Column

مشکل وقت میں عوام کیلئے بڑا فیصلہ

اداریہ۔۔۔۔
مشکل وقت میں عوام کیلئے بڑا فیصلہ
دنیا اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہی ہے۔ جنگی کشیدگی، عالمی منڈی میں بے یقینی، توانائی کے بحران اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو نے بیشتر ممالک کی معیشتوں کو دبائو میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم موجودہ حکومت نے اس مشکل صورتحال میں عوامی مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں ردوبدل کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ معاشی فیصلوں کے مرکز میں عام آدمی کے مفاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 32روپے 63پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 363روپے 6پیسے مقرر ہوئی ہے۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں 2روپے 97پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے اور نئی قیمت 337روپے 51پیسے مقرر کی گئی ہے۔ بظاہر پٹرول کی قیمت میں اضافہ عام صارف کے لیے باعث تشویش ہوسکتا ہے، مگر ڈیزل کی قیمت میں ہونے والی بڑی کمی اس پورے فیصلے کا اہم ترین پہلو ہے، کیونکہ ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ ملک کی معاشی سرگرمیوں کا ایک بنیادی محرک ہے۔ پاکستان کی زراعت، مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، صنعت اور تعمیراتی شعبہ بڑی حد تک ڈیزل سے جڑے ہوئے ہیں۔ ٹریکٹر سے لے کر ٹرک تک، بس سے لے کر زرعی مشینری تک، بے شمار شعبے ڈیزل کی قیمت سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اثر محض پمپ پر گاڑی میں ایندھن ڈلوانے والے صارف تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل سکتے ہیں۔ اگر نقل و حمل کے اخراجات کم ہوتے ہیں تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل نسبتاً سستی ہوسکتی ہے۔ اگر زرعی مشینری کے اخراجات میں کمی آتی ہی تو کسان کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ اگر مال برداری کا بوجھ کم ہوتا ہے تو کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملتا ہے۔ یوں ڈیزل کی قیمت میں کمی بالواسطہ طور پر مہنگائی کے دبائو کو کم کرنے میں بھی معاون بن سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت خود اس امر کا اعتراف کر رہی ہے کہ عوام معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا یہ کہنا کہ حکومت عوام کی مشکلات اور تکالیف سے آگاہ ہے اور ممکنہ ریلیف فوری دینے کی کوشش کرتی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے حکومتی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے فیصلے کا حوالہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے کہ مشکل حالات میں ریاست کا کردار صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔ یقیناً پٹرول کی قیمت میں 2روپے 97پیسے کا اضافہ صارفین کے لیے خوش آئند نہیں، لیکن عالمی حالات کو نظرانداز کرکے کسی بھی فیصلے کا تجزیہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ جنگی کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور رسد کو شدید دبا کا سامنا رہا ہے۔ ڈیزل کی دستیابی سے متعلق متعدد ممالک کو مشکلات پیش آنا بھی اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے ملک کے لیے قیمتوں کا تعین ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ معاشی عمل بن جاتا ہے۔ حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ عالمی منڈی کے دبا اور ملکی صارف کی قوتِ خرید کے درمیان ایسا توازن برقرار رکھا جائے جس سے معیشت بھی چلتی رہے اور عوام پر غیر ضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔ موجودہ فیصلے میں ڈیزل کی قیمت میں 32روپے سے زائد کمی اسی توازن کی ایک کوشش دکھائی دیتی ہے۔ اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو پٹرولیم لیوی سے متعلق ہے۔ اوگرا ذرائع کے مطابق ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کرکے اسے 80روپے فی لٹر کیا گیا ہے جبکہ پٹرول پر بھی 80روپے فی لٹر لیوی برقرار ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو ایک طرف عوامی ریلیف اور دوسری جانب قومی خزانے کی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔ ریاستی معاملات محض ایک قیمت کم یا زیادہ کرنے سے نہیں چلتے۔ حکومت کو دفاع، ترقی، صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر اور دیگر قومی ذمے داریوں کے لیے وسائل بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں۔ یہاں حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے اور ساتھ ہی مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی موثر نگرانی کی جائے تو اس فیصلے کے مثبت اثرات مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ محض پٹرول پمپ پر قیمت کم ہونا کافی نہیں، ضروری ہے کہ ٹرانسپورٹر، صنعت کار، تاجر اور دیگر معاشی طبقات بھی اپنے اخراجات میں کمی کا مناسب فائدہ صارفین تک منتقل کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والی بڑی کمی کے بعد مارکیٹ میں اس کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لے۔ اشیائے خورونوش کی ترسیل، کرایوں، زرعی اخراجات اور صنعتی لاگت میں کمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے۔ اگر ایندھن سستا ہو مگر اشیا کی قیمتیں کم نہ ہوں تو عوام کو مطلوبہ ریلیف مکمل طور پر نہیں مل سکے گا۔ یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ حکومت مشکل حالات میں عوامی مشکلات کو محض اعداد و شمار کے ذریعے نہیں بلکہ انسانی مسئلے کے طور پر دیکھنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں متوسط اور کم آمدن والے طبقات اپنی محدود آمدن میں گھر کا بجٹ چلانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ممکنہ ریلیف کی کوشش اسی لیے اہمیت رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسی جذبے کو وسیع تر معاشی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھائے۔ پٹرولیم قیمتوں میں وقتی ریلیف کے ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی پیداوار، زرعی خودکفالت، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دی جائے۔ پاکستان کو عالمی منڈی کے اتار چڑھائو سے محفوظ بنانے کے لیے طویل المدتی معاشی بنیادیں مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ موجودہ صورت حال ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قومی بحران صرف حکومت کی ذمے داری نہیں ہوتے۔ عوام، کاروباری طبقہ، صنعت کار، تاجر اور تمام معاشی اداروں کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر حکومت ریلیف فراہم کرے اور مارکیٹ کے مختلف طبقات اس ریلیف کو آگے منتقل کرنے کے بجائے اپنے منافع میں جذب کر لیں تو عوامی فائدہ محدود ہوجائے گا۔ لہٰذا ڈیزل کی قیمت میں 32روپے 63پیسے کی نمایاں کمی کو صرف ایک نوٹیفکیشن نہیں بلکہ مشکل معاشی حالات میں عوام کو سہارا دینے کی حکومتی کوشش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پٹرول میں معمولی اضافے کے باوجود ڈیزل میں بڑی کمی ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے وسیع معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ آج ضرورت حکومت کی ہر پالیسی کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کے معاشی نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کی ہے۔ جہاں تنقید ضروری ہو وہاں تنقید ہونی چاہیے، مگر جہاں عوامی مفاد میں کوئی مثبت قدم اٹھایا جائے وہاں اس کا اعتراف بھی قومی دیانت داری کا تقاضا ہے۔ مشکل وقت میں ریاست کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑتی ہے یا ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ پٹرولیم قیمتوں کے حالیہ فیصلے سے حکومت نے کم از کم یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ عالمی بحران کے باوجود عوامی ریلیف کا راستہ بند نہیں ہوا۔ اگر اس ریلیف کے اثرات کھیت، بازار، صنعت، ٹرانسپورٹ اور بالآخر عام گھر کے چولہے تک پہنچ گئے تو یہ فیصلہ محض قیمت میں کمی نہیں رہے گا، بلکہ مشکل وقت میں حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی ایک مضبوط کڑی بن جائے گا۔

