کی خاموش بغاوت: ایک معاشی المیہ

بقا کی خاموش بغاوت: ایک معاشی المیہ
تحریر : قادر خان یوسف زئی
پاکستان کے موجودہ معاشی منظر نامے پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ لوگ اب مجبور نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنی بقا کے لیے تلخ راستے چن لیے ہیں۔ یہ کوئی مستقبل کا اندیشہ نہیں بلکہ وہ تبدیلی ہے جو عملی طور پر ہو چکی ہے۔ جب اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر اس بے دردی سے لاد دیا جائے کہ زندہ رہنا بھی ایک عیاشی محسوس ہونے لگے، تو شہری اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے ازخود فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس وقت سب سے نمایاں اور تشویشناک رجحان کیش اکانومی کا بے تحاشا فروغ ہے۔ ایک طویل عرصے تک حکمران طبقہ اور معاشی پالیسی ساز یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ ملک میں دستاویزی معیشت کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ بینکنگ کے نظام پر عائد کردہ بھاری ٹیکسوں، ود ہولڈنگ ٹیکسز کی بھرمار، نان فائلرز کے لیے جرمانوں جیسی کٹوتیوں اور آئے روز نت نئے سرچارجز نے عوام اور تاجر برادری کا بینکنگ سسٹم سے اعتبار ہی اٹھا دیا ہے۔ لوگ اب بینکوں کے ذریعے لین دین کرنے سے شدید کترانے لگے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے ہول سیلرز اور صنعت کاروں تک، ایک بہت بڑی اکثریت اپنے کاروبار کو صرف نقد رقم کی بنیاد پر چلا رہی ہے۔ اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز روزانہ کی بنیاد پر بینکوں کے بجائے کیش کی صورت میں ہو رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معیشت کا ایک بہت بڑا، اور شاید سب سے متحرک حصہ، دستاویزی نیٹ ورک سے مکمل طور پر باہر ہو چکا ہے۔
دوسرا انتہائی خطرناک پہلو انفارمل سیکٹر اور اسمگلنگ پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔ جب درآمدی اشیاء پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح کو اس حد تک بڑھا دی جائے کہ وہ اشیاء عام آدمی کی قوتِ خرید سے ہی باہر ہو جائیں، تو وہاں قانونی تجارت دم توڑ دیتی ہے اور اسمگلنگ مافیا کے لیے میدان خالی ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان کی مارکیٹوں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ الیکٹرانکس، موبائل فونز، کاسمیٹکس، ٹائرز، اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء کا ایک بہت بڑا حصہ غیر قانونی راستوں سے ملک میں آ رہا ہے۔ قانونی طور پر امپورٹ کرنے والے تاجروں کے لیے کاروبار کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ وہ بھاری ڈیوٹیز ادا کر کے مارکیٹ میں اسمگل شدہ سستے سامان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عام آدمی کے لیے بھی یہ ایک مجبوری بن چکی ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان میں، جہاں دو وقت کی روٹی پوری کرنا محال ہو، وہاں عام شہری قانونی اور غیر قانونی کی بحث میں پڑے بغیر وہ چیز خریدنے کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی جیب پر کم سے کم بوجھ ڈالے۔ ریاست کا وہ ریونیو جو اسے ایک معقول اور متوازن ٹیکس ریٹ سے با آسانی مل سکتا تھا، اب چند کرپٹ اہلکاروں اور اسمگلنگ مافیا کی جیبوں میں جا رہا ہے۔
اس معاشی حبس اور بے حسی کا سب سے بھیانک اور طویل المدتی نقصان برین ڈرین کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے پڑھے لکھے، باصلاحیت اور ہنر مند نوجوان ہوتے ہیں۔ لیکن آج کا پاکستانی نوجوان اس نظام سے مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے۔ وہ پروفیشنلز جو قانونی طریقے سے ملک کے اندر روزگار کما رہے تھے یا اپنا کاروبار کر رہے تھے، اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی محنت کا پھل اشرافیہ کی عیاشیوں کی نذر ہو رہا ہے۔ اس مایوسی نے دو مختلف لیکن یکساں نقصان دہ رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف تو وہ نوجوان جو آئی ٹی یا دیگر فری لانسنگ کے شعبوں سے وابستہ ہیں، وہ اب اپنی کمائی ہوئی غیر ملکی کرنسی پاکستان لانے کے بجائے اسے بیرونِ ملک بینک اکائونٹس یا ڈیجیٹل والٹس میں ہی رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ سرمایہ پاکستان کے بینکوں میں آیا تو اس پر نہ صرف ٹیکسوں کی بھرمار ہو گی بلکہ روپے کی گرتی ہوئی قدر ان کے سرمائے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اس نظام سے اس قدر دلبرداشتہ ہیں کہ وہ اپنا سب کچھ بیچ کر قانونی یا غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ایکسپرٹس، اور ہنر مند افراد کی ایک ریکارڈ تعداد ہر سال اس ملک سے ہجرت کر رہی ہے۔ یہ محض افراد کا انخلا نہیں ہے، بلکہ یہ اس ملک کے مستقبل، اس کی تخلیقی صلاحیتوں اور اس کی تعمیر و ترقی کی امیدوں کا انخلا ہے۔
اعداد و شمار کے ہیر پھیر اور بجٹ تقریروں میں جس نظام کو ’’ دستاویزی معیشت‘‘ کی طرف ایک قدم قرار دیتے ہیں، اس نے عملی طور پر اس کے بالکل برعکس نتائج پیدا کیے ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو ان لوگوں تک وسیع کرنے کے بجائے جو واقعی ٹیکس دینے کی استطاعت رکھتے ہیں لیکن سیاسی رسوخ کی وجہ سے بچے ہوئے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جب تک پاکستان کے ٹیکسیشن کے نظام کو منصفانہ، شفاف اور آسان نہیں بنایا جاتا، ریاست اور عوام کے درمیان یہ خلیج بڑھتی چلی جائے گی۔ معیشت کو ڈنڈے کے زور پر، ایف بی آر کے نوٹسز سے یا بینک اکانٹس منجمد کرنے کی دھمکیوں سے دستاویزی نہیں بنایا جا سکتا۔ اعتماد وہ واحد کرنسی ہے جس پر کوئی بھی معیشت پروان چڑھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے جو غریب اور امیر پر یکساں لاگو ہوتے ہیں، اور براہِ راست ٹیکسوں کو ان طبقات تک بڑھایا جائے جو دہائیوں سے اس ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر قومی خزانے میں ان کا حصہ صفر ہے۔
امپورٹ ڈیوٹیز کو اس سطح پر لانا ہو گا جہاں قانونی تجارت منافع بخش ہو اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہو۔ سرمایہ دار کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ اس کی کمائی پر ڈاکہ نہیں پڑے گا، اور نوجوانوں کو یہ امید دلانی ہو گی کہ ان کے ٹیلنٹ کی قدر اس ملک میں بھی اتنی ہی ہے جتنی کسی مغربی ملک میں۔ اگر حکمران طبقے نے اب بھی زمینی حقائق کا ادراک نہ کیا اور محض کاغذی کارروائیوں اور آئی ایم ایف کی شرائط کی اندھی تقلید میں عوام کا گلا گھونٹنا جاری رکھا، تو وہ وقت دور نہیں جب ریاست کے پاس حکومت کرنے کے لیے تو ادارے ہوں گے، لیکن اس معیشت کو چلانے کے لیے نہ تو سرمایہ ہو گا، نہ ہی وہ باصلاحیت ہاتھ جو اس ملک کو تاریکی سے نکال سکتے ہیں۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اب گیند ریاست کے کورٹ میں ہے۔






