افغان طالبان رجیم کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی

افغان طالبان رجیم کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی
قادر خان یوسف زئی
لکی مروت کے ضلع کے سرائے نورنگ علاقے میں پھاٹک چوک پر ہونے والا دھماکہ ایک بار پھر اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن کتنا نازک ہے۔ یہ چوک علاقے کا مصروف ترین بازار ہے جہاں صبح کے اوقات میں ٹریفک کا بے تحاشا رش رہتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار گاڑیوں کی روانی برقرار رکھنے اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اچانک ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ بازار میں موجود لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سے پورا علاقہ کانپ اٹھا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ عورتیں اور بچے بھی اس تباہی کا شکار ہوئے۔ ایک عام دن کی صبح جو لوگوں کے روزی روٹی کے کاموں سے منسلک تھی، اچانک موت اور زخموں میں تبدیل ہو گئی۔ ٹریفک پولیس کے وہ اہلکار جو اپنی ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے، ان کی قربانی اس بات کی یادگار ہے کہ سیکیورٹی ادارے کس طرح عام شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
صرف چند روز قبل بنوں ضلع کے فتح خیل چیک پوسٹ پر ایک اور بھیانک خودکش حملہ ہوا تھا۔ دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے لدا ہوا لوڈر رکشہ چیک پوسٹ کے گیٹ پر مارا جس کے نتیجے میں پندرہ پولیس اہلکار شہید ہو گئے اور تین زخمی ہوئے۔ بنوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سجاد خان کے مطابق دھماکے میں ایک ہزار دو سو سے ایک ہزار پانچ سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری اتحاد مجاہدین پاکستان گروپ نے قبول کی جو فتنہ الخوارج سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد دہشت گردوں نے متعدد سمتوں سے فائرنگ بھی کی جس سے چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ دونوں حملے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ان سرحدی اضلاع میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کا حصہ ہیں جو افغانستان سے ملحق ہیں۔ مقامی سیکیورٹی ذرائع اور پولیس کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہ دہشت گرد عناصر کارفرما ہیں جو افغان سرزمین پر موجود ہیں اور وہاں سے تربیت، منصوبہ بندی اور رسد حاصل کر کے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ایسے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس نے پورے صوبے کے امن و امان کو متاثر کیا ہے۔ عام شہریوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں، بازاروں میں رش کم ہو گیا ہے اور لوگ خوف کے سائے میں اپنے روزمرہ کے کام انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان کی حکومت، فوج اور سیکیورٹی ادارے افغان طالبان رجیم سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے، ان کے کیمپ ختم کیے جائیں اور مطلوب مجرمین کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ کئی اعلیٰ سطح کی سفارتی ملاقاتیں ہوئیں، فہرستیں شیئر کی گئیں اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا لیکن عملی طور پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ وہ افغان عوام سے محبت رکھتا ہے اور اچھے پڑوسیانہ تعلقات چاہتا ہے لیکن اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کر سکتا۔ افغان رجیم کی موجودہ پالیسی اس حوالے سے نہایت غیر ذمہ دارانہ اور تشویش ناک ہے۔ جب ایک ملک کی حکمران جماعت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرتی یا ان کی موجودگی پر آنکھیں بند رکھتی ہے تو اس کے نتائج براہ راست پڑوسی ملک پر پڑتے ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی تمام ممکنہ تعاون کی پیشکش کی، سرحدوں پر انتظامات بہتر کیے اور سفارتی سطح پر بات چیت جاری رکھی لیکن جواب میں صرف انکار، الزام تراشی اور عملی طور پر کوئی تعاون نہیں ملا۔ اس رویے نے دہشت گردوں کو ہمت دی ہے اور انہوں نے پاکستان کے اندرونی علاقوں میں حملے تیز کر دئیے ہیں۔
افغان طالبان رجیم کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی پاکستان کے ان ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کی توہین ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ لکی مروت جیسے علاقوں میں عام لوگ روزانہ کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں لیکن انہیں ہر وقت اس خوف میں رہنا پڑتا ہے کہ کوئی خودکش حملہ یا بم دھماکہ ان کی زندگیوں کو تباہ کر دے گا۔ سرائے نورنگ کے مصروف بازار میں ٹریفک پولیس کے اہلکار جو اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، اچانک شہادت کا درجہ پا گئے۔ ان کی بیوائیں اور یتیم بچے اس درد کا شکار ہوئے ہیں جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بنوں کے فتح خیل چیک پوسٹ پر شہید ہونے والے پولیس اہلکار بھی وہی ہیں جو رات کے اندھیرے میں سرحد کی حفاظت کر رہے تھے۔ ان کی قربانیوں نے ثابت کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار رہتی ہیں۔
علاقائی امن اور استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ افغان طالبان رجیم اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ دہشت گردی کوئی دو طرفہ کھیل نہیں ہے جس میں ایک فریق فائدہ اٹھا سکے۔ اگر افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی جیسے گروپوں کو پناہ یا سرگرمی کی آزادی ملتی رہی تو اس کا نقصان خود افغانستان کو بھی ہوگا کیونکہ عدم استحکام سرحد پار پھیلتا ہے اور تجارت، نقل و حرکت اور عام زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ان کی مدد کے لیے آگے بڑھا ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ کابل میں بیٹھے فیصلہ ساز حقیقت کا سامنا کریں۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ اگر افغان طالبان رجیم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جو بھی اقدامات کرنے پڑیں گے ان کی مکمل ذمہ داری افغان قیادت پر ہوگی۔
لکی مروت کے پھاٹک چوک پر بہنے والا خون اور بنوں میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی قربانیاں اس امر کی واضح گواہی ہیں کہ افغان رجیم کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔۔ افغان طالبان رجیم کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احساس کرے، دہشت گردوں کے اڈے ختم کرے۔ ورنہ تاریخ اسے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا ذمہ دار ٹھہرائے گی جس نے بے گناہ پاکستانیوں کی جانیں لیں۔ پاکستان کے لوگ اور سیکیورٹی ادارے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ بھی اس فریق پر ڈالا جائے جو اس کی اصل وجہ ہے۔





