ColumnRoshan Lal

ترقیاتی کاموں کی افسوسناک حقیقت

ترقیاتی کاموں کی افسوسناک حقیقت
روشن لعل
ترقیاتی کاموں کی تعریف کا دائرہ بہت وسیع ہے مگر پاکستان میں ان کاموں کو نکاسی و فراہمی آب،، سڑکوں، پلوں اور دیگر سرکاری عمارتوں وغیرہ کی نمائشی تعمیر تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جن تعمیرات کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مفاد عامہ سے ہو، انہیں مکمل کرنے کی ذمہ داری حکمرانوں اور حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے ۔ حکمرانوں کے حکم پر ہونے والے تعمیراتی کاموں کی روایت بہت پرانی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ خاندان کے ہر بادشاہ اور بعض شہزادے شہزادیوں کوبھی باغات، محلات اور بارہ دریوں کی تعمیر کے حوالے سے خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے ۔ مغلوں کی ان تعمیرات کو فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تو مانا جاتا ہے مگر ان کا عام آدمی کے مفادات سے کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ مفاد عامہ کے حوالے سے کی گئی تعمیرات کے لیے اگر کسی بادشاہ کو آج بھی سراہا جاسکتا ہے تو وہ شیر شاہ سوری تھا۔ شیر شاہ سوری شاید برصغیر کا واحد بادشاہ تھا جس کے سات سالہ دور حکومت کے دوران کی گئی تعمیرات میں مفاد عامہ کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ شیر شاہ سوری کی مفاد عامہ میں کی گئی تعمیرات کی روایت کو بعد ازاں برصغیر کا کوئی بھی بادشاہ یا راجہ، مہاراجہ آگے نہ بڑھا سکا۔ برصغیر میں یورپی ماڈل کے مطابق،مفاد عامہ کے تحت تعمیرات کا صحیح معنوں میںآغاز انگریز دور میں ہوا۔ مفاد عامہ کا خیال رکھنا انگریزوں کی ترجیح ہر گز نہیں تھی مگر جو مفادات وہ یہاں حاصل کرنا چاہتے تھے ان کا حصول اس خاص انفراسڑکچر کی تعمیر کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا جس کے ساتھ عام آدمی کے مفادات بالواسطہ طور پرجڑے ہوئے تھے۔ یوں انگریزوں نے جس ماڈل کے مطابق یہاں تعمیر و ترقی کے کام کیے اس کے تحت یورپ میں کئی صدیاں قبل تعمیرات کا آغاز ہو چکا تھا۔ تعمیر و ترقی کا یورپی ماڈل کیا تھا اور اس کے مطابق وہاں کیا کام ہورہے تھے اس کی ایک مثال فرانس کے شہر پیرس کا سیوریج سسٹم ہے۔ پیرس کے شہریوں کے لیے استعمال شدہ پانی کے زیر زمین نکاس پر کام تو بارہویں صدی کے اختتام پر شروع ہوا مگر یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ بعد ازاں چودہویں صدی کے آخر میں پیرس کے لیے سیوریج کے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا گیا جو اگلے چار سو سال تک کامیابی سے چلتا رہا۔ چار سو سال بعد جب اس منصوبے میں مسائل پیدا ہوئے تو انیسویں صدی کے شروع میں اس کی تعمیر ، مرمت، ترمیم اور توسیع پر کام کیا گیا ۔ یورپ کے صنعتی انقلاب کے بعد نئی ضرورتوں کے مطابق اس سیوریج سسٹم میں جو توسیع ہوئی اس کے نتیجے میں 1875ء تک اس کی طوالت360میل تک پہنچ گئی ۔ اس سسٹم میںوقتاً فوقتاً ہونے والی توسیع کے بعد آج اس کی لمبائی 1300سو میل سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ بات شاید کچھ لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہو کہ پیرس کی سیر کو جانے والے بعض سیاح اس شہر کی سطح زمین پر موجود عمارات کی ہی نہیں بلکہ زیر زمیں بچھائے گئے میلوں لمبے سیوریج سسٹم کی سیاحت بھی کرتے ہیں۔ پیرس کے سیوریج سسٹم کی سیاحت کی بات تو یہاں ضمنی طور پر بیان ہو گئی ورنہ اس نادر نمونے کا حوالہ دینے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مفاد عامہ کے تحت کیے گئے تعمیرو ترقی کے کام نہ صرف صدیوں تک کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ اس طرح کے کاموں کی بنیاد اگر آنے والے دور کی ممکنہ ضرورتوں اور تقاضوں کی پیش بینی کرنے کے بعد رکھی گئی ہو تو وقت گزرنے کے ساتھ ان میں توسیع بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس مثال کی روشنی میں یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ انگریزوں نے یورپین ماڈل کے مطابق یہاں جن ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ان میں اتنی گنجائش موجود تھی کہ آنے والے وقتوں کے دوران اگر ان میں طے شدہ اصول اور ضوابط کے مطابق توسیع کی جاتی تو یہ صدیوں تک کارآمد ثابت ہو سکتے تھے۔ اب یہاں یہ بتانا ضروری ہو گیا ہے کہ انگریزوں کے تعمیراتی اسلوب اور ڈھانچے کے ساتھ ہم نے بعدازاں کس طرح کا سلوک کیا۔
قیام پاکستان کے بعد 1970ء کی دہائی کے آخر تک یہاں زیادہ تر انگریز دور میں کیے گئے تعمیر و ترقی کے کاموں پر ہی گزارہ کیا جاتا رہا۔ اس دوران اگر کہیں کوئی نئی تعمیرات ہوئیں بھی تو ان کے لیے انگریزوں کے تعمیراتی قواعد و ضوابط سے بہت کم روگردانی کی گئی۔ 1980ء کی دہائی کے بعد نہ صرف یہاں آبادی میںتیزی کے ساتھ اضافہ ہونے لگا بلکہ عوام کا دیہاتوں سے شہروں کی طرف تیز رفتار منتقلی کا سلسلہ بھی شروع ہو ا۔ گو کہ 1980ء کی دہائی میں افغان جنگ کے سبب پاکستانی حکمرانوں پر ریالوں اور ڈالروں کی بے پناہ بارش ہوئی مگر یہ بیرونی امداد مفاد عامہ کے منصوبوں کی بجائے کہیں اور ہی خرچ ہوئی اور تعمیر و ترقی کے کام عوام کی ضرورتوں اور وقت کے تضاضوں کے مطابق کرنے کو ترجیح نہ بنایا گیا۔ پاکستان کا یہ ناقابل تردید ریکارڈ ہے کہ یہاں تعمیر و ترقی کے زیادہ تر کاموں کے لیے اپنے وسائل کی بجائے بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں ملنے والی رقم پر انحصار کیا گیا۔ بیرونی دنیا نے ترقیاتی کاموں کے لیے امداد ، ہمیں ہماری نہیں بلکہ اپنی ضرورتوں کے تحت فراہم کی۔ سوویت یونین ٹوٹنے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بیرونی دنیا کو حسب سابق ہماری ضرورت نہ رہی لہذا 1990ء کی دہائی میں نہ تو ہمیں پہلے کی طرح بیرونی امداد اور نہ ہی قرضے مل سکے۔ اس کے بعد نئی صدی کے آغاز پر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے پر، بیرونی دنیا کو پھر سے پاکستان پر ڈالر برسانے کی ضرورت پیش آگئی ۔ اس مرتبہ جو بیرونی امداد دی گئی، اسے مفاد عامہ میں خرچ کرنے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔ یوں یہاں تعمیر و ترقی کے کاموں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ تعمیر و ترقی کے اس نئے دور میں ون یونٹ کے وقت نظر انداز کر دیئے گئے چھوٹے صوبوں کے پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کو دور کیا جاسکتا تھا مگر ایسا کرنے کی بجائے کراچی، لاہور، اسلام آباد ، راولپنڈی ، پشاور اور کسی حد تک کوئٹہ پر زیادہ توجہ دی گئی۔ دہشت گردی کے جنگ کی وجہ سے ملنے والی بیرونی امداد کا سلسلہ ختم ہونے کے ساتھ ہی یہاں نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا ہوا جس کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ صوبوں کا حصہ مرکز سے زیادہ رکھا گیا ۔ صوبوں کا حصہ زیادہ ہونے کا اثر ہر صوبے میں پہلے سے زیادہ تعمیر و ترقی کے کاموں کی شکل میں نظر آیا۔ اس مرتبہ بھی جس صوبے کو اس کاطے شدہ اور مکمل حصہ بروقت ملتا رہا وہاں کام بھی زیادہ ہوئے۔ افسوس کہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مفاد عامہ کے تحت کھربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے نکاسی آب کے منصوبوں میں سے کوئی منصوبہ پیرس کے سیوریج سسٹم کو ماڈل بنا کر مکمل نہیں کیا گیا ۔ ترقیاتی کاموں کے نام پر مکمل کیے گئے نکاسی آب کے یہ منصوبے حالیہ بارشوں کے دوران کس قدر نمائشی اور ناکام ثابت ہوئے ، یہ حقیقت کچھ بڑے بڑے میڈیا ہائوسز کے علاوہ یہاں ہر کسی پر آشکار ہو چکی ہے۔

جواب دیں

Back to top button