
نیو ورلڈ آرڈر کا ماخذ اب اسلام آباد
تحریر : سی ایم رضوان
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ایک ٹویٹ پر چند روز قبل ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ بندی اور اب اسلام آباد میں جاری مذاکرات پر بجا طور پر پاکستان کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ جہاں یہ کہنا بجا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ٹویٹ نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا وہاں یہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ اس ٹویٹ سے دنیا کو تین ہزار ارب ڈالر کا فائدہ ہو گیا جبکہ اس امر کو لے کر بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ کئی بھارتی تجزیہ کار بھی بھارت کی ناکامی اور پاکستان کی نیک نامی کا اعتراف کر رہے ہیں جیسا کہ فارن پالیسی میگزین میں بھارتی صحافی و تجزیہ کار سوشانت سنگھ کے شائع ہونے والے آرٹیکل میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھارت کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آرٹیکل کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جو بھارت کے لئے بڑا سفارتی دھچکا ہے۔ مزید لکھا کہ نریندر مودی کے برعکس پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سفارت کاری کے مرکز ہیں۔ تحریر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان نے موثر سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار بڑھایا ہے۔ چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کی عالمی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب بھارت اہم ترین مشرق وسطیٰ مذاکرات سے باہر ہو گیا ہے، جو نئی دہلی کے لئی ایک بڑا سفارتی نقصان ہے۔ مزید یہ کہ مودی دور میں امریکہ کے ساتھ بھارت کا اثر و رسوخ بھی کمزور پڑ گیا ہے۔ سوشانت سنگھ کی تحریر کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور عالمی طاقتیں اب پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے، جو امریکہ، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ آرٹیکل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی بجائے پاکستان پر اعتماد کیا جبکہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے بھارت کے بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ بھارت محض بیانات تک محدود جبکہ پاکستان عملی سفارت کاری کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ سوشانت سنگھ کا یہ کہنا درست بھی ہے کیونکہ مشرق وسطی میں ہونے والی تقریباً سوا مہینے کی جنگ کے بعد بالآخر دو ہفتے کے لئے جنگ بندی بھی ہوئی۔ مذاکرات کا وقت بھی طے ہوا اور اب امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لئے اسلام آباد میں موجود ہیں۔
قوی امید ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان یہ بات چیت اور مکالمہ بالآخر دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گا۔ اس ضمن میں کسی وقتی رکاوٹ یا تاخیر کو بہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم دعا گو ہیں، کوشش کر رہے ہیں، اچھے کی امید رکھیں۔ ادھر وائٹ ہاس نے تصدیق کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مذاکراتی وفود کی نقل و حرکت پوشیدہ ہے، تاہم یہ توقع ہے کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ دو دنوں پر محیط ہو گا۔ گفت و شنید کے ابتدائی رانڈ میں پاکستانی قیادت دونوں وفود کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرے گی اور پھر بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی حکومت نے اس بارے میں تاحال کچھ نہیں کہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی، مصر اور چند دیگر ممالک کی کوششوں کے سبب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ضرور ہوئی ہے لیکن اسلام آباد کے لئے اس عارضی جنگ بندی کو کسی دیرپا معاہدے تک پہنچانا آسان کام نہیں۔ بہرحال ان مذاکرات کی کامیابی ایران اور امریکہ پر ہی منحصر ہے۔ گو کہ بدھ کی رات سے ایرانی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جنہیں پڑھ کر لگا کہ شاید یہ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاءے گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگلے روز اسرائیل نے لبنان پر حملے بھی جاری رکھے اور ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی تھا، جہاں اس کا حامی عسکری گروہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل دونوں نے اس کی تردید کی، لیکن پھر جمعرات کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بنیامین نیتن یاہو نے اپنی حکومت کو لبنان کے ساتھ مذاکرات کی ہدایات دے دی ہیں۔ اس بیان کی آمد سے قبل لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے گفتگو کی تھی اور پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاس کے مطابق لبنانی وزیر اعظم نے ملک پر حملوں کے خاتمے کے لئے پاکستان کی ’’ حمایت‘‘ مانگی تھی۔ اس پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ کم از کم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور تو ضرور ہو گا، اب چونکہ مذاکرات جاری ہیں تو اب یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ فریقین دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف لوٹنے کے معاملے میں محتاط نظر آتے ہیں، یعنی جنگ بندی کا کوئی دیرپا معاہدہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کی سویلین حکومت اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں نے گزشتہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے میں دنیا کے بیشتر ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کی۔ ایک طرف وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ایران، خلیجی ممالک، چین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں تھے، وہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد غیر ملکی رہنماں سے پسِ پردہ رابطے کرتے رہے۔ بہرحال اب تک کے حالات و واقعات اور تجزیہ جات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان مذاکرات کے اہتمام کے ساتھ ساتھ فریقین کے پاکستان پر اعتماد اور اس کی گزارشات پر دونوں طاقتوں کی طرف سے تسلیم کئے جانے کے بعد یہ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں نہ صرف یہ معاہدہ مکمل ہو گا بلکہ پاکستان دنیا میں ایک بڑا سٹیک ہولڈرز بن کر ابھرے گا۔ یہ کہنا بھی گو کہ قبل از وقت ہے مگر درست ہے کہ اسلام آباد نیو ورلڈ آرڈر کے ایک ماخذ کے طور پر سامنے آئے گا۔ دنیا دیکھے گی کہ آئندہ امریکہ نام کی سپر پاور ہو گا اور چین اور روس عملی طور پر دنیا کی سپر طاقتیں ہوں گی۔ کیونکہ اس بند ہونے والی جنگ میں دنیا نے دیکھا کہ چین اور روس نے پیچھے رہ کر اپنی طاقت کو منوایا اور بالآخر سپر پاور کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔
اسلام آباد مذاکرات سے ایک نئے ورلڈ آرڈر کے وجود میں آنے کی توقع اس لئے بھی رکھی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں پائیدار امن کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان کی کوششوں نے دنیا کے لئے ایک ڈراؤنے خواب سے نکلنے کی راہ ہموار کر دی ہے کیونکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تعمیری گفتگو ہو گی۔ ٹرمپ بھی اس حوالے سے پر امید ہیں اگرچہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی سے ایک نئے ورلڈ آرڈر کے وجود میں آنے کی توقع رکھی جا سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال دنیا پر بہت بڑا اور گہرا اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ یہ خطہ تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز اور عالمی معیشت کے لئے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے ایک تازہ خبر ملاحظہ فرما لیں کہ یورپ کے جیٹ فیول کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل سے حاصل ہوتا ہے اور اگر مزید پندرہ روز تک آبنائے ہرمز بند رہتا ہے تو یورپ میں جیٹ فیول ایندھن کا بحران پیدا ہو جائے گا جو کہ انتہائی اہم ہونے کے ساتھ بیش قیمت بھی ہوتا ہے۔ خدا نخواستہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی جاری رہتی ہے تو اس سے عالمی معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے یورپ اور دیگر ممالک پر دبا بڑھ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام سے بین الاقوامی تجارت پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی تجارت کے لئے ایک اہم مرکز ہے۔ اس میں کشیدگی سے عالمی طاقتوں کے درمیان تنازع بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر امریکہ اور چین کے درمیان۔ یہاں عدم استحکام سے بین الاقوامی تنظیموں جیسے کہ اقوام متحدہ کی کارکردگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کشیدگی کی صورت میں عالمی امن اور استحکام کو خطرہ لگ سکتا ہے۔ ان حالات میں اگر اسلام آباد معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ مشرق وسطیٰ میں امن لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس معاہدے سے مشرق وسطی میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں، مشرق وسطی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور دنیا ایک نئے عالمی نظام کو وضع اور نافذ کرنے پر قادر ہو گی۔ جسے حقیقی معنوں میں نیو ورلڈ آرڈر کہا جا سکتا ہے۔ جسے امریکہ نہیں جنرل عاصم منیر جیسے نیک خو ترتیب دیں گے۔







