CM RizwanColumn

اعدادکا ہیر پھیر اور مفلسی کے ڈھیر 

اعداد کا ہیر پھیر اور مفلسی کے ڈھیر

تحریر : سی ایم رضوان

پاکستان کا حالیہ مالیاتی بجٹ 2026۔27ایک ایسے نازک معاشی موڑ پر پیش کیا گیا ہے جہاں معیشت کو سنبھالنے اور عوام کو ریلیف دینے کے درمیان ایک گہرا تضاد نظر آتا ہے۔ گو کہ سرکاری سطح پر اسے یکطرفہ طور پر ایک ’’ عوام دوست اور فلاحی بجٹ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اور اقتصادی اشاریے کچھ اور ہی پتہ دیتے ہیں۔ غریب عوام کی زندگی پر اس بجٹ کے تباہ کن اثرات دو مختلف پہلوں سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بجٹ کے حوالے سے حکومتی دعوے اور ریلیف کے اقدامات کے بعض مثبت پہلو بھی ہیں جیسا کہ حکومت کا موقف ہے کہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کے ثمرات کو براہِ راست نچلے طبقے تک پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ کم اور درمیانی آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس سلیبز میں کچھ ردوبدل کی تجاویز دی گئی ہیں تاکہ ان پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی فلاحی اسکیموں کے بجٹ میں اضافے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاکہ انتہائی غریب خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جا سکے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ کا پھیلا بھی اس حوالے سے مثبت پہلو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اب ریٹیلرز، رئیل اسٹیٹ اور بڑے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لا رہی ہے تاکہ سارا بوجھ صرف غریب یا تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے لیکن یہ صرف امید اور منصوبہ بندی کی حد تک ہے۔

بجٹ کے تناظر میں ان قدرے کم مثبت اشاریوں کے ساتھ ساتھ تلخ حقائق یہ بھی ہیں کہ مہنگائی اور بدحالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ اس بجٹ میں سو سے زائد روزمرہ اشیاء پر 18فیصد زائد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، معاشی ماہرین اور حالیہ اقتصادی سروے 2025۔26کے دیگر اعداد و شمار بھی غریب عوام کے لئے کسی بڑی خوشخبری کی نوید نہیں دیتے۔ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح پچھلے چند برسوں میں 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کا مطلب ہے کہ لگ بھگ 2کروڑ 70لاکھ مزید لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح 36فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت پر ٹیکس وصولی کا ہدف بڑھانے ( قریباً 37فیصد اضافے) کا شدید دبائو ہے اور جب تک ملک میں زراعت، رئیل اسٹیٹ اور بڑے مگر مچھوں پر ٹیکس نہیں لگتا، تب تک ریونیو پورا کرنے کے لئے پٹرولیم لیوی، بجلی، گیس اور عام اشیاء پر بالواسطہ ٹیکس بڑھانے پڑتے ہیں، جس کا سیدھا اثر غریب کی جیب پر زندگی کی تمام ضروریات کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں پڑتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ موجودہ بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کو محدود کر دیا گیا ہے اور دفاع و داخلہ کے سوا نئے ترقیاتی منصوبوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس کٹوتی سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی رفتار سست رہے گی، جو غریب طبقے کے لئے سب سے بڑا سہارا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مزدوری کے نیٹ ورک میں نئے شامل ہونے والے نوجوانوں کے لئے انتہائی حوصلہ شکن ہوتا ہے۔ یعنی اگرچہ حکومت نے بجٹ کو متوازن بنانے کی موہوم سی عارضی کوشش کی ہے، لیکن معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ملکی معیشت میں بنیادی اصلاحات نہیں ہوتیں اور پٹرول و بجلی کی قیمتیں نمایاں طور پر نیچے نہیں آتیں، عام آدمی کے لئے سانس تک لینا مشکل رہے گا۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ بجٹ غریب کی زندگی میں کوئی انقلابی مثبت تبدیلی لا سکے گا؛ بلکہ اندیشہ یہی ہے کہ مہنگائی کا بوجھ بدحالی کی خلیج کو مزید وسیع کر سکتا ہے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ملک میں مفلسی کے مزید انبار جمع ہو جائیں گے۔ اس نوعیت کا عام پاکستانی کا یہ خدشہ اور غصہ بالکل فطری ہے، کیونکہ پاکستان میں جب بھی بجٹ آتا ہے، عام آدمی کے ذہن میں پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ ’’ اب مزید کیا مہنگا ہونے والا ہے؟‘‘، ماضی کے تلخ تجربات اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام کا یہ سوچنا غلط نہیں ہے۔ اگر ہم مالی سال 27۔2026 کے بجٹ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں، تو اس میں نظر آتا ہے کہ ایف بی آر نے دودھ، گھی اور عام استعمال کی گھریلو اشیاء پر ٹیکسز اور سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھایا ہے، جس کا براہِ راست اثر غریب اور مڈل کلاس کی جیب پر پڑتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے اہداف برقرار یا بڑھائے گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھائو آئے گا، عام آدمی کے لئے ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہوں گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس

