
جگائے گا کون؟
نیازی سے ہسپتال پرینک کے بعد
تحریر: سی ایم رضوان
قیام پاکستان سے لے کر آج تک 78سالوں میں ہماری ساری سیاسی اشرافیہ نے ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں سے عوام کو دھوکہ دیا، ملک کو لوٹا، عوامی شعور کا مذاق اُڑایا اور عوام کی محرومیوں اور ناکامیوں کا تماشا دیکھا، افسوس کہ عوام آج بھی اپنی سادہ دلی اور نیک نیتی کی وجہ سے ایک دو سیاسی گروہوں کو اپنے دکھوں کا مداوا سمجھ کر ان کے لئے ہلکان ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ گروہ بھی ’’ لٹیرا کلاس‘‘ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ 2018ء کے انتخاب میں اسی قبیل کی ایک نئی سیاسی سوغات کو اقتدار دیا گیا۔ پھر 2020ء میں ہی اس سوغات کے پیش کاروں کو اپنی تاریخی غلطی کا احساس ہو گیا اور چلتے چلتے اس سوغات کے خلاف 2022ء کے آغاز میں تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ اسی تحریکِ پر سیخ پا ہو کر اس سیاسی سوغات نے پاکستانی سیاسی تاریخ کے شرمناک ترین مخالفانہ ڈائیلاگز بولے۔ ان ڈائیلاگز میں سے ایک بیان اس سیاسی سوغات یعنی عمران خان نے مارچ 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے دوران میلسی ( ضلع وہاڑی) اور لوئر دیر میں منعقدہ عوامی جلسوں کے دوران دیا تھا۔ اپنے سیاسی مخالفین ( شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان) پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ ’’ تینوں چوہے ‘‘ ان کی حکومت گرانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں لیکن خود ان کا شکار کرنے کے لئے وہ ( عمران خان) پوری طرح تیار ہیں۔ اس بیان کے تفصیلی جملے کچھ اس طرح تھے کہ عمران خان نے آصف علی زرداری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ان کا ’’ پہلا نشانہ‘‘ ہوں گے کیونکہ وہ ان کی بندوق کی نشست پر ہیں۔ شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’ مقصود چپڑاسی‘‘ اور مالی بے ضابطگیوں سے جوڑا۔ مولانا فضل الرحمان کو ’’ ڈیزل‘‘ کے نام سے یاد کیا اور اپوزیشن کے اتحاد کو مفاد پرستی قرار دیا۔ یہ تقاریر ان کے دورِ حکومت کے آخری ایام میں ان کے مشہور اور جارحانہ بیانیے کا حصہ تھیں۔ اب جبکہ وہ خود جیل میں ہیں شہباز شریف وزیر اعظم ہیں اور مولانا فضل الرحمان ان کی رہائی کے لئے بننے والے سیاسی اتحاد کے روح رواں بنے ہوئے ہیں تو عوام کو واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ اب بلی چوہے کا وہ کھیل الٹ گیا ہے اور ایک رات کے شفا اور پمز ڈرامہ میں ہسپتال پرینک کے بعد یہ سیاسی سوغات واپس اڈیالہ میں محو استراحت ہو چکی ہے۔ باشعور پاکستانی عوام کو ان میں سے کسی ایک پر بھی ترس نہیں کھانا چاہیے بلکہ اس صورتحال کا مزہ لینا چاہئے کہ یہ لوگ جو پچھلی کئی دہائیوں سے عوامی سرمائے کے ساتھ عوام کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور اب بھی عوام کے خرچے پر ان میں سے کچھ تو ایک دوسرے کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں اور کچھ پاور کوریڈورز کی جانب سے کئے گئے اقدامات و انتظامات کے تحت ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔
