گلگت بلتستان کے مستقبل کی حفاظت کی جانب تاریخی قدم

Glaciers Protection Authority
گلگت بلتستان کے مستقبل کی حفاظت کی جانب تاریخی قدم
تحریر : یاسر دانیال صابری
گلگت بلتستان دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں۔ یہی گلیشیئرز نہ صرف پاکستان کے دریائوں، زراعت، پن بجلی اور پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا انحصار بھی انہی پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ہنگم تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور غیر ذمہ دارانہ سیاحت نے ان قدرتی ذخائر کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آزر کی جانب سے Glaciers Protection Authorityکے قیام کا اعلان ایک بروقت، دوراندیش اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اگر اس ادارے کو موثر قانون، مناسب وسائل اور ماہرین کی معاونت کے ساتھ فعال بنایا جائے تو یہ گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے آبی مستقبل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں ہزاروں چھوٹے اور بڑے گلیشیئر موجود ہیں، مگر ہر سال ان کے تیزی سے پگھلنے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں بنتی ہیں، اچانک سیلاب آتے ہیں، سڑکیں، پل، کھیت، مکانات اور قیمتی انسانی جانیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے ایک ایسا ادارہ وقت کی اہم ضرورت ہے جو صرف نگرانی ہی نہ کرے بلکہ تحقیق، منصوبہ بندی، حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی پر بھی بھرپور توجہ دے۔
اطالوی ادارے EVK2CNRنے گزشتہ کئی برسوں سے گلگت بلتستان میں گلیشیئرز، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے قابلِ قدر تحقیق کی ہے۔ اگر حکومت ان کے تجربات اور جدید سائنسی مہارت سے فائدہ اٹھاتی ہے تو ایک مضبوط اور موثر نظام قائم کیا جا سکتا ہے، جس کے نتائج آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔
گلیشیئرز پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام سے کئی اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئرز کی مستقل سائنسی نگرانی ممکن ہوگی، گلیشیائی جھیلوں اور سیلاب کے خطرات کی بروقت پیش گوئی کی جا سکے گی، مقامی آبادی کو بروقت خبردار کیا جا سکے گا، ماحولیاتی قوانین پر بہتر عمل درآمد ہوگا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہوگی، ایکو ٹورازم کو ماحول دوست اصولوں کے مطابق فروغ ملے گا اور نوجوانوں کے لیے ماحولیات اور تحقیق کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اسی طرح گلیشیئرز کے تحفظ سے پاکستان کی غذائی اور آبی سلامتی بھی مضبوط ہوگی، کیونکہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کا بیشتر پانی انہی برفانی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر یہ قدرتی ذخائر محفوظ رہیں گے تو زراعت، پن بجلی اور پینے کے پانی کا نظام بھی مستحکم رہے گا۔
تاہم صرف ایک اتھارٹی قائم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اس ادارے کو جدید لیبارٹریاں، تربیت یافتہ ماہرین، مناسب بجٹ، جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، موسمیاتی ڈیٹا اور واضح قانونی اختیارات بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ مقامی کمیونٹیز، جامعات، تحقیقاتی اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی ماہرین کو بھی اس عمل میں شریک کرنا ہوگا تاکہ فیصلے زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے EVK2CNRاور اطالوی حکومت کے تعاون سے 20ارب روپے کے سافٹ لون منصوبے کو آگے بڑھانے کا اعلان بھی خوش آئند ہے۔ اگر یہ وسائل شفاف انداز میں استعمال کیے جائیں تو ماحولیات، سیاحت، انفرا سٹرکچر، تحقیق اور مقامی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔
گلگت بلتستان صرف ایک خوبصورت سیاحتی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کا آبی خزانہ ہے۔ اس کے گلیشیئرز کا تحفظ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ آج کیے گئے درست فیصلے آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
Glaciers Protection Authority کا قیام محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری، ماحولیاتی تحفظ کا عہد اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اعلان کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے تاکہ گلگت بلتستان کے برفانی ذخائر ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکیں اور پاکستان کا آبی مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہو۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ Glaciers Protection Authorityکا قیام صرف ایک سرکاری ادارے کا اضافہ نہیں بلکہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس اتھارٹی کے ذریعے گلیشیئرز کا تحفظ، آبی وسائل کی بقا، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، ماحول دوست سیاحت کا فروغ، سائنسی تحقیق کی حوصلہ افزائی، مقامی آبادی کا تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے قدرتی ورثے کی حفاظت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر حکومت اس ادارے کو مکمل اختیارات، مناسب بجٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت فراہم کرے تو گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کامیاب ماڈلز میں شامل ہو سکتا ہے۔ آج گلیشیئرز کا تحفظ درحقیقت پاکستان کے پانی، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ہے، اور یہی اس اتھارٹی کی سب سے بڑی اہمیت اور افادیت ہے۔