بجٹ سے تنخواہ دار طبقہ علیحدہ سے پریشان ہو گیا ہے گو کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس سلیبس میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ 22سے 32لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں پر ٹیکس 23سے کم کر کے 20فیصد، 32سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 30سے گھٹا کر 25فیصد، 41سے 56لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس 35فیصد سے کم کر کے 29فیصد کر دیا ہے جبکہ 70لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک تنخواہوں کے لئے ٹیکس 35 سے کم کر کے 32فیصد کر دیا گیا ہے، لیکن مہنگائی کی شرح ( جو قریباً 8.2%متوقع ہے) کے سامنے یہ ٹیکس ریلیف اور تنخواہوں میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا ہے: مثال کے طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 17 فیصد کا نمایاں اضافہ کر کے اسے 838ارب روپے کر دیا گیا ہے، تاکہ قریباً 1کروڑ 20لاکھ مزید غریب خاندانوں کو ( بھکاری بنا کر) براہِ راست نقد امداد دی جا سکے۔ البتہ طبی اشیاء پر ریلیف کے طور پر سینٹری پیڈز، مانع حمل ادویات اور کینسر کی ادویات کے خام مال پر سے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے جو کہ ضروری درست عمل ہے۔ کم از کم اجرت اور پینشن میں بھی معمولی اضافہ کر کے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری گئی ہے یعنی مزدور کی کم از کم اجرت اور سرکاری ملازمین کی پینشنز میں 7سے 10فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے ( اگرچہ یہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے)۔ حالانکہ اصل اور مستقل مسئلہ تو یہ ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بغیر ہر بجٹ غریب پاکستانی پر ہی بوجھ بنتا ہے۔ جب تک بڑے جاگیرداروں، ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ کے بڑوں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا اور حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کرتی، تب تک آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت بننے والے ایسے بجٹ عام آدمی کے لئے ’’ مفلسی میں اضافے‘‘ کا باعث ہی بنتے رہیں گے جبکہ اس بجٹ میں غریب عوام کو ریلیف دینے کے لئے سب سے پہلا اور فوری قدم یہ اٹھایا جانا چاہیے تھا کہ اگر ہم پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور غریب عوام کی فوری ضرورتوں کو دیکھیں، تو بجٹ میں سب سے پہلا اور انقلابی قدم یہ ہونا چاہیے تھا کہ روزمرہ کی بنیادی خوراک پر سے تمام بالواسطہ ٹیکسز کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے تھا۔

عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ موبائل فون یا گاڑیاں کتنی مہنگی ہوئیں، بلکہ اس کا اصل مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت آٹا، گھی اور دالوں پر ٹیکس زیرو کرتی۔