نظریاتی اور اطلاعاتی رنگا رنگی کے تناظر میں سزا یافتہ قیدی نمبر 804کی صحت اور ہسپتال منتقلی کے عمل کو آج سیاست اور سیاسی بیانیوں کے تناظر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن، حکومتی مخالفین اور تجزیہ کار اس تمام صورتحال کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور ان کے حامی اس تمام عمل کو ’’ سیاسی انتقام‘‘ اور ’’ دبائو ڈالنے کی حکمتِ عملی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عدالت یا ڈاکٹروں کی ہدایت کے باوجود پمز لانا، باقاعدہ یا مکمل علاج فراہم نہ کرنا اور فوراً راتوں رات دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دینا محض پریشان کرنے اور نفسیاتی دبائو بڑھانے کے لئے ہے۔ اس بیانیے کے تحت اسے حکومت اور انتظامیہ کا ایک ایسا ’’ کھیل‘‘ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد قیدی کو مسلسل بے یقینی کی صورتحال میں رکھنا ہے جبکہ حکومت اور انتظامیہ کا نقطہ نظر اس سے مختلف ہی۔ حکومت، جیل حکام اور انتظامیہ اس تاثر کی نفی کرتے ہیں اور اسے مکمل طور پر قانون، سکیورٹی اور میڈیکل پروٹوکول کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کسی بھی ہائی پروفائل قیدی کو ہسپتال منتقل کرتے وقت سکیورٹی کے شدید خدشات لاحق ہوتے ہیں۔ جب ڈاکٹرز ضروری معائنہ، ٹیسٹ یا ابتدائی طبی امداد مکمل کر لیتے ہیں تو سکیورٹی وجوہات اور جیل کے قوانین کے تحت قیدی کو واپس منتقل کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ یہ تمام عمل بقول سابق وزیر اعظم عمران خان ’’ بلی چوہے کا کھیل‘‘ ہے یا ’’ قانونی و سکیورٹی پروٹوکول‘‘ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اسے کس کے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں بانی کے سیاسی حامی اسے حکومت کی سیاسی چال اور ہراسانی سمجھتے ہیں، وہاں انتظامیہ اسے سکیورٹی اور طبی سفارشات کے تحت اٹھایا گیا قدم گردانتی ہے۔ جہاں تک جزا و سزا کا تعلق ہے تو جو سزا دہائیوں سے جاری اس سارے تماشے میں عوام کو مہنگائی بیروزگاری اور عدم تحفظ کی صورت میں مسلسل مل رہی ہے اس کا خمیازہ موجودہ تمام سیاسی اشرافیہ کو موجودہ حالات و نتائج سے بھی زیادہ بدتر صورت میں بھگتنا چاہئے۔
نیازی کے ساتھ حکومت کی جانب سے اس ہسپتال پرینک کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان اور سلمان اکرم راجہ کے بیانات کہ یہ سب حکومت کی جانب سے ان سب کے چہرے پر ایک تھپڑ کے مترادف ہے اس تھپڑ والے بیانیہ کے تناظر میں ان تمام سیاستدانوں کی اپنے سیاسی معاملات کے چکر میں عوامی مسائل سے یکسر بے نیازی، سیاسی اشرافیہ کی مفاداتی ترجیحات اور عوام کے بنیادی مسائل ( مہنگائی، بجلی کے بل، سکیورٹی اور بے روزگاری) پر عدم توجہی کے حوالے سے عوامی حلقوں، سیاسی مبصرین اور آئینی و سماجی تجزیہ کاروں میں شدید غم و غصہ پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ عوام بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ان کے مسائل سے یکسر بے نیاز ہیں، اس صورتِ حال کے نتائج اور جمہوریت و معاشرے پر اس کی سزائیں منطقی طور پر تو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی۔ مثال کے طور پر اس رویے کی سب سے پہلی سزا سیاسی جماعتوں کو یہ ملتی ہے کہ عوام کا جمہوری نظام اور سیاسی قیادت سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ الیکشن میں عوام کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور ووٹرز ٹرن آئوٹ میں شدید کمی آتی ہے، جس سے آئندہ بننے والی حکومتوں کی قانونی و اخلاقی حیثیت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ بھی موجودہ سیاسی اشرافیہ کی سزا ہے کہ جب نوجوانوں کو سیاسی قیادت سے کوئی امید نہیں رہتی اور ان کے مسائل حل نہیں ہوتے، تو ہنر مند اور تعلیم یافتہ طبقہ ملک چھوڑ جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ سیاستدانوں کی عوامی مسائل سے یہ بے نیازی ملک میں عوامی بے چینی، جرائم میں اضافے اور سماجی ناانصافی کا سبب بنتی ہے، جمہوری نظام میں آئینی طور پر