Column

انسانی خدمت کا روشن کردار

انسانی خدمت کا روشن کردار
میری بات
روہیل اکبر
پھلوں کو کلو کے حساب سے تولا جاتا ہے، جواہرات کو قیراط کے حساب سے، سونے کو گرام اور لوہے کو ٹنوں کے حساب سے، مگر جب بات انسان کے اعمال کی آتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا معیار مقرر کیا ہے جو دنیا کے ہر پیمانے سے زیادہ باریک، زیادہ منصفانہ اور زیادہ عظیم ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ الزلزال میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ جس نے ذرّے برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے ضرور دیکھ لے گا‘‘۔
یہ آیت انسان کو یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں جاتی خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں وہ لوگ سب سے زیادہ کامیاب ہیں جو شہرت کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ کم ضرور ہیں مگر موجود ہیں جو خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتے ہیں کسی صلے، تعریف یا تشہیر کے منتظر نہیں ہوتے۔ انہی شخصیات میں ایک نام ڈاکٹر عارف افتخار کا بھی ہے، جو گنگا رام ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ( ایم ایس) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت داری اور اخلاص سے نبھا رہے ہیں، اگر دیکھا جائے تو کسی بھی سرکاری ہسپتال کا انتظام سنبھالنا آسان کام نہیں روزانہ ہزاروں مریض، محدود وسائل، عملے کے مسائل اور بے شمار انتظامی چیلنجز ایک ایم ایس کے لیے کڑا امتحان ہوتے ہیں، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ان تمام مشکلات کے باوجود مریض کو اپنی ترجیح بنائے ڈاکٹر عارف افتخار کی شخصیت میں یہی خوبی نمایاں نظر آتی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اچھے کردار رکھنے والے انسانوں سے مضبوط بنتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے عہدے کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ اگر ایک بیمار شخص کو بروقت علاج، ایک غریب کو عزت اور ایک مجبور کو سہولت مل جائے تو شاید یہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کی اصل تربیت اس کے والدین کی آئینہ دار ہوتی ہے جو اولاد دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے اس کے پیچھے یقیناً بہترین تربیت، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا ہے ڈاکٹر عارف افتخار بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل دکھائی دیتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی خدمت کا ذریعہ بنایا ہے، اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے ایک اچھے منتظم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ وہ ان میں سے نہیں جو صرف دفاتر میں بیٹھ کر احکامات جاری کریں بلکہ وہ ایسے مسیحا ہیں جو ادارے کی نبض پہچانتے جانتے ہیں، مسائل کو سمجھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ گنگا رام ہسپتال جیسے بڑے ادارے میں نظم و ضبط، صفائی، مریضوں کی سہولت اور طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل محنت درکار ہوتی ہے جو انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ ٹیم کے ساتھ ملکر کر رکھی ہے، اسی ٹیم کا ایک اہم حصہ اشفاق بھٹی بھی ہے ،جو ڈاکٹر عامر کی طرح خاموشی سے خدمت خلق میں مصروف تھا لیکن آج کل زیر عتاب ہے، کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر منفی خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور خاموشی سے خدمت کرنے والے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، حالانکہ قوموں کی تعمیر انہی کرداروں سے ہوتی ہے جو بغیر شور کیے انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں ،اگر ہم ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں تو دوسرے اداروں میں بھی خدمت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ فروغ پائے گا۔ قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ذرّے برابر نیکی بھی محفوظ ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ ایک ڈاکٹر مریض کا علاج کر کے، ایک استاد علم دے کر، ایک افسر انصاف کر کے اور ایک عام شہری اچھے اخلاق سے بھی اللہ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ گنگا رام ہسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عارف نے اپنی ذات سے بڑھ کر ادارے اور عوام کو ترجیح دیتے ہوئے قریباً چار کروڑ روپے مالیت کی جدید طبی مشینری ہسپتال کو عطیہ کرکے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس پر پورا طبی شعبہ فخر کر سکتا ہے۔ گنگا رام ہسپتال صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب کے لیے امید کا ایک بڑا مرکز ہے، روزانہ ہزاروں مریض یہاں علاج کی غرض سے پہنچتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کے پاس مہنگے نجی ہسپتالوں میں علاج کرانے کی استطاعت نہیں ہوتی، ایسے میں جدید طبی مشینری کی فراہمی ہزاروں مریضوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ ڈاکٹر عارف نے کروڑوں روپے کی جو مشینیں عطیہ کیں، وہ محض آلات نہیں بلکہ ہزاروں مریضوں کے لیے بروقت تشخیص، بہتر علاج اور نئی زندگی کی امید ہیں۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ ستائش بات یہ ہے کہ انہوں نے اس خدمت کو اپنی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنایا نہ کوئی نمود، نہ کوئی واہ واہ، نہ کوئی ذاتی مفاد صرف انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے اور مسیحائی کا اصل روپ تب نظر آتا ہے جب ہسپتال کا سربراہ اپنے دفتر کے ٹھنڈے کمرے کو چھوڑ کر عام مریضوں کے درمیان کھڑا ہو۔ گنگا رام ہسپتال کے ایم ایس نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف ہسپتال کے نظم و ضبط کو برقرار رکھا ہے بلکہ ’’ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی‘‘ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مل کر ہسپتال کے نئے بلاکس کی اپ گریڈیشن اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صبح سویرے وارڈز کے سرپرائز دورے کرنا، ادویات کی مفت فراہمی کو یقینی بنانا، اور مریضوں کی شکایات کو خود سن کر موقع پر حل کرنا ان کا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس ہسپتال کی راہداریوں میں دوڑتے ہوئے ڈاکٹرز، دن رات تیمارداری کرتی نرسیں اور صفائی پر مامور عملہ یہ سب اس بہترین اور مربوط انتظامی ڈھانچے کی گواہی دیتے ہیں جو ایم ایس کی قیادت میں پروان چڑھ رہا ہے۔ لاہور کے باسیوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لبوں سے نکلنے والی دعائیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ گنگا رام ہسپتال کا انتظامی عملہ اور ایم ایس اپنے فرض کو صرف ایک نوکری نہیں، بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کا یہ سفر یوں ہی جاری رہنا چاہیے، کیونکہ معاشرے انہی سچے مسیحائوں اور گمنام محسنوں کے دم قدم سے قائم رہتے ہیں ڈاکٹر عارف افتخار نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو، قیادت مضبوط ہو اور عوام کی خدمت کا جذبہ موجود ہو تو سرکاری ہسپتال بھی بہترین طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ آج جب سرکاری اداروں پر تنقید عام ہے تو چند ایسے کردار امید کی نئی کرن بن کر سامنے آتے ہیں اور ڈاکٹر عارف جیسے افسر یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں دیانت دار، باصلاحیت اور انسان دوست لوگ موجود ہیں جو اپنی ذاتی آسائشوں پر نہیں، بلکہ عوام کی بھلائی پر سرمایہ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ صرف مالی عطیہ نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے کہ صحت کا شعبہ صدقہ جاریہ بن سکتا ہے ان مشینوں سے علاج پانے والا ہر مریض، ہر مسکراہٹ اور ہر بچنے والی جان ڈاکٹر عارف کے اس عظیم جذبے کی گواہی دے گی حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ایسے افسروں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کرے، انہیں ایوارڈ سے نوازے تاکہ دوسرے اداروں میں بھی خدمت، دیانت اور ایثار کی یہی روایت فروغ پائے۔ اگر ہر سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر عارف جیسی قیادت میسر آ جائے تو عوام کا سرکاری صحت کے نظام پر اعتماد کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر عارف افتخار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اصل عظمت عہدوں میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے جو شخص خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرے، وہ تعریف کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ اس کی سب سے بڑی سند ان مریضوں کی دعائیں ہوتی ہیں جن کی زندگیاں اس کے اخلاص سے آسان ہو جاتی ہیں ایسے لوگ واقعی ہمارے معاشرے کے گمنام ہیرو ہیں، اور ڈاکٹر عارف افتخار کا نام انہی روشن کرداروں میں ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button