Column

90سالہ منروا کلب مسمار، 40ارب کی 28کنال سرکاری اراضی واگزار

90سالہ منروا کلب مسمار، 40ارب کی 28کنال سرکاری اراضی واگزار
رانا اقبال حسن
فیصل آباد کے دل میں واقع منروا کلب کا انہدام صرف ایک عمارت کا انہدام نہیں، بلکہ ایک صدی پرانی یادوں، روایات اور سماجی تاریخ کے ایک باب کا اختتام ہے۔ 1935ء میں برطانوی دور میں قائم ہونے والا یہ کلب کبھی شہر کے اشرافیہ اور اہلِ علم و فن کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ جب منروا کلب کی بنیاد رکھی گئی تو فیصل آباد جسے اس وقت لائل پور کہا جاتا تھا، پنجاب کا ایک ابھرتا ہوا تجارتی شہر تھا۔ کپاس کی منڈی، ملز اور ریلوے لائن کے ارد گرد جو تہذیب پروان چڑھی اس کی پہچان منروا کلب جیسے ادارے تھے۔ کلب کا نام رومی دیوی منروا کے نام پر رکھا گیا جو حکمت اور فن کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ شاید بانیان یہی چاہتے تھے کہ یہ جگہ صرف تفریح کا نہیں بلکہ فکر و دانش کا مرکز بنے۔ دہائیوں تک ایسا ہی ہوا۔ شہر کے وکیل، ڈاکٹر، پروفیسر، تاجر اور سرکاری افسر شام کے وقت یہاں جمع ہوتے۔ لان میں لگے برگد کے درخت، اونچے کالموں والی عمارت، لکڑی کا فرنیچر اور وہ پرانا گراموفون جس پر کلاسیکل موسیقی بجتی تھی، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے تھے جو آج کے شاپنگ مالز اور کیفے میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ بزرگ ممبران آج بھی بتاتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد جب شہر میں نئے ادارے بن رہے تھے تب بھی منروا کلب اپنی وقار کے ساتھ کھڑا تھا۔ یہاں مشاعرے ہوتے، کرکٹ اور ٹینس کے میچ ہوتے، اور نوجوانوں کو کتابیں پڑھنے کی عادت اسی لائبریری سے لگتی جو کلب کے ایک کونے میں تھی۔ وقت کے ساتھ شہر بدلا، اقدار بدلیں، لیکن منروا کلب اپنی جگہ پر قائم رہا۔ اس کی 28کنال اراضی شہر کے بیچوں بیچ تھی اور آج اس کی مالیت تقریباً چالیس ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ زمین کی بڑھتی قیمت اور کمرشل پریشر نے ہمیشہ ایسے پرانے اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ ضلع انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ کلب کی لیز کی مدت پوری ہو چکی تھی اور معاہدے کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے یہ اراضی سرکاری تحویل میں لانا ضروری تھا۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی عادل عمر کی قیادت اور انچارج پیرا فورس نعمان کی نگرانی میں آپریشن کیا گیا اور میونسپل کارپوریشن کی ہیوی مشینری نے عمارت کے حصے گرانا شروع کر دئیے۔ اس سارے معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے سیاسی، سماجی اور شہری حلقے نظر انداز نہیں کرتے۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں منروا کلب اپنی اصل روح سے ہٹ گیا تھا۔ ان کے مطابق یہاں کچھ غیر ضروری سرگرمیاں بھی ہوتی تھیں جو شہر کی روایات اور عمومی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ بعض اہلِ دانش کا کہنا تھا کہ ایک وقت کے بعد کلب کا ماحول صرف مخصوص طبقے تک محدود ہو گیا اور عام شہری کے لیے اس کے دروازے عملی طور پر بند ہو گئے۔ اس تناظر میں ان کا موقف تھا کہ اگر انتظامیہ نے اراضی واگزار کرا کر اسے عوامی فلاح کے کسی منصوبے کے لیے مختص کیا تو اس سے شہر کے وسیع تر مفاد کا تحفظ ہو گا۔ وہ اس انہدام کو خالصتاً تباہی کے بجائے ایک نئے آغاز کی شکل میں بھی دیکھتے ہیں۔ قانون کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سرکاری اراضی پر لیز ختم ہونے کے بعد قبضہ واگزار کروانا انتظامیہ کا حق ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر قانونی حق کو اسی طرح فورس کے ساتھ نافذ کرنا ضروری ہوتا ہے؟ پانچ سو سے زائد ممبران جن میں سے کئی کی تین نسلیں اس کلب سے وابستہ رہی ہیں، ان کے جذبات، ان کی یادوں، ان کے بچپن کی دوڑ دھوپ کا کیا جائے؟ وہ لان جہاں بچے کرکٹ کھیلتے تھے، وہ ہال جہاں شادیوں کی تقریبات ہوتی تھیں، وہ کمرہ جہاں بزرگ اخبار پڑھتے ہوئے چائے پیتے تھے، سب کچھ ایک دن میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ترقی اور قانون کی عمل داری یقیناً ضروری ہے۔ کوئی بھی شہر اپنی قیمتی زمین کو غیر قانونی قبضے میں نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن ترقی کا مطلب صرف نئی عمارتیں بنانا نہیں ہوتا۔ ترقی یہ بھی ہے کہ ہم اپنی تاریخ، اپنے ورثے اور اپنی اجتماعی یاد کو بچا کر آگے بڑھیں۔ لاہور میں جم خانہ کلب، کراچی میں سندھ کلب، پشاور میں فلور ملز کلب آج بھی قائم ہیں کیونکہ وہاں انتظامیہ اور ممبران نے مل کر کوئی راستہ نکالا۔ لیز کی تجدید، شرائط کی تبدیلی، یا اراضی کا کچھ حصہ سرکار کو واپس کر کے باقی حصہ کلب کے لیے مختص کرنا، یہ سب آپشن موجود تھے۔ فیصل آباد ایک صنعتی شہر ہے لیکن اس کی ثقافتی شناخت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ منروا کلب کی عمارت شاید برطانوی طرزِ تعمیر کا شاہکار نہ ہو لیکن وہ شہر کی سماجی تاریخ کا دستاویز تھی۔ جب ہم ایسے ادارے گراتے ہیں تو ہم صرف اینٹ اور سیمنٹ نہیں توڑتے بلکہ ان کہانیوں کو بھی مٹا دیتے ہیں جو نسلوں کو جوڑتی ہیں۔ آج کے نوجوان کو شاید اندازہ نہ ہو کہ ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا نہیں تھا، شاپنگ مال نہیں تھے، تب لوگ میل جول کے لیے ایسے ہی کلبوں پر انحصار کرتے تھے۔ وہاں بحث ہوتی تھی، سیاست ہوتی تھی، شعر و ادب ہوتا تھا۔ شہر کی فیصلہ سازی پر بھی ان کلبوں کے ممبران کی رائے کا اثر ہوتا تھا۔ اب جب وہ عمارت گر رہی ہے تو بہت سے لوگ خاموش ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ طاقتور لوگوں کا معاملہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر کی میراث کسی ایک طبقے کی نہیں ہوتی۔ وہ سب کی ہوتی ہے۔ چالیس ارب کی زمین کا حساب تو لگایا جا سکتا ہے لیکن ان ننانوے سالوں کا حساب کون لگائے گا جو اس کلب کی دیواروں میں قید تھے؟ ہر گرنے والا کالم کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد بھی چکنا چور ہو رہی ہے۔ شاید انتظامیہ کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا۔ شاید ممبران نے لیز کی تجدید میں کوتاہی کی۔ لیکن کاش کوئی درمیانی راستہ نکل آتا۔ کاش عمارت کو محفوظ کر کے اسے لائبریری، میوزیم یا کمیونٹی سینٹر بنا دیا جاتا۔ کاش ہم سیکھ لیتے کہ ترقی اور تحفظ ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ساتھی ہو سکتے ہیں۔ آج فیصل آباد کا ایک اور باب بند ہو گیا۔ کل جب نئی نسل پوچھے گی کہ شہر کی پرانی پہچان کیا تھی تو ہمیں صرف تصویریں دکھانی پڑیں گی۔ عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، زمین کی قیمت دوبارہ لگ سکتی ہے، لیکن وقت کا وہ لمحہ، وہ ماحول، وہ اپنائیت دوبارہ نہیں لوٹے گی۔ منروا کلب کے انہدام سے ہمیں یہ سبق لینا چاہیے کہ آئندہ جب بھی شہر کی کسی پرانی عمارت یا ادارے پر سوال اٹھے تو ہم صرف فائل اور قانون نہ دیکھیں بلکہ انسان اور تاریخ کو بھی سامنے رکھیں۔ ورنہ ایک دن آئے گا جب ہمارے شہر خوبصورت تو ہوں گے لیکن بے روح ہوں گے۔ اور بے روح شہر میں رہنا کسی قبرستان میں رہنے جیسا ہوتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button