بجٹ میں ریونیو اکٹھا کرنے کے لئے دودھ، مکھن اور پیکڈ اشیاء پر جو ٹیکس لگائے گئے ہیں، ان کی بجائے آٹا، چینی، گھی، دالیں اور بچوں کے دودھ کو سیلز ٹیکس سے مکمل استثنیٰ ملنا چاہیے تھا۔ غریب کی آمدن کا 50سے 60فیصد حصہ صرف باورچی خانے کے راشن پر خرچ ہو جاتا ہے، اس لئے یہاں ریلیف دینا سب سے پہلا حق تھا۔ موجودہ بجٹ میں غریبوں کے لئے بجلی پر سبسڈی تو رکھی گئی ہے، لیکن اصل ریلیف تب ملتا جب پچھلے سالوں کے دوران بجلی صارفین پر لگائے گئے بھاری ٹیکسز اور سرچارجز ( جیسے فیول ایڈجسٹمنٹ اور سرکلر ڈیٹ چارجز) کو 200یا 300یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں سے مستقل طور پر ہٹا دیا جاتا کیونکہ غریب کے لئے بلوں کا بوجھ اب کرایوں سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ پٹرولیم لیوی کا بوجھ عام آدمی سے ہٹایا جائے، پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس بڑھانے سے صرف بائیک چلانے والا متاثر نہیں ہوتا، بلکہ ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہونے سے ہر سبزی، پھل اور اناج کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ پٹرولیم لیوی کا ہدف عام عوام کے بجائے بڑی اور پرتعیش گاڑیوں کے رجسٹریشن ٹیکس یا ان کے پٹرول پر وِد ہولڈنگ ٹیکس بڑھا کر پورا کرتی۔

دوسرے الفاظ میں حکومت کو اپنا ٹیکس ریونیو غریب کی پلیٹ سے نکالنے کے بجائے ان شعبوں سے اکٹھا کرنا چاہیے تھا جو سالوں سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ جیسے بڑے جاگیردار، رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کار، اور ہول سیل مارکیٹ کے بڑے تاجر۔ جب تک ٹیکس کا یہ رخ امیر سے غریب کی طرف نہیں مڑے گا، بجٹ صرف ہندسوں کا ہیر پھیر ہی رہے گا۔

موجودہ بجٹ میں غریب طبقے کی محرومی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ترقیاتی اور فلاحی بجٹ کی نسبت غیر ترقیاتی اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر زیادہ خرچ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بالواسطہ ٹیکسوں ( ان ڈائریکٹ ٹیکسز) کا نظام غریب عوام کی قوت خرید کو بری طرح نچوڑ لیتا ہے، جس سے امیر اور غریب کے درمیان معاشی خلیج مزید بڑھ جاتی ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ کی اشیائے خورونوش پر لگنے والے ٹیکس امیر اور غریب دونوں سے یکساں وصول کیے جاتے ہیں۔ اپنی کم آمدنی کے باعث غریب طبقہ ان ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ بجٹ میں پیش کردہ اہداف اکثر افراط زر کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں اور غریب کی آمدنی ان کے مقابلے میں بہت کم رہ جاتی ہی۔ بجٹ کی تشکیل کے دوران اشرافیہ، بڑی صنعتوں اور سرکاری افسران کی مراعات اور سبسڈیز کو برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ عام آدمی کے لئے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں بجٹ کے دوران تنخواہ دار طبقے کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس کی مد میں کٹ جاتا ہے، جبکہ بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ غریب طبقے کو محرومی سے نکالنے کے لئے ضروری تھا کہ بجٹ میں غریب دوست پالیسیاں متعارف کروائی جائیں۔ یوٹیلٹی بلوں اور بنیادی خوراک پر براہ راست سبسڈی دی جاتی۔ بالواسطہ ٹیکسوں ( جیسے پٹرول پر لیوی) کا بوجھ کم کر کے براہ راست ٹیکس کا دائرہ کار امیر طبقے تک بڑھایا جاتا۔

 

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button