشیا جیسے برادر ملک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور تربیتی تعاون میں اضافہ دونوں ملکوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی اور ملائیشین وزیر داخلہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائمز کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سلامتی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ دہشت گردی آج صرف بندوق یا بم کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر نیٹ ورکس، مالی معاونت اور آن لائن پروپیگنڈا بھی اس کے نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔ اس لیے مختلف ممالک کے درمیان جدید تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تربیتی پروگرامز، پیشہ ورانہ تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح کوسٹ گارڈز کے شعبے میں ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش پاکستان کے وسیع تر بحری اور ساحلی مفادات کے لیے اہم ہے۔ مشترکہ تربیت اور ادارہ جاتی روابط مستقبل میں دونوں ملکوں کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا ایک اہم پہلو تجارت بھی ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان باہمی تجارت میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستانی چاول، آلو، گندم، پولٹری اور جانوروں کی خوراک سمیت متعدد مصنوعات ملائیشین منڈی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی مصنوعات کے معیار، برانڈنگ اور برآمدی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے اور ملائیشیا کی مارکیٹ تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کی جائے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ اور برآمد کنندگان باہمی مشاورت سے حکمت عملی مرتب کریں تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم کئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ پر توجہ اس حوالے سے امید افزا ہے۔ معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے پاکستان کو ایسے ہی دوستانہ ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینا ہوگی۔ ملائیشیا نے گزشتہ کئی دہائیوں میں صنعت، سیاحت، انفرا اسٹرکچر اور معیشت کے مختلف شعبوں میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ پاکستان کے لیے ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا ملائیشیا کو تیز رفتار ترقی کرنے والا مسلم ملک قرار دینا اسی حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ ترقی کا سفر تجربات کے تبادلے سے مزید تیز کیا جاسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط بھی عوامی اور تجارتی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہفتہ وار 14پروازیں دونوں ملکوں کو جوڑ رہی ہیں اور ان میں اضافے کی کوششیں خوش آئند ہیں۔ زیادہ فضائی رابطوں سے کاروباری افراد، طلبہ، سیاح اور خاندانوں کو سہولت ملے گی۔ سیاحت کے میدان میں بھی ملائیشیا پاکستانی شہریوں کے لیے ایک پُرکشش منزل ہے جب کہ پاکستان کے قدرتی حُسن، تاریخی مقامات اور ثقافتی تنوع میں بھی ملائیشین سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش موجود ہے۔ ویزا سہولتوں میں آسانی عوامی روابط کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ سفارتی تعلقات کی اصل روح صرف حکومتوں کے درمیان رابطہ نہیں بلکہ عوام کے درمیان قربت بھی ہوتی ہے۔ جب دو ملکوں کے شہری ایک دوسرے کے ملک میں آسانی سے سفر کرتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور ثقافتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں تو دوستی کی بنیاد مزید گہری ہوجاتی ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے سفارتی تعلقات کا 69واں سال بھی اس دوستی کی پائیداری کی علامت ہے۔ قریباً سات دہائیوں پر محیط یہ تعلق وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرا، مگر باہمی احترام اور خیرسگالی نے اسے ہمیشہ قائم رکھا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تعلق کو نئی نسل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اقتصادی اور سیکیورٹی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ جوائنٹ ورکنگ گروپ کا قیام بھی ایک قابل تحسین فیصلہ ہے۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور فیصلوں پر باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے گا۔ سفارتی تعلقات اسی وقت ثمرآور ہوتے ہیں جب ملاقاتوں اور اعلانات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان حالیہ مذاکرات اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں۔ حکومت پاکستان نے حالیہ عرصے میں دوست ممالک کے ساتھ روابط کو اقتصادی اور سیکیورٹی مفادات سے جوڑنے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ ملکی مفاد کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کو آج ایسے ہی متوازن اور باوقار خارجہ تعلقات کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے قومی سلامتی بھی مضبوط ہو اور معیشت کو بھی نئی منڈیاں میسر آئیں۔ ملائیشیا کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اسی حکمت عملی کا روشن نمونہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا اپنی تاریخی دوستی کو جدید دور کی مضبوط شراکت داری میں بدلیں۔ سیکیورٹی میں تعاون، تجارت میں اضافہ، سیاحت کا فروغ، تربیتی روابط، ویزا سہولتوں اور عوامی سطح پر رابطوں کا پھیلائو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاسکتا ہے۔ اگر حالیہ فیصلوں کو عملی شکل دی گئی تو پاک، ملائیشیا تعلقات ایک نئے اور روشن دور میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یہ دوستی صرف دونوں ریاستوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی امید کی ایک خوبصورت علامت بن سکتی ہے۔

 

شذرہ۔۔۔
درآمدات کا بڑھتا بوجھ
رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ ملکی درآمدات میں 19فیصد اضافہ اور تجارتی خسارے میں 26فیصد بڑھوتری معیشت کے لیے ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے تازہ اعدادوشمار اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جولائی میں مختلف شعبوں سے متعلق درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملکی درآمدی بل پر دبائو بڑھا اور تجارتی توازن مزید خراب ہوا۔ غذائی اجناس کی درآمد پر جولائی میں 80کروڑ 54لاکھ ڈالر خرچ ہوئے جب کہ مشینری کی درآمد ایک ارب 31کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ گاڑیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ سامان کی درآمد میں 40فیصد اضافہ بھی قابل توجہ ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل مصنوعات، زرعی آلات، کیمیکلز، اسٹیل، لوہے اور قیمتی دھاتوں کی درآمد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملکی معیشت ابھی تک کئی بنیادی ضروریات کی لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کر رہی ہے۔ یقیناً مشینری اور صنعتی سامان کی درآمد ہمیشہ منفی نہیں ہوتی۔ اگر درآمد ہونے والی مشینری پیداواری صلاحیت بڑھانے، صنعتوں کو وسعت دینے، روزگار پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنے تو اسے معیشت کے لیے سرمایہ کاری تصور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم خوراک، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی مسلسل بڑھتی ہوئی درآمد اس وقت تشویش کا باعث بنتی ہے جب ان کے مقابلے میں برآمدات اسی رفتار سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ پاکستان کو محض درآمدات کم کرنے کے بجائے برآمدات بڑھانے کی جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ زرعی پیداوار میں بہتری، مقامی صنعتوں کی سرپرستی، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے درآمدی انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر جن اشیا کو ملک میں بہتر معیار کے ساتھ تیار کیا جاسکتا ہے، ان کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ تجارتی خسارے کے اس رجحان کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرے جو درآمدی دبائو کم کرنے کے ساتھ برآمدی شعبے کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنائیں۔ پاکستان کو وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر پیداوار اور برآمدات میں اضافہ نہ کیا گیا تو بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ درآمدی معیشت کو مضبوط پیداواری اور برآمدی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

Back to top button