دفاعی سفارت کاری امن کا نیا تزویراتی رخ

دفاعی سفارت کاری امن کا نیا تزویراتی رخ
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں سفارت کاری کا مفہوم اور اس کے خدوخال مسلسل ارتقائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ روایتی طور پر جب ہم سفارت کاری یا ڈپلومیسی کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں فوراً سویلین وزارت خارجہ، سفارت کاروں کی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور دو طرفہ تعلقات کی وسیع تر تصویر ابھرتی ہے۔ تاہم، عصری تزویراتی اور جغرافیائی حقائق نے ایک نئی اور انتہائی موثر جہت کو جنم دیا ہے جسے ’’ دفاعی سفارت کاری‘‘ یا ملٹری ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے اہم جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے ملک کے تناظر میں، جہاں داخلی اور خارجی سلامتی کے چیلنجز ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں، عسکری قیادت کا سفارتی کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کردار کی سب سے حالیہ اور نمایاں مثال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران ہے، جو محض ایک روایتی سیاسی دورہ نہیں تھا بلکہ اسے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور ثالثی کی ایک انتہائی اہم کڑی کے طور پر دیکھا گیا۔ اس دورے نے یہ واضح کر دیا کہ عسکری قیادت کی سفارت کاری، عام سیاسی سفارت کاری سے کس طرح مختلف اور کن معنوں میں زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
عام سیاسی سفارت کاری، جس کی قیادت عموماً سویلین وزارت خارجہ کرتی ہے، ایک وسیع البنیاد عمل ہے جس میں تجارت، ثقافتی تبادلے، بین الاقوامی معاہدے اور مجموعی دو طرفہ تعلقات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، عسکری یا دفاعی سفارت کاری کا دائرہ کار قدرے محدود، لیکن انتہائی حساس اور سلامتی کے امور پر مرکوز ہوتا ہے۔ ریاستیں اس غیر حرکی صلاحیت کو اپنی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جب معاملہ سرحدوں کے تحفظ، مسلح تنازعات کے خطرات، اور بحرانوں کی فوری انتظام کا ہو، تو وہاں سیاسی بیانات سے زیادہ عملی اور فوری رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عسکری قیادت کی سفارت کاری اس لیے مختلف اور موثر ہے کیونکہ فوجی حکام سیکیورٹی خدشات پر براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں، کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری رابطے کے ذرائع ( ڈی ایسکلیشن چینلز ) قائم کر سکتے ہیں، اور ایسے حالات میں عملی تعاون پر مذاکرات کر سکتے ہیں جہاں طاقت کا استعمال یا سرحدی تنازعات بنیادی نوعیت کے ہوں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی دفاعی سفارت کاری کا ایک عملی نمونہ تھا، جس کا مقصد محض روایتی تعلقات استوار کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا تھا۔
پاکستان کے مخصوص ریاستی اور تزویراتی سیاق و سباق کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملکی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں عسکری ادارہ ایک اہم اور بعض اوقات فیصلہ کن فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور اس کے پڑوس میں جاری دہائیوں پر محیط عدم استحکام اس امر کا متقاضی رہا ہے کہ قومی سلامتی کو خارجہ پالیسی کے محور میں رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنگ بندی، سرحدی سلامتی، یا تنازعات کی شدت میں کمی لانے جیسے حساس علاقائی مسائل درپیش ہوں، تو ایک عسکری رہنما براہ راست ان معاملات کو زیادہ موثر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عام سیاسی سفارت کاری کی حدود ختم ہوتی ہیں اور دفاعی سفارت کاری کا عملی آغاز ہوتا ہے۔ سفارتی تاریخ گواہ ہے کہ بحرانوں کے دوران جب سیاسی رابطے سست روی کا شکار ہوتے ہیں، تو عسکری قیادت کے درمیان براہ راست روابط حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے لائف لائن کا کام کرتے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک انتہائی اہم پہلو یعنی’’ علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی‘‘ کو نہایت کامیابی سے استعمال کیا۔ ان کا یہ دورہ جاری ثالثی کوششوں کا ایک تسلسل تھا، جس کا بنیادی ہدف خطے میں مذاکرات کو فروغ دینا، تنائو کو کم کرنا، اور پرامن افہام و تفہیم تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے پاکستان کو فریقین کے درمیان ایک اہم رابطہ کار ( کانٹیکٹ پوائنٹ) کے طور پر پیش کیا اور ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں مذاکرات، پرامن حل اور علاقائی استحکام کے پاکستانی پیغام کو تقویت بخشی۔ اس عمل میں طاقت یا عسکری دبا کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا، بلکہ اسے قیام امن کی حمایت کے لیے ایک سنجیدہ مشاورتی عمل کے طور پر آگے بڑھایا گیا۔ یہ نقطہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ خطے کے امن کو ترجیح دی ہے، اور فیلڈ مارشل نے اسی ریاستی بیانیے کو عسکری سفارت کاری کے ذریعے عملی جامہ پہنایا۔
عملی میدان میں اس طرز کی سفارت کاری کے نتائج روایتی سفارت کاری سے کہیں زیادہ تیز اور براہ راست ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عسکری سربراہ براہ راست ان سیکیورٹی اداروں اور فیصلہ سازوں سے ہم کلام ہوتا ہے جو بحران کو پیدا کرنے یا اسے ختم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب خطرہ محض پالیسی بیانات کی حد تک نہ ہو، بلکہ فوری تصادم، سرحدی جھڑپوں یا جنگ کے پھیلائو کا خدشہ موجود ہو، تو خطرات کو فوری طور پر کم کرنے اور تنازع کے موثر انتظام کے لیے یہ براہ راست فوجی رابطہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ عسکری ادارے چونکہ زمینی حقائق، فوجی انخلائ، اور طاقت کے توازن کو بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات براہ راست نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی اصول کے تحت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی زور کو استعمال کیا جو علاقائی استحکام اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے دفاعی سفارت کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کے ساتھ، اور بالواسطہ طور پر وسیع تر علاقائی بحران کے حوالے سے، ایک مذاکراتی حل اور کشیدگی میں کمی کی بھرپور حمایت کی۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ جدید دور کے پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض روایتی اور روٹین کی سیاسی سفارت کاری کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط، مربوط اور حقیقت پسندانہ دفاعی سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے جو براہ راست بحران کے مراکز تک رسائی حاصل کر کے امن کی راہ ہموار کر سکے۔ پاکستان کی جانب سے اس مشاورتی اور پرامن نقطہ نظر کو اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی قیادت، چاہے وہ سویلین ہو یا عسکری، تنازعات کے حل کے لیے جنگی بیانیے کے بجائے مذاکرات اور علاقائی استحکام کو اپنی تزویراتی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھتی ہے۔ دفاعی سفارت کاری کا یہ موثر استعمال نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
طالب دعا
قادر خان یوسف زئی







