Column

سیاسی عدم استحکام سے قومی کمزوری تک

سیاسی عدم استحکام سے قومی کمزوری تک
تحریر: یاسر دانیال صابری
منزلِ عقاب
پاکستان کی سیاست کو دیکھیں تو دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم آخر کب تک ایک دوسرے کو گرانے کی سیاست کرتے رہیں گے؟ اقتدار آتا ہے تو مخالف کو ختم کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے، حکومت بدلتی ہے تو کردار بدل جاتے ہیں، اور کل کا مخالف آج کا حکمران بن کر وہی رویہ اختیار کر لیتا ہے جس کی کل وہ مذمت کر رہا تھا۔ چہرے بدلتے رہے، جماعتیں بدلتی رہیں، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں، مگر سیاسی عدم برداشت کا رویہ بڑی حد تک اپنی جگہ موجود رہا۔ جمہوریت میں اختلاف کوئی برائی نہیں۔ اختلاف تو جمہوریت کی روح ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف دشمنی بن جائے، تنقید انتقام میں بدل جائے اور سیاسی مقابلہ ذاتی لڑائی کی شکل اختیار کر لے۔ سیاست کا مقصد اگر عوام کی خدمت کے بجائے صرف اقتدار حاصل کرنا اور مخالف کو راستے سے ہٹانا بن جائے تو پھر ریاست کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، پاکستان سب کا ہے۔ وزیراعظم، وزیر، رکن اسمبلی اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے وقت کے لیے آتی ہیں، مگر ریاست مستقل رہتی ہے۔ اقتدار چند سال کا ہو سکتا ہے، لیکن ملک آنے والی نسلوں کا ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کا سب سے پہلا اور گہرا اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ جب ملک میں یہ یقین نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں سیاسی حالات کیا رخ اختیار کریں گے، حکومت کی پالیسی برقرار رہے گی یا تبدیل ہو جائے گی، تو سرمایہ کار فیصلہ کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا ہے۔ سرمایہ کار کو صرف منافع نہیں چاہیے، اسے پالیسیوں کا تسلسل، قانون کا تحفظ اور مستقبل کا اعتماد بھی چاہیے۔ اگر ملک کے اندر سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہو جائے تو سرمایہ باہر جانے لگتا ہے۔ بڑے کاروباری افراد اپنی دولت وہاں لگانا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں سیاسی اور معاشی استحکام نظر آئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی صنعتیں کم لگتی ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور نوجوانوں کے لیے مستقبل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک عام پاکستانی کی زندگی بھی دیکھنی چاہیے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی چلانے والا متاثر نہیں ہوتا۔ اس کا اثر سبزی، آٹا، دودھ، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور تقریباً ہر شعبے پر پڑتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی لاگت بڑھتی ہے۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے تو دکاندار سے لے کر صنعت کار تک سب متاثر ہوتے ہیں۔ آخرکار اس پورے بوجھ کا بڑا حصہ عام آدمی کی جیب سے نکلتا ہے۔ دوسری طرف دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ آج کئی ممالک اپنی معیشت کی بنیاد مصنوعی ذہانت، جدید صنعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تحقیق، صحت اور تعلیم پر رکھ رہے ہیں۔ چین نے صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی میں اپنی مضبوط جگہ بنائی، ترکی نے دفاعی اور صنعتی میدان میں نمایاں پیش رفت کی، جبکہ خلیجی ممالک تیل کی معیشت سے آگے بڑھ کر سیاحت، ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی سرمایہ کاری کے مراکز بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ان ممالک سے صرف مقابلہ نہیں کرنا، ان سے سیکھنا بھی ہے۔ پاکستان کے پاس کسی چیز کی مکمل کمی نہیں۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، زراعت، معدنی ذخائر، سمندر، پہاڑ، دریاں اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ مسئلہ وسائل سے زیادہ انتظام، پالیسی کے تسلسل اور قومی ترجیحات کا ہے۔ اگر ہم اپنے وسائل کو دیانت داری اور جدید منصوبہ بندی سے استعمال کریں تو پاکستان بہت آگے جا سکتا ہے۔ صحت کا شعبہ اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ دنیا میں جدید ہسپتال مصنوعی ذہانت، جدید تشخیصی مشینوں، روبوٹکس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے بہت سے علاقوں میں مریض آج بھی ایک اچھے ڈاکٹر، مناسب دوا یا بنیادی تشخیصی سہولت کے لیے پریشان نظر آتا ہے۔ غیر معیاری اور جعلی ادویات کا مسئلہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ ایک بیمار انسان جب دوا خریدتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ دوا اس کی زندگی اور صحت کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ اگر دوا ہی غیر معیاری نکلے تو یہ صرف کاروباری بددیانتی نہیں بلکہ انسانی جان کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ادویات کی تیاری، ترسیل اور فروخت کے نظام کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ اور غیر معیاری اشیا بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ جو چیز ایک ماں اپنے بچے کے لیے خریدتی ہے، اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ بازار میں معیاری خوراک اور محفوظ مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائے۔ ریاست کی مضبوطی صرف بڑے منصوبوں سے ظاہر نہیں ہوتی۔ ایک عام شہری جب سرکاری دفتر جاتا ہے اور اسے بروقت جواب ملتا ہے، ہسپتال میں ڈاکٹر موجود ہوتا ہے، تھانے میں اس کی بات سنی جاتی ہے، عدالت میں اسے انصاف کی امید نظر آتی ہے اور بازار میں اسے معیاری چیز ملتی ہے، تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی لیے سرکاری اداروں میں وقت کی پابندی بھی ایک معمولی معاملہ نہیں۔ اگر دفتر کا وقت صبح آٹھ بجے ہے تو افسر اور اہلکار کو وقت پر پہنچنا چاہیے۔ عوام اپنا کام چھوڑ کر، سفر کا خرچ برداشت کرکے سرکاری دفاتر کا رخ کرتے ہیں۔ اگر متعلقہ افسر موجود نہ ہو تو شہری کے اندر صرف غصہ نہیں بلکہ پورے نظام سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو تیز، شفاف، جواب دہ اور عوام دوست ہو۔ سفارش، تاخیر اور غیر ضروری فائل ورک کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینا ہوگا۔ ہماری قومی طاقت کا ایک اہم حصہ ہماری ثقافت بھی ہے۔ گلگت بلتستان کی قدیم روایات ہوں، سندھ کی تہذیب، پنجاب کی لوک روایت، بلوچستان کی ثقافت یا خیبر پختونخوا کا تاریخی ورثہ، پاکستان کا ہر خطہ اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ دوسرے ممالک اپنی ثقافت کو عالمی سطح پر اپنی پہچان بناتے ہیں۔ پاکستان بھی اپنے کھانوں، لباس، موسیقی، زبان، فنون، دستکاری اور تاریخی مقامات کو دنیا کے سامنے بہتر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ ثقافت صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت بھی بن سکتی ہے۔ سیاحت، دستکاری، مقامی مصنوعات اور ثقافتی میلوں کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ہمیں اپنی نوجوان نسل کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ آج کا نوجوان صرف سیاسی جلسوں کا ہجوم نہیں ، وہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اسے اچھی تعلیم، جدید ہنر، تحقیق، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوانوں کو صرف سیاسی نعروں تک محدود کر دیا گیا تو ہم اپنی سب سے بڑی قومی طاقت ضائع کر دیں گے۔
اب پاکستان کو سیاسی انتقام کی سیاست سے نکل کر سیاسی برداشت کی طرف آنا ہوگا۔ احتساب ضرور ہونا چاہیے، مگر قانون کے مطابق اور بلاامتیاز۔ جرم ثابت ہو تو سزا ملنی چاہیے، لیکن سیاسی اختلاف کو جرم نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے عوامی خدمت میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک جماعت تعلیم کے میدان میں اچھا منصوبہ بنائے تو دوسری جماعت اس سے بہتر منصوبہ لے کر آئے۔ اگر ایک صوبہ صحت میں اصلاحات کرے تو دوسرا صوبہ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ یہی اصل سیاسی مقابلہ ہے اور یہی بالغ جمہوریت کی علامت ہے۔ دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ عالمی برادری یہ بھی دیکھتی ہے کہ پاکستان سیاسی طور پر کتنا مستحکم، معاشی طور پر کتنا قابلِ اعتماد اور مستقبل کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں پاکستان کا موثر کردار اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنے گھر کو مضبوط کریں گے۔
پاکستان کو اب تماشائی نہیں بلکہ عالمی مقابلے میں ایک مضبوط ملک بننا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو ہم سیاسی نفرت، معاشی غیر یقینی اور کمزور اداروں کا پاکستان دیں گے یا ایسا پاکستان جہاں اختلاف کے باوجود قوم متحد ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، نوجوان کے ہاتھ میں ہنر ہو، مریض کو معیاری علاج ملے، کاروباری شخص کو اعتماد حاصل ہو اور دنیا پاکستان کو ایک مضبوط، ذمہ دار اور ترقی کرتا ہوا ملک سمجھے۔ آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اقتدار کسی فرد یا جماعت کی مستقل ملکیت نہیں، لیکن پاکستان ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی استحکام ہوگا تو سرمایہ کار اعتماد کرے گا، سرمایہ کاری بڑھے گی تو صنعتیں لگیں گی، صنعتیں لگیں گی تو روزگار پیدا ہوگا، روزگار بڑھے گا تو غربت کم ہوگی، اور جب تعلیم، صحت، معیشت اور امن مضبوط ہوں گے تو پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے گا۔
حکومتیں بدلنے سے ملک نہیں بدلتا؛ ملک تب بدلتا ہے جب سیاسی رویے، ادارے، نظام اور قومی ترجیحات بدلتی ہیں۔
پاکستان کو آج ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں، ایک دوسرے کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ یہی قومی ترقی کا راستہ ہے، یہی سیاسی بلوغت ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button