حکمرانوں اور اپوزیشن کو اس بے نیازی کی سزا دینے کا سب سے بڑا طریقہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے، جہاں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نااہل قیادت کو رد کر سکتے ہیں لیکن افسوس کہ یہاں یہ عمل بھی کبھی نہیں ہوا کیونکہ اس سیاسی اشرافیہ میں سے چند عناصر طاقت کی جھولی میں بیٹھ جاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں اور جھولی سے محروم اقتدار سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج قوم ایک بے عمل سیاسی اشرافیہ کے رحم و کرم پر ہے جس نے قوم کی صرف اسی حد تک سیاسی تربیت کی ہے کہ انہوں نے صرف ان کے اشارے پر زندہ باد یا مردہ باد کہنا ہے اور بس۔
پاکستانی سیاست کے اس معروف ڈیزائن کے تناظر میں اب میڈیا ڈسکورس میں بھی یہ ایک عام رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ میڈیائی ٹرینڈ اور عوامی پذیرائی دیکھ کر تجزیے دینا شروع کر دیتے ہیں اور نادیدہ ذرائع سے مخصوص خبریں سیاسی میدان کا رجحان یا اتار چڑھائو دیکھ کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر بیس اور اکیس اگست کی درمیانی شب رات گئے تک بانی پی ٹی آئی ( عمران خان) کی جیل میں منتقلی، طبی معائنے یا سہولیات کی ہر خبر کو فوری طور پر ’’ ڈیل‘‘ یا ’’ این آر او‘‘ سے جوڑ کر تجزیے پیش کیے جاتے رہے۔ اس کار خیر کا انہیں ویوز کی صورت میں الگورتھمک ثواب بھی ملا۔ اس بار اس ’’ ڈیل‘‘ کے تاثر کی وجہ سپریم کورٹ کا حکم اور ہسپتال منتقلی رہی۔ تجزیہ کاروں اور میڈیا کا ایک حصہ اسے پسِ پردہ ’’ بیک ڈور مذاکرات‘‘ یا ’’ سیاسی معاہدے ‘‘ کا نتیجہ بھی قرار دیتا رہا۔ متعدد سیاسی تجزیہ کار بھی اپنے پروگراموں اور بلاگز کی ریٹنگ کے لئے ایسی خبروں اور فرضی سناریوز کو بھی ہوا دیتے رہے، جس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ معاملات طے پا چکے ہیں۔ پھر جب 22اگست کی صبح خبر آئی کہ یہ کسی معاہدے یا این آر او کے تحت نہیں ہوا تھا بلکہ یہ محض ایک قانونی و طبی کارروائی تھی جس کے تحت معائنے کے فوراً بعد قیدی کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب معائنے کے بعد فوری طور پر بانی کو واپس جیل بھیج دیا گیا اور کوئی سیاسی یا قانونی ریلیف نہ ملا تو تجزیہ کاروں کو اپنے پرانے بیانیے سے رجوع کرنا پڑا۔ اس لئے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ ’’ کوئی ڈیل موجود نہیں ہے‘‘۔ جیسا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں فی الحال کسی قسم کے معاہدے کے تاثر کو زائل کرتے آئے ہیں اور خود تحریکِ انصاف کی قیادت نے بھی ہمیشہ کسی ڈیل کی نفی کی ہے۔ یوں یہ ثابت ہوا کہ یہ ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ خالصتاً عدالتی احکامات اور انتظامی و سکیورٹی فیصلے کے تحت تھا، جسے تجزیہ کاروں نے وقتی طور پر ڈیل کا رنگ دیا اور پھر حقیقت سامنے آنے پر واپس اپنے موقف پر لوٹ آئے۔ ان تجزیوں کے سحر سے آزاد ہونے کے بعد اب جبکہ متعلقین بھی نارمل ہوئے ہیں تو کہیں سے مزاحمت کرنے، کہیں سے حکومت کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ دائر کرنے کے اقدامات اور کہیں سے پرانے طعن و تشنیع کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں جبکہ عام پاکستانی اسی طرح مصائب میں گھرا ہوا ہے۔ جس طرح کہ ہسپتال پرینک سے قبل اور 2018ء سے 2022ء تک جکڑا ہوا تھا۔ یاد رہے یہ وہی عام پاکستانی ہے جس عام پاکستانی کی ہمدردی اور محبت کا دعویٰ یہ تمام ظالم اور مظلوم سیاسی اشرافیہ ہمیشہ سے کرتی آئی ہے، کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔







