ColumnQadir Khan

رزم گاہ ستم

رزم گاہ ستم

قادر خان یوسف زئی

غزہ کی وہ اداس صبح، جس کا سورج عید الاضحیٰ کی نوید لے کر تو آیا مگر اپنے ساتھ خوشیوں کے گیت نہیں، بلکہ ملبے تلے دبی سسکیاں اور بھوک کی ایک ایسی داستان لے کر آیا جو ضمیرِ انسانی پر ایک تازیانہ ہے۔ ہونے والی نام نہاد جنگ بندی کو سات ماہ بیت چکے ہیں، لیکن غزہ کے افق پر امن کی کوئی حقیقی کرن اب تک نمودار نہیں ہو سکی۔ یہ کیسی عید ہے اور یہ کیسی جنگ بندی ہے جہاں فضائوں میں تکبیراتِ عید کے ساتھ ساتھ بارود کی بو اور ڈرون طیاروں کی منحوس بھنھناہٹ آج بھی گونج رہی ہے؟، آج غزہ کے خیموں میں مقیم مائوں کے آنسوئوں میں نظر آتی ہے، اور عالمی طاقتوں کے منافقانہ چہروں کو بے نقاب کرتا ہے، آج واشنگٹن اور ڈاووس کے محلات میں بنے ’’ پیس بورڈ‘‘ کی حقیقت کھولنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ عید روایتی خوشیوں، نئے کپڑوں اور لذیذ پکوانوں کی نہیں، بلکہ محض بقا کی ایک اور وحشت ناک جنگ تھی جس میں غزہ کے باسیوں نے اپنے پیاروں کی قبروں اور اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے پر کھڑے ہو کر نمازِ عید ادا کی۔

جنگ بندی کے معاہدے نے بڑے پیمانے پر خونریزی کو تو کسی حد تک بریک لگایا، مگر اس نے غزہ کو کوئی نارمل زندگی نہیں دی۔ عید سے چند گھنٹے قبل خان یونس کے پناہ گزین کیمپوں کے قریب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے اور آرٹلری کی گولہ باری اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہاں امن محض ایک کاغذی سراب ہے۔ سڑکوں پر گہما گہمی کے بجائے سسکتے ہوئے پناہ گزین کیمپ ہیں، جہاں اسکولوں کی بوسیدہ عمارتوں اور پلاسٹک کی عارضی چادروں کے نیچے زندگی دم توڑ رہی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے تو دور، پینے کا صاف پانی اور ایک وقت کی روٹی تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں۔

جب ہم عید الاضحیٰ کی روح یعنی قربانی اور حج کی بات کرتے ہیں، تو غزہ میں یہ عبادات بھی استعماری جبر اور ناکہ بندی کی زنجیروں میں جکڑی نظر آتی ہیں۔ غزہ کے لائیو اسٹاک یعنی مویشیوں کے شعبے کو باقاعدہ ایک سوچی سمجھی معاشی نسل کشی کے تحت تباہ کیا گیا ہے۔ 2023ء سے اب تک غزہ کے نوے فیصد سے زائد مویشی ہلاک یا ضائع ہو چکے ہیں، اور اسرائیل کی جانب سے زندہ جانوروں کی آمد پر عائد سخت ترین پابندیوں نے مقامی مارکیٹ کو جانوروں سے بالکل خالی کر دیا ہے۔ جس بھیڑ یا دنبے کی قیمت جنگ سے پہلے چار سو سے چھ سو ڈالر ہوا کرتی تھی، آج وہ ہزاروں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جو کسی بھی عام فلسطینی خاندان کی بساط سے کوسوں دور ہے۔ حالت یہ ہی کہ خیموں میں بیٹھے مجبور باپ اپنے بچوں کے سامنے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ یہ مذاق کرنے پر مجبور ہیں کہ اس بار وہ گوشت کے کسی برآمد شدہ کین یا ایک آدھ مرغی کو ذبح کر کے علامتی قربانی کا فریضہ ادا کریں گے۔ مزید برآں، مسلسل بجلی کی بندش، تباہ شدہ کچن اور برتنوں کی عدم دستیابی نے ان چند خوش نصیبوں کے لیے بھی گوشت کو محفوظ کرنا یا پکانا ناممکن بنا دیا ہے جنہیں کوئی خیراتی ادارہ گوشت فراہم کرنے میں کامیاب رہا۔ مسلسل تیسرے سال غزہ کے عازمین حج کے لیے روانہ نہ ہو سکے کیونکہ اسرائیلی پابندیوں نے غزہ کے اخراجی راستوں کو آہنی دیواروں میں بدل دیا ہے، جس سے اس عید کا ایک اور عظیم روحانی پہلو ان سے چھین لیا گیا۔

