Column

نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت کیوں ہے؟

نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت کیوں ہے؟

تحریر: رفیع صحرائی

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اس کی آبادی آج کے مقابلے میں کہیں کم، ذرائع محدود مگر ضروریات بھی نسبتاً مختصر تھیں۔ وقت گزرتا گیا، آبادی کئی گنا بڑھ گئی، شہری پھیلائو نے نئے شہر آباد کر دئیے، معاشی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوا اور عوام کی توقعات بھی بڑھتی گئیں، مگر ہمارا انتظامی نقشہ بڑی حد تک وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ آج بھی ملک صرف چار صوبوں میں تقسیم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے پاکستان کو وہی انتظامی ڈھانچہ درکار ہے جو کئی دہائیاں پہلے موجود تھا؟ شاید اب اس سوال سے فرار ممکن نہیں۔

نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کی بحث کو عموماً سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ بنیادی طور پر انتظامی، معاشی اور عوامی سہولت کا معاملہ ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ بہتر حکمرانی کے لیے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہونا ضروری ہے۔ جس علاقے کا رقبہ، آبادی اور انتظامی پیچیدگیاں بہت زیادہ ہوں، وہاں ایک ہی مرکز سے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر دور افتادہ بستی کے مسائل کو یکساں توجہ دینا آسان نہیں رہتا۔

پاکستان میں پنجاب اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ آبادی اور رقبے کے اعتبار سے یہ صوبہ اتنا بڑا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے سیکڑوں کلومیٹر دور بیٹھے شہری کے مسائل اور لاہور کے شہری کے مسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جنوبی پنجاب ہو، پوٹھوہار ہو، وسطی پنجاب ہو یا دیگر خطے، ہر علاقے کی اپنی معاشی، جغرافیائی اور سماجی ضروریات ہیں۔ جب ایک ہی حکومت کو اتنے وسیع اور متنوع خطے کے معاملات دیکھنے ہوں تو قدرتی طور پر وسائل، توجہ اور انتظامی ترجیحات کا ارتکاز مرکز کے قریب ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ گورننس کا تقاضا ہے۔

چھوٹے صوبوں میں حکومت کے لیے نگرانی آسان ہوگی، افسر شاہی زیادہ جواب دہ ہوگی، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مقامی ضرورت کے مطابق طے کی جا سکیں گی اور عوام کے مسائل کے حل میں وقت کم لگے گا۔ آج ایک عام شہری کو اپنے معمولی سے مسئلے کے لیے ضلع، ڈویژن اور صوبائی دارالحکومت کے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں۔ تصور کریں کہ ایک شخص ڈیرہ غازی خاں یا بہاولپور جیسے شہر سے لمبا سفر کر کے کسی سرکاری کام کے لیے لاہور آئے اور آگے سے صاحب بہادر چھٹی پر، کسی میٹنگ میں یا کسی دوسری مصروفیت کی وجہ سے نہ مل سکیں تو دو ہی چکروں میں اس کی تو بس ہو جائے گی۔ یہی صورت حال سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مرکز سے بسنے والی شہری کے ساتھ پیش آ سکتی ہے۔ اگر انتظامی مرکز اس کے قریب ہو تو یہی کام چند گھنٹوں میں ہو سکتا ہے۔ وہ دو سے زائد بار بھی جا سکتا ہے۔

سب سے اہم سوال وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ موجودہ نظام میں وفاقی وسائل صوبوں کو ملتے ہیں اور پھر ان کی تقسیم صوبائی دارالحکومتوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت ترقی کے اعتبار سے آگے نکلتے جاتے ہیں جبکہ دور دراز علاقے بنیادی سہولتوں کے لیے بھی ترستے رہتے ہیں۔ اگر بڑے صوبوں کو نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے تو ترقیاتی وسائل کے مراکز بھی بڑھیں گے اور مختلف علاقوں کو اپنی ترجیحات کے مطابق منصوبہ بندی کا موقع ملے گا۔ اس سے موجودہ صوبائی دارالحکومتوں پر روز بروز بڑھتا ہوا آبادی کا دبائو اور نقل مکانی کا رجحان بھی کم ہو گا جو بہتر وسائل اور مواقع کی وجہ سے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی قابلِ غور ہے۔ جو سیاست دان نئے اضلاع اور تحصیلیں بنانے کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں، وہ نئے صوبوں کی بات سنتے ہی کیوں پریشان ہو جاتے ہیں؟ اگر ایک نئی تحصیل انتظامی سہولت پیدا کر سکتی ہے، نیا ضلع عوام کے مسائل کم کر سکتا ہے تو نیا صوبہ یا انتظامی یونٹ کیوں نہیں؟ اصل مسئلہ نام کا نہیں، انتظامی کارکردگی کا ہے۔