 

 

شذرہ۔۔۔
منشیات کیخلاف بڑی کارروائی
ضلع پشین کے علاقے یارو میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے منشیات تیار کرنے والی فیکٹری کے خلاف کارروائی ایک اہم کامیابی ہے۔ فیکٹری سے قریباً 33ہزار 600کلوگرام منشیات برآمد کرکے موقع پر تلف کرنا اور فیکٹری کو مسمار کرنا اس امر کا واضح اظہار ہے کہ ریاست منشیات کے کاروبار کو معاشرے، نوجوان نسل اور قومی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ سمجھتی ہے۔ اس کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ فیکٹری میں آئس سمیت دیگر منشیات تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والا سامان بھی موجود تھا۔ اس کا مطلب ہی کہ یہ محض ذخیرہ کرنے کا مقام نہیں بلکہ باقاعدہ پیداوار کا مرکز تھا۔ برآمد ہونے والی منشیات کی قریباً 26کروڑ 88لاکھ روپے مالیت اس غیر قانونی کاروبار کے حجم اور اس کے پیچھے موجود منظم نیٹ ورک کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ منشیات کسی بھی معاشرے کے لیے خاموش تباہی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس کا سب سے خطرناک ہدف نوجوان ہوتے ہیں، جو کسی بھی ملک کی معاشی اور علمی ترقی کی اصل قوت ہیں۔ ایک نوجوان اگر تعلیم، ہنر اور روزگار کے بجائے نشے کی دلدل میں پھنس جائے تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا، پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے منشیات کے خلاف کارروائی دراصل آنے والی نسلوں کے تحفظ کی جنگ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کارروائیوں کو صرف چھاپوں اور گرفتاریوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ منشیات کی مکمل سپلائی چین کو توڑا جائے۔ تیار کرنے والوں، اسمگلروں، سہولت کاروں اور فروخت کنندگان تک قانون کی گرفت پہنچنی چاہیے۔ اگر پیداوار کا مرکز بند ہوجائے مگر تقسیم کا نیٹ ورک برقرار رہے تو مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی نوجوانوں میں آگاہی، تعلیمی اداروں میں انسداد منشیات پروگرام، کھیلوں کے مواقع اور صحت مند سرگرمیوں کا فروغ بھی ناگزیر ہے۔ والدین اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی یقیناً اہم ہے، مگر کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ آئندہ ایسی فیکٹریاں قائم نہ ہونے دی جائیں۔ ریاستی اداروں کے درمیان موثر رابطہ، جدید نگرانی، سخت قانونی کارروائی اور آپریشن ہی اس ناسور کا پائیدار علاج بن سکتے ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں، پوری قوم کی جنگ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی نوجوان نسل کو محفوظ کرلیا تو ہم اپنے مستقبل کو محفوظ کرلیں گے۔

جواب دیں

Back to top button