کشمیریوں کا احتجاج، مطالبات اور حقائق

کشمیریوں کا احتجاج، مطالبات اور حقائق
تحریر: محمد مبشر انوار (ریاض)
آزاد کشمیر کی آزادی سے متعلق ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح قیام پاکستان کے وقت،انگریز سامراج نے ڈوگرہ مہاراجہ سے ساز باز کرکے،مسلم اکثریت والے علاقے کو پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا تھا جبکہ اس کے پس پردہ ہندو برہمن کی ذہنیت بھی کارفرما تھی۔ اس سازباز کی کئی ایک وجوہات تھی جن میں سرفہرست تو بدنیتی ،انگریز و ہندو،جو منصفانہ تقسیم نہیں کرنا چاہتے تھے،دوسری انگریز سرکار یہاں ایک مستقل تنازع قائم رکھنے کے حق میں تھے کہ ان کی مداخلت کا راستہ رہے،ہندو ہر صورت مسلمانوں سے غلامی کا انتقام چاہتا تھا اور سب سے اہم کہ کشمیر پانیوں کا منبع و ماخذ ہے،کہ جس پر قابو؍دسترس رکھتے ہوئے،پاکستان کو پانی سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ گو کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان ارباب اختیار اس کا بروقت ادراک نہ کر سکے اور اس معاہدے کا پاکستانی سربراہ پاکستان کو گمراہ کرتا رہا اور بھارت ان پانیوں پر اپنا قبضہ اسی معاہدے کے تحت مضبوط بناتا رہا تاہم ہماری کوتاہیوں بلکہ مجرمانہ غفلت کے باوجود،مسلمہ قانون قدرت اور عالمی قوانین کے تحت بھارت پانی کے راستے تبدیل کرنے کا قطعا اختیار نہیں رکھتا،جو اس نے اختیار کرکے ،جرم کا ارتکاب کیا ہے لیکن تاحال پاکستان بھارت کو اس کی سزا دلوانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، مستقبل میں اس کا کیا حل نکلتا ہے یا پاکستان اپنے پانیوں کو کس طرح اور کیسے بھارتی چنگل سے آزاد کراتا ہی، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ گزشتہ برس، بھارتی نام نہاد آپریشن سندور کا تندور بنانے کے بعد، امید تھی کہ بھارت حقائق کو سمجھے گا اور پاکستان کے ساتھ بلاوجہ و بلا جواز مخاصمت جاری نہیں رکھے گا لیکن بدقسمتی سے اس وقت بھارت پر جو قیادت براجمان ہے،وہ ان حقائق کا ادراک کرنے کے لئے تیار نہیں اور بجائے یہ کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بناتی،انہوں نے پاکستان کو بنجر بنانے کے لئے، پاکستان کا پانی بھی روک رکھا ہے۔ گو کہ پاکستان کی جانب سے بھارت اور عالمی برادری کو اس کے متعلق مسلسل باور کروایا جا رہا ہے لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہورہا اس لئے گزارش کی ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ پاکستان کس طرح اپنے پانیوں کو بھارتی چنگل سے آزاد کرواتا ہے کہ ابھی تک پاکستان دلائل کے ساتھ ،سفارتی طرز سے بھارت کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اگر یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہوتا تو کیا پاکستان جارحیت میں پہل کر سکتا ہے اور اگر پاکستان اپنے حق کے حصول کی خاطر جارحیت میں پہل کرتا ہے تو اس کا ہدف کیا ہو گا؟ کیا ان آبی ذخائر کو نشانہ بنایا جائیگا یا بھارتی مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی قبضہ قائم کر کے، ان آبی ذخائر پر قبضہ کیا جائے گا یا بھارت کو اس حد تک مجبور کر دیا جائیگا کہ بھارت ازخود ہمارے پانیوں سے اپنا قبضہ ختم کر دے کیونکہ ان آبی ذخائر پر حملہ نہ تو بھارت کے مفاد میں ہو گا اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں کہ اس طرح یہ آبی ذخائر نہ صرف تباہ ہوں گے بلکہ ان میں ذخیرہ شدہ پانی بھی، تباہی پھیلاتا ہو ا، سمندر کی نذر ہو جائیگا ۔ بہرحال یہ وہ منظر ہے جو تخیل کی آنکھ سے نظر آتا ہے، ممکن ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد کی نظر میں اس کا کوئی اور حل بھی موجود ہو، جو وقت آنے پر طشت ازبام ہو اور ہمیں حیران کر دے کہ پس پردہ کئی ایک معاملات بیک وقت چل رہے ہوتے ہیں، جن سے ہم جیسے عام عوام کو آگاہی نہیں ہوتی۔
بہرحال، اس پر فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہی ہوگا البتہ جو معاملات ہو چکے ہیں،ان پر کچھ گفتگو ضروری ہے کہ اس سال کے آغاز میں، آزاد کشمیر کے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی ( جس کو اب آزاد کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دیدیا ہے ) تشکیل دی تھی، جس کا مقصد کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا اور بلاجواز مہنگائی کے خلاف بروئے کار آنا تھا۔ کشمیریوں نے اپنے اتحاد سے اس امر کو یقینی بنایا کہ حکومت پاکستان نے جو اضافہ بجلی کی قیمت میں کیا تھا، کشمیریوں نے بذریعہ احتجاج اس اضافے کو نہ صرف واپس لینے پر مجبور کیا بلکہ مستقلا کشمیر کے لئے بجلی کے سستے نرخوں کا تعین بھی یقینی بنا لیا اور یوں وہ بجلی، جو دور حاضر میں ایک آسائش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت تصور ہوتی ہے، پورے پاکستانیوں کے لئے آج ایک ’’ زحمت‘‘ بن چکی، اس کی گرانی سے نجات حاصل کر لی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اس کامیابی نے جہاں کشمیریوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ متحد ہو کر حکومت سے اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں وہاں پاکستانیوں کے لئے بھی ایک سوال چھوڑا ہے کہ و ہ اپنے حقوق کے لئے متحد کیوں نہیں ہوتے اور کیوں احتجاج نہیں کرتے؟ اس پر بارہا لکھ چکا ہوں اور دیگر احباب بھی اس پر لکھ چکے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص جو فسطائی دور جاری ہے، اس میں عوام کا سڑکوں پر نکلنا ،ناممکن کردیا گیا ہے،جو کسی بھی جمہوری ملک میں شہریوں کا بنیادی حق تصور ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس وقت ہائبرڈ نظام میں رہتے ہیں، جس کی گواہی وزیر دفاع دیتا ہے اور اسی کو ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ اس ماحول میں عوام کا باہر نکلنا،مشکل ہی نہیں ناممکن بنا دیا گیا کہ وزیر داخلہ ببانگ دہل اپنے ہی عوام سے آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ نپٹ کردکھاتا بھی ہے،خواہ اس میں بے گناہ عوام یا سیاسی کارکنان اپنی جان سے ہی گزر جائیں ، وہ سیاسی کارکنان صرف تحریک انصاف کے نہیں بلکہ تحریک لبیک کے ہی ہوں یا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت، جیسے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد ہوں۔ لہذا پاکستانیوں کے لئے اس وقت اپنے حقوق کے لئے نکلنا نہ صرف جوئے شیر لانے کے مترادف ہے بلکہ واضح طور پر یہ حقیقت ہے کہ اس میں انہیں اپنی جانوں کا بھی شدید خطرہ ہے ،تسلیم کہ آزادی قربانی مانگتی ہے لیکن اس وقت پاکستانی عوام قربانی دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔
کشمیریوں نے ایک بار پھر علم احتجاج بلند کررکھا ہے اور اس مرتبہ ان کا مقصد آزاد کشمیر میں متوقع انتخابات ہیں کہ جس کے متعلق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کو ختم کیا جائے کہ ان مخصوص نشستوں کی بنیاد پر پاکستانی مقتدرہ آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے یا گرانے کی صورت مداخلت کرتی ہے۔ بصورت دیگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین کی ان نشستوں کو اگر برقرار رکھا جاتا ہے تو کم از کم ان اراکین کو حکومتیں بنانے یا گرانے میں اختیار نہیں ہونا چاہئے یا انہیں کابینہ کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس معاملے میں کشمیری کس قدر بھولے دکھائی دیتے ہیں یا بن رہے ہیں،مجھے علم نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے دوسرے مطالبے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کم ازکم بھولے نہیں ہیں اور انہیں اصل حقائق کا بخوبی علم ہے اور وہ بڑا مطالبہ سامنے رکھ کر،اپنے اہداف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں،جو سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ یہاں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ کشمیری یہ مطالبہ درحقیقت پاکستانی مقتدرہ سے کررہے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کی معاملات سے خود کو الگ رکھیں اور آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے اور گرانے سے گریز کریں،کیا کشمیری اپنے اس مطالبے میں کامیاب ہو پائیں گے؟، دوسری طرف سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں اسی حوالے سے ایک رٹ دائر ہوئی ہے، جس کی سماعت بھی مقرر ہو چکی ہے یعنی اس اہم معاملے کو نپٹانے کی تیار ی بھی ساتھ ہو رہی ہے لیکن کیا کشمیری سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کو تسلیم کر لیں گے یا اس کے خلاف بھی احتجاج کریں گے؟۔ اب آتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی طرف، کشمیر ایک خصوصی خطہ ہے، جس کی حیثیت ایک متنازعہ علاقے کی ہے، اور اقوام متحدہ نے کشمیر میں ’’ استصواب رائے‘‘ کروانے کی قرارداد 1948میں پاس کر رکھی ہے، جس میں سارے کشمیریوں کو حق رائے دہی کا حق حاصل ہے تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ابھی تک اسمبلی میں آزاد کشمیر کے اضلاع کی نشستیں اسی مقصد کے لئے مختص کر رکھی ہیں کہ جب بھی استصواب رائے کا مرحلہ آئے گا، تمام کشمیری اس میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اسی مناسبت سے آزاد کشمیر میں ،ان کشمیری مہاجرین کی نشستیں رکھی گئی ہیں، جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں، تا کہ جب استصواب رائے کا وقت آئے، تو ان کشمیریوں کو استصواب رائے میں شامل رکھا جا سکے کہ مبادا عددی کمی نہ ہو سکے۔ رہی بات جواءنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج، مطالبے کی کہ وہ یہ تصور کریں کہ مقتدرہ مہاجرین کی ان بارہ نشستوں سے حکومتوں پر اثر انداز نہ ہو،تو نجانے وہ کس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ پاکستان میں سترہ نشستوں والوں کو وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے، گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے چیءرمین فارم پینتالیس اپنے امیدواروں کو حاصل کرنے کا کہتے کہتے، فارم سینتالیس خود حاصل کرنے کا کہہ دیتے ہیں، تو کیا کسی کو کوئی ابہام ہے کہ پاکستان صرف نام کا جمہوری ملک ہے، اس میں جمہوریت، جمہوری اقدار کہیں موجود نہیں البتہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لئے یہ بڑی فتح ہو سکتی ہے کہ وہ مہاجرین کی نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کو حکومت سازی یا گرانے اور کابینہ سے دور رکھنے میں کامیاب ہو جائیں کہ جن سے وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں، ان کے لئے اس کی کوئی وقعت بہرحال نہیں ہے۔