بعض حلقے کہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کر دیا جائے تو نئے صوبوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ دلیل بظاہر خوب صورت مگر عملی اعتبار سے کمزور ہے۔ بلدیاتی ادارے صوبوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ آئین میں بلدیاتی نظام کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اکثر مقامی حکومتوں کو اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری دینے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ کبھی بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ہوتی ہے، کبھی منتخب ادارے مدت پوری ہونے سے پہلے ختم کر دئیے جاتے ہیں اور کبھی فنڈز روک کر انہیں بے اختیار بنا دیا جاتا ہے۔

لہٰذا اصل حل نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام دونوں کا قیام ہے۔ صوبائی سطح پر اختیارات کی ازسرنو تقسیم ہو اور پھر صوبے بھی اختیارات ضلعی، تحصیلی اور مقامی حکومتوں تک منتقل کریں۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جس کے تمام اختیارات دارالحکومت میں جمع ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں اختیار اس سطح پر موجود ہو جہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی تاثر درست نہیں کہ نئے صوبے بننے سے لازماً اخراجات بڑھیں گے۔ اگر نئی تقسیم محض نئے وزیروں، محکموں اور سرکاری عمارتوں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ ہو تو یقیناً اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر مقصد انتظامی ڈھانچے کو سادہ، مختصر، مثر اور جدید بنانا ہو تو صورت حال مختلف ہوسکتی ہی۔ بعض ماہرین کے مطابق انتظامی تنظیمِ نو کے نتیجے میں غیر ضروری اسامیاں ختم اور اخراجات کم بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ نئے یونٹس کے قیام کے ساتھ سرکاری مشینری کو بھی جدید بنایا جائے، غیر ضروری محکمے ختم کیے جائیں اور ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیا جائے۔

نئے صوبوں کا ایک اور بڑا فائدہ سیاسی محرومی کے احساس کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ جب کسی علاقے کے عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز دور بیٹھے مرکز تک نہیں پہنچ رہی تو احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ اپنی حکومت، اپنا انتظامی مرکز اور اپنی ترجیحات اس احساس کو کم کر سکتی ہیں۔ تاہم اس عمل میں لسانی، نسلی یا علاقائی تعصب کو بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ صوبوں کی تشکیل انتظامی بنیادوں، آبادی، جغرافیہ، معاشی امکانات اور عوامی سہولت

کے اصولوں پر ہونی چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کو سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور یا وقتی مفادات کا یرغمال نہ بنایا جائے۔ پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں، آئینی ماہرین، انتظامی ماہرین، معاشی ماہرین اور سول سوسائٹی کو بٹھا کر ایک جامع قومی پالیسی بنائی جائے۔ نئی حد بندی، وسائل کی تقسیم، ملازمین کی منتقلی، دارالحکومتوں کا تعین اور آئینی ترامیم سب کچھ واضح منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے۔

پاکستان کو آج طاقتور مرکز سے زیادہ موثر حکومت کی ضرورت ہے۔ عوام کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ریاست ان کے دروازے تک پہنچے، نہ کہ شہری ہر معمولی کام کے لیے ریاست کے دروازے تلاش کرتا پھرے۔ بڑے صوبے اگر انتظامی بوجھ بن چکے ہیں تو ان کی تقسیم کو محض سیاسی حساسیت کی بنیاد پر ہمیشہ موخر نہیں کیا جا سکتا۔

یہ وقت نقشے پر لکیریں کھینچنے سے زیادہ حکمرانی کا نیا نقشہ بنانے کا ہے۔ چھوٹے اور موثر صوبے، بااختیار بلدیاتی ادارے، منصفانہ وسائل کی تقسیم، واضح اختیارات، مضبوط احتساب اور جدید انتظامی نظام مل کر پاکستان کو بہتر گورننس دے سکتے ہیں۔ صوبوں کی تقسیم ملک کو کمزور نہیں کرتی؛ اگر یہ عوامی رضامندی، آئینی طریقہ کار اور انتظامی ضرورت کے مطابق ہو تو ریاست کو زیادہ مضبوط، متوازن اور مربوط بنا سکتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چار صوبے رہیں گے یا دس، بارہ یا اس سے زیادہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا انتظامی نظام چاہتے ہیں جو عوام کے لیے ہو یا ایسا نظام جس میں عوام انتظامیہ کے پیچھے بھاگتے رہیں؟ اگر مقصد عوام کی آسانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر حکمرانی ہے تو نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی بحث کو مزید موخر کرنا شاید پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اس حساس مگر ناگزیر قومی مسئلے کو سیاسی مصلحتوں سے نکال کر قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے۔

جواب دیں

Back to top button