Column

موبائل فون: جدید سہولت یا نئی نسل کی خاموش تباہی؟

موبائل فون: جدید سہولت یا نئی نسل کی خاموش تباہی؟
تحریر : سید پرویز علی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ انسان نے اپنی عقل کے ذریعے بے شمار ایجادات کیں جنہوں نے زندگی کو آسان، تیز اور جدید بنا دیا۔ انہی ایجادات میں موبائل فون بھی شامل ہے، جو بلاشبہ رابطے، تعلیم، تجارت، علاج، معلومات اور دنیا بھر سے فوری رابطے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ لیکن ہر نعمت کی طرح اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو وہ نعمت زحمت میں بدل جاتی ہے۔ آج یہی موبائل فون ہماری نئی نسل، ہمارے خاندانوں اور معاشرتی اقدار کے لیے ایک سنگین آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
آج سے صرف پندرہ یا بیس سال پہلے بچے اسکول سے واپس آکر میدانوں میں کھیلتے تھے، کتابیں پڑھتے تھے، والدین اور بزرگوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور معاشرتی اقدار سیکھتے تھے۔ نوجوان مسجد میں نماز ادا کرتے، دینی تعلیم حاصل کرتے، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیتے اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ بچے، نوجوان بلکہ بڑے بھی صبح آنکھ کھلنے سے رات سونے تک موبائل فون کی اسکرین سے چمٹے رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے موبائل ہماری ضرورت نہیں بلکہ ہماری زندگی پر حکمرانی کرنے لگا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے والدین خود بھی اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتے۔ جب بچہ روتا ہے یا ضد کرتا ہے تو اسے خاموش کرانے کے لیے فوراً موبائل فون ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔ چند لمحوں کی آسانی کے لیے والدین انجانے میں اپنے بچے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کم عمر بچوں کے دماغ مسلسل نشوونما کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں، مگر کئی کئی گھنٹے اسکرین دیکھنے سے ان کی توجہ، یادداشت، تخلیقی صلاحیت، بولنے کا انداز، جسمانی سرگرمی اور سیکھنے کی رفتار متاثر ہونے لگتی ہے۔ ایسے بچے نہ کھل کر کھیلتے ہیں، نہ کتابوں سے دوستی کرتے ہیں اور نہ ہی معاشرتی آداب سیکھ پاتے ہیں۔
نوجوان نسل کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، آن لائن گیمز، فضول تفریح، غیر اخلاقی مواد اور بے مقصد چیٹنگ نے لاکھوں نوجوانوں کا قیمتی وقت ضائع کر دیا ہے۔ کئی نوجوان پوری پوری رات موبائل استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بھی خراب ہوتی ہے۔ نیند کی کمی، ذہنی دبائو، چڑچڑاپن، بے چینی، ڈپریشن اور تنہائی جیسے مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ طلبہ کی کتابوں میں دلچسپی کم اور موبائل میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ کلاس روم میں توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ذہن ہر وقت سوشل میڈیا اور موبائل نوٹیفکیشنز کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
دینی اعتبار سے بھی موبائل کا غلط استعمال ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ نماز کے اوقات میں بھی بہت سے نوجوان موبائل پر مصروف رہتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت، دینی تعلیم، والدین کی خدمت اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزار دئیے جاتے ہیں۔ اگرچہ موبائل پر قرآن، احادیث، اسلامی لیکچرز اور دینی تعلیم بھی موجود ہے، مگر بدقسمتی سے ان سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد کم اور غیر ضروری مواد دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
خاندانی نظام بھی اس رجحان سے شدید متاثر ہوا ہے۔ پہلے گھر کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کے مسائل سنتے تھے۔ اب اکثر ہر فرد کے ہاتھ میں الگ موبائل ہے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دلوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیاں، بداعتمادی، غیر ضروری تعلقات، سوشل میڈیا پر تنازعات اور وقت نہ دینے کی شکایات نے کئی خوشحال گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ عدالتوں میں خاندانی مقدمات اور طلاق کے کئی معاملات میں موبائل اور سوشل میڈیا کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو جرائم میں موبائل کا غلط استعمال ہے۔ اغوا برائے تاوان، بلیک میلنگ، جعلی کالز، آن لائن فراڈ، سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں، نامعلوم نمبروں سے بھتے کے پیغامات اور سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معصوم شہری روزانہ کسی نہ کسی شکل میں ان جرائم کا شکار بنتے ہیں۔ خصوصاً نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جعلی اکانٹس اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمارے شہروں اور دیہات میں رات گئے تک کم عمر لڑکوں کا چوراہوں، ہوٹلوں یا گلیوں میں بیٹھ کر موبائل استعمال کرنا ایک عام منظر بن چکا ہے۔ بارہ سے پندرہ سال کی عمر کے بچے گھنٹوں گانے، فلمیں، ڈرامے یا ایسا مواد دیکھتے رہتے ہیں جو ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ اس کا اثر ان کی گفتگو، اخلاق، کردار، تعلیم اور مستقبل پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موبائل فون بذاتِ خود برا ہے، کیونکہ یہی موبائل ڈاکٹر کو مریض سے، طالب علم کو علم سے، تاجر کو کاروبار سے اور بیرونِ ملک رہنے والے افراد کو اپنے خاندان سے جوڑتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ اس کا بے جا اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اگر موبائل علم، تحقیق، کاروبار، دینی تعلیم اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہو تو یہ ترقی کا ذریعہ ہے، لیکن اگر یہی وقت ضائع کرنے، غیر اخلاقی مواد دیکھنے اور غلط سرگرمیوں میں استعمال ہو تو یہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اس لیے حکومت، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنمائوں اور میڈیا کو مل کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل آگاہی دی جائے، والدین بچوں کے موبائل استعمال پر نظر رکھیں، اسکرین ٹائم محدود کریں، بچوں کو کھیل، مطالعہ، دینی تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ حکومت بھی کم عمر بچوں کے لیے آن لائن تحفظ، نقصان دہ مواد تک رسائی محدود کرنے اور سائبر جرائم کے خلاف موثر اقدامات کو مزید مضبوط بنائے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے بچے ہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، عالم، فوجی، جج اور ملک کے رہنما بنیں گے۔ اگر ان کا بچپن اور نوجوانی موبائل کی لت میں گزر گئی تو قوم کا مستقبل بھی متاثر ہوگا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم موبائل کو اپنا غلام بنائیں، اس کے غلام نہ بنیں۔ یہی دانشمندی ہے، یہی ہماری ذمہ داری ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی۔
سید پرویز علی

جواب دیں

Back to top button