بورڈ آف پیس کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ بورڈ خاموش ہے؟ سفارتی محاذ پر اور میڈیا کی حد تک تو یہ بورڈ بہت متحرک ہے، جس نے ڈاووس کے ورلڈ اکنامک فورم سے لے کر واشنگٹن کے محلات تک خوب پبلسٹی سمیٹی۔ جنوری 2026ء میں اس کے چارٹر کی توثیق ہوئی اور فروری 2026ء میں واشنگٹن میں ہونے والے پہلے باقاعدہ اجلاس میں امریکہ نے 10 ارب ڈالر اور دیگر ممالک نے 7ارب ڈالر کے وعدے کر کے مجموعی طور پر 17ارب ڈالر کا ایک بڑا فنڈ کاغذی طور پر کھڑا کر دیا۔ متحدہ عرب امارات کی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے ساتھ فری ٹریڈ زون اور لاجسٹکس کے حوالے سے بڑی بڑی کہانیاں بھی بنائی گئیں۔ لیکن رائٹرز اور آزاد میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ اپریل 2026ء تک اس 17ارب ڈالر کا صرف ایک معمولی حصہ ہی وصول ہو سکا، اور دس مہم جو ممالک میں سے صرف امریکہ، متحدہ عرب امارات اور مراکش نے فنڈز منتقل کیے۔ جیکوبن میگزین کی ایک تنقید کے مطابق اس بورڈ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اب تک کچھ بھی نہیں کیا یہ بورڈ غزہ کے عوام کی نمائندگی سے بالکل خالی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی اپریل اور مئی 2026ء کی آزاد رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ غزہ میں کوئی بڑی تعمیرِ نو شروع نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ کے پیس بورڈ کی تمام تر سفارتی سرگرمیاں پناہ گزینوں کے لیے محض کھوکھلے وعدوں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

عالمی سطح پر سوڈان، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ، ایران، اسرائیل امریکہ جنگ جیسے دیگر بحرانوں کے سر اٹھانے سے میڈیا اور عطیہ دہندگان کی توجہ غزہ سے ہٹ چکی ہے، جسے مبصرین ’’ ڈونر اور میڈیا فٹیگ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس جنگ بندی اور پیس بورڈ کے قیام کے بعد دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہی کہ غزہ کا مسئلہ اب ’’ مینجمنٹ‘‘ یعنی انتظام کاری کے مرحلے میں آ چکا ہے اور وہ استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہاں روزمرہ کی بنیاد پر خاموش اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے 2023 ء سے بین الاقوامی صحافیوں کے غزہ میں آزادانہ داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، جس کی وجہ سے دنیا تک وہ ہولناک مناظر پہنچ ہی نہیں پا رہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں۔

غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہے، معیشت پاش پاش ہے اور معاشرہ شدید ترین ذہنی و جسمانی صدمات سے گزر رہا ہے۔ غزہ آج ایک ایسی برزخ میں کھڑا ہے جو نہ پوری طرح جنگ ہے اور نہ ہی حقیقی امن، بلکہ یہ ایک مستقل عذاب کا نام ہے جہاں زندگی کو قسطوں میں موت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ جب تک ایک حقیقی، فلسطینیوں کی قیادت میں تعمیرِ نو کا عمل شروع نہیں ہوتا اور جب تک عالمی برادری اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانے کے لیے مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عملی قدم نہیں اٹھاتی، یہ بیانات، یہ پیس بورڈز اور یہ عید کے موقع پر دئیے جانے والے فنڈز محض ایک لالی پاپ ہی رہیں گے۔ غزہ کے حقوق ختم نہیں ہوئے، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور منافقت کی بھیٹ چڑھ چکے ہیں، اور عید الاضحیٰ 2026ء کی یہ خاموش، بھوکی اور سسکتی ہوئی صبح اسی عالمی بے حسی کا سب سے بڑا نوحہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button