ColumnQadir Khan

تاریخ کے کٹہرے میں سپر پاورز

تاریخ کے کٹہرے میں سپر پاورز
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں، جہاں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں ہے، وہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات نے ایک نئی اور انتہائی حساس نوعیت کی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان روایتی سفارتی کشمکش نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، علاقائی سلامتی، طاقت کے توازن اور خود امریکی داخلی سیاست پر گہرے اور دوررس مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں سی بی ایس نیوز کو دئیی گئے ایک انٹرویو میں اس حوالے سے جو انکشافات کیے ہیں، وہ امید اور تذبذب کا ایک انتہائی پیچیدہ امتزاج پیش کرتے ہیں۔ بنیادی اختلافات کے باوجود سفارتی کوششیں مکمل طور پر دم نہیں توڑیں، اور مئی کے اواخر تک موقر امریکی جریدے ’’ ایکسیوس‘‘ نے یہ رپورٹ دی تھی کہ دونوں فریقین کے مذاکرات کاروں نے ساٹھ روزہ مفاہمت کی ایک یادداشت ( ایم او یو) پر ابتدائی اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم، اس عبوری فریم ورک کی نہ تو تہران نے باقاعدہ تصدیق کی اور نہ ہی صدر ٹرمپ نے اسے حتمی منظوری دی۔
انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ایران طاقت کے استعمال اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کو ایک ایسی نئی تزویراتی حقیقت قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران دانستہ طور پر لبنان کے محاذ کو استعمال کر رہا ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود بنیادی اور سنگین اختلافی امور، جن میں خاص طور پر آبنائے ہرمز پر خود مختاری کے دعوے اور جوہری افزودگی کے معاملات شامل ہیں، سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔ دوسری جانب، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر مشیر مارک کینسیئن نے واضح کیا تھا کہ اگرچہ ایران کی جانب سے جنگی ہرجانے کی وصولی اور آبنائے ہرمز پر مکمل خود مختاری کے مطالبات کو امریکہ ہرگز تسلیم نہیں کرے گا، لیکن دونوں ممالک جوہری معاملات پر اپنے اختلافات کو بتدریج کم کر رہے ہیں۔ مارک کینسیئن کا یہ تبصرہ انتہائی معنی خیز ہے کہ جو چیزیں ہمیشہ نہیں چل سکتیں، وہ بالآخر ختم ہو جاتی ہیں، اور چونکہ دونوں فریقین پر اقتصادی دبا میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اگلے چھ ماہ کے اندر کوئی نہ کوئی معاہدہ ناگزیر ہو جائے گا۔ اسی تناظر میں اٹلانٹک کونسل نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ایران شاید ایک ایسے قلیل المدتی بندوبست کی جانب پیش قدمی کرے جس میں وہ کچھ مخصوص اور خفیہ مراعات کے بدلے اپنا انتہائی افزودہ یورینیم منتقل کرنے پر راضی ہو جائے، جو بعد ازاں ایک بڑے اور جامع معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
امریکی داخلی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ پوری صورتحال ایک دو دھاری تلوار بن چکی ہے۔ پیشین گوئی کرنے والی مارکیٹ ’’ کالشی‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2026ء تک کسی جوہری معاہدے کے طے پانے کا امکان پچپن فیصد ہے، جبکہ اکتوبر سے قبل اس کی شرح محض انچاس فیصد بتائی گئی ہے۔ نیشنل پبلک ریڈیو کی اپریل کی پولنگ رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ امریکی عوام میں ایران کے ساتھ جاری اس تنازعہ کو کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہے، اور اس جنگ کا کوئی فیصلہ کن اور باعزت اختتام ہی ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ وہ ایک جانب بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات اور دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے ان کٹر رہنماں کے درمیان پھنس چکی ہے جن کا خیال ہے کہ وائٹ ہاس ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا ہے۔ پولیٹیکو کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگر یہ تنازع آج ختم بھی ہو جائے، تو گیس اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انتخابی مہم کے دوران حکومتی امیدواروں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔ جے ڈی وینس کا یہ اعتراف کہ معاہدہ ’’ کئی ماہ بعد‘‘ ہو سکتا ہے، اس امر کا غماز ہے کہ تنازعے کا حل وسط مدتی انتخابات کے بعد تک لٹک سکتا ہے، جو انتظامیہ کے بیانیے کے لیے ایک انتہائی تباہ کن صورتحال ہوگی۔
کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی مئی کی رپورٹ کے مطابق، دو محاذوں پر جنگ کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام کا حل طلب رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اب بھی مکمل ہتھیار سازی کے بجائے سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے تجزیے اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی آراء بھی اس امر کی تائید کرتی ہیں کہ تہران نے تاحال جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، بلکہ وہ اس ابہام کو اپنے سفارتی لیوریج کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کی جا سکیں۔ ان ماہرین کے مطابق فضائی طاقت سے جوہری ترقی کو کچھ سال تو روکا جا سکتا ہے، لیکن اس کا دیرپا اور پائیدار حل صرف اور صرف فعال سفارت کاری میں ہی مضمر ہے۔
اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور سپلائی چینز کے درہم برہم ہونے کے باعث2026ء کے لیے عالمی ترقی کی شرح کو کم کر کے دو اعشاریہ آٹھ فیصد کر دیا ہے، جبکہ انتہائی سنگین صورتحال میں اس کے محض ایک اعشاریہ ایک فیصد تک گرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو دنیا کو1980ء کے بعد پانچویں بڑی عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں تیل کی قیمتیں ایک سو دس ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے دو ہزار ستائیس تک برقرار رہ سکتی ہیں، اور عالمی افراطِ زر چھ فیصد سے اوپر جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے صرف ایشیا پیسفک خطے میں 97سے299بلین ڈالر کے معاشی نقصان اور 32ملین انسانوں کے غربت کی لکیر سے نیچے گرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم نے مشرق وسطیٰ سے کھاد کی سپلائی معطل ہونے کے باعث پیدا ہونے والے غذائی بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو45 ملین مزید انسانوں کو غذائی عدم تحفظ کا شکار کر سکتا ہے۔
چیتھم ہائوس کے مطابق اس طویل جنگ کے اثرات خاص طور پر ان ابھرتی ہوئی معیشتوں پر انتہائی تباہ کن ہوں گے جن کا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے اور جن کے معاشی بفرز انتہائی کمزور ہیں۔ شدید عالمی اقتصادی دبائو بالآخر دونوں فریقین کو کسی نہ کسی حتمی معاہدے پر مجبور کر دے گا، لیکن اصل اور سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی اور داخلی سیاست کی ٹائم لائن ایران کی اس طویل اور صابرانہ اسٹریٹجک ٹائم لائن سے مطابقت نہیں رکھتی، جو اس خطے کے مستقبل کو ایک مسلسل بے یقینی کے بھنور میں رکھے ہوئے ہے۔

جواب دیں

Back to top button