ColumnImtiaz Aasi

معرکہ حق، سیاست دان اور اقتدار

معرکہ حق، سیاست دان اور اقتدار

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قوم کو مبارکباد دی ہے۔ بھارت ہو یا افغانستان پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر بات کریں تو قوم کا کوئی فرد ایسا نہیں جو مسلح افواج کی قربانیوں کا معترف نہ ہو۔ ہماری بہادر افواج نے وطن دشمن کے ہر موڑ پر دانت کھٹے کئے ۔ پاک، بھارت جنگ کے دوران رافیل جس کے بڑے چرچے تھے ہماری فضائیہ نے گرا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ معاشی طور پر ریاست کے کمزور ہونے کے باوجود ایٹمی قوت بننا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد فوجی حکمرانوں نے ان کے اس قول کو سچ کر دیا گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ گو جنرل ضیاء الحق کا شمار آمروں میں ہوتا مگر ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے افغان جنگ کے دوران امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے ساتھ ایٹمی پروگرام کو بھی جاری رکھا جس کی امریکہ کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی۔ اس معاملے میں ہم مرحوم صدر غلام اسحاق خان کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جنہیں ایٹمی پروگرام رول بیک نہ کرنے کی پاداش میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ بات درست ہے پاکستان نے ایٹمی دھماکے نواز شریف دور میں کئے۔ یہ بات بڑی مشہور ہے مرحوم مجید نظامی نے نواز شریف سے کہا تھا میاں صاحب اگر آپ دھماکہ نہیں کروگے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ حق تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارا ملک ایٹمی قوت بنا گیا لیکن بعد کے حکمرانوں نے ممتاز ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر قدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا قابل افسوس ہے۔ یہ تو میر ظفراللہ خان جمالی کا بھلا ہو جنہوں نے جنرل مشرف کے کہنے پر ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ ہم مسلمانوں کا اس بات پر ایمان ہے یہود وہنود کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے بدقسمتی سے دنیاوی لالچ و طمع نے ہمیں امریکہ کا غلام بنا دیا ہے ورنہ ایران کو دیکھ لیں عشروں سے امریکی پابندیوں کو سامنا کرنے کے باوجود امریکہ کے سامنے سینہ سپر ہے جو مسلم ملکوں کے لئے سبق ہے۔ جب کوئی قوم عیش و عشرت میں پڑ جائے اور بڑی بڑی جائیدادوں کا حصول ان کا مطمع نظر ہو ایسی قومیں کبھی یہود وہنود کے روبرو کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے پہلوی خاندان کی سو سالہ بادشاہت کو آیت اللہ خمینی نے کیسے انقلاب لا کر چلتا کیا پھر دو گز زمین بھی کوئے یا ر میں نہ مل سکی۔ حکمرانوں کو رضا شاہ پہلوی کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے فلاں جنرل نے ملک میں مارشل لاء لگایا تھا۔ سوال ہے مارشل لاء کو دعوت دینے والے کوئی فرشتے نہیں ہوتے وہ سیاست دان ہوتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کو ایئر مارشل اصغر خان اور دیگر سیاست دانوں نے خطوط لکھ کر مارشل لاء لگانے کی دعوت دی۔ پھر چشم فلک نے دیکھا مذہبی جماعتوں نے اتحاد کرکے بھٹو کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا۔ چنانچہ اسی حوالے سے مجھے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کی وہ بات یاد آگئی جس میں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا انہیں اور دیگر سیاست دانوں کو جنرل باجوہ نے بلا کر عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کرنے کو کہا تھا۔ سوال ہے اگر سیاست دان جمہوریت پسند ہوتے اور اقتدار کا حصول ان کی زندگی کا مسئلہ نہ ہوتا وہ جنرل باجوہ کو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے سے صاف انکار دیتے ۔ اس حقیقت میں دو آراء نہیں عمران خان سے جو امیدیں قوم کو وابستہ تھیں وہ ان پر اترنے میں ناکام رہے۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعد ایک نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا انہیں احتساب کرنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ کاش وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہ بات کہتے تو ان کا قد کاٹھ اور بڑھ سکتا تھا۔ چلیں اقتدار سے علیحدہ کئے جانے کے بعد وہ اپوزیشن میں بیٹھ جاتے آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوتے۔ دراصل عمران خان بعض ناعاقبت اندیش دوستوں کے حصار میں رہتے ہوئے کچھ زیادہ کر گئے جس سے انہیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ تاہم افسوسناک پہلو یہ ہے پاکستان کی تاریخ کا یہ بھی سیاہ باب ہے کسی قیدی سے اس کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اگرچہ عمران خان کی ہمشیرگان کا رویہ بھی قابل ستائش نہیں رہا ہے بھائی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس اور بیانات نے انہیں بھائی سے ملاقات سے محروم کر دیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے عمران خان کے ادوار پر نظر ڈالیں تو تمام سیاست دانوں کا اقتدار طاقتور حلقوں کی مرہون منت رہا ہے۔ شریف خاندان کے اقتدار کو بھی طاقت ور حلقوں کی ہمیشہ آشیر باد رہی ہے۔ طاقتور حلقوں کے خلاف ہرزہ سرائی کے باوجود آج وہی خاندان اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔ اس کے برعکس جس سیاست دان کو قوم کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے جس کا ذمہ دار عمران خان خود ہی ہی۔ انتخابات میں جو کچھ ہوا پوری قوم اس سے واقف ہے اس کے باوجود اقتدار انہی کا مقدر ٹھہرا جن کی سیاست کا مرکز و محور ہمیشہ سے طاقتور حلقے رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو ملال کس بات ہے طاقتور حلقوں کو سیاست میں لانے والے کوئی فرشتے نہیں ہوتے وہ ہمارے سیاست دان ہیں۔ سیاست دانوں نے اربوں کی منی لانڈرنگ کی عدالتوں میں فردجرم نہ لگ سکی اقتدار میں آئے تو نیب قوانین میں ترامیم کرکے مقدمات کا تصفیہ کر لیا اسی کو تو سیاست کہتے ہیں نہ کہ عمران خان کی طرح پہاڑ کے ساتھ ٹکر ا سر پھوڑ لیا جس کا زخم تو وقت گزرنے کے ساتھ مندمل ہو گا جس کے لئے عمران خان کو انتظار کرنا ہوگا۔ آج وہی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں جن پر ملک و قوم کو لوٹنے کے الزامات تھے جبکہ عمران خان کی جماعت ووٹ ملنے کے باوجود اقتدار سے باہر ہے۔

جواب دیں

Back to top button