Column

پاکستان عالمی امن کا سفیر

اداریہ۔۔۔۔۔

پاکستان عالمی امن کا سفیر

خطے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ تیزی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر کشیدگی اور بے یقینی صورت حال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان حالیہ ملاقات اسی تناظر میں نہایت اہمیت رکھتی ہے، جس میں خطے میں پائیدار امن، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کے تسلسل کا جائزہ لیا گیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے حساس خطے میں واقع ہونے کے باعث پاکستان نہ صرف براہِ راست علاقائی تنازعات سے متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کی معیشت، سلامتی اور سماجی استحکام بھی خطے کے امن سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی یہ کوشش کہ وہ ایران اور امریکا جیسے اہم فریقین کے درمیان رابطہ کاری اور مفاہمت کا ذریعہ بنے، ایک تعمیری اور ذمے دارانہ سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نہ صرف جاری سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حالیہ کشیدگی میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے برقرار رکھنا تمام فریقین کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ جنگ بندی کو قائم رکھنے اور تحمل و برداشت کو فروغ دینے پر زور دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ تصادم کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور ان کی جانب سے امن کوششوں پر اطمینان کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی سول و عسکری قیادت اس معاملے پر ایک صفحے پر ہے۔ پاکستان میں جب بھی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات پر سول اور عسکری ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ ملاقات بھی اسی ہم آہنگی کی ایک مثال ہے، جس میں خطے میں امن کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان کا ثالثی کردار کوئی نیا تصور نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات میں پل کا کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان امن عمل سے لے کر مشرق وسطیٰ میں مختلف سفارتی کوششوں تک، پاکستان نے ہمیشہ یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا حامی ہے۔ ایران اور امریکا جیسے دو بڑے فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششیں اگر کامیاب ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کریں گی بلکہ خطے میں امن کے نئے دروازے بھی کھول سکتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے حساس معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے متوازن پالیسی، فریقین کا اعتماد اور مسلسل سفارتی رابطے ناگزیر ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اس عمل میں انتہائی احتیاط، تدبر اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں اور غیر جانبداری برقرار رہے۔ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کے توازن میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش، علاقائی تنازعات اور توانائی کے مسائل نے دنیا کو ایک نئے سفارتی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو کتنی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے خطے میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات میں اس عزم کا اظہار کہ پاکستان ثالثی کردار جاری رکھے گا، ایک مثبت اشارہ ہے جس سے سفارتی حلقوں میں امید کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر پاکستان اپنی موجودہ سفارتی کوششوں کو تسلسل، توازن اور حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک موثر اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت کو مزید مستحکم بھی کر سکتا ہے۔ امن کی یہ کوششیں اگر نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہوں گی۔

 

 

 

شذرہ۔۔۔

بجلی قیمت میں اضافہ

کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک بار پھر عوام کے لیے معاشی دبا کا باعث بن سکتا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) کی جانب سے فی یونٹ 1روپیہ 42پیسے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جو فروری 2026ء کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت ہے اور اپریل کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اضافہ کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر لاگو ہوگا جب کہ لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس فیصلے کے اثرات براہِ راست گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباری طبقے اور صنعتی شعبے پر پڑیں گے، جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی جنوری کی ایڈجسٹمنٹ میں بھی فی یونٹ 1روپیہ 63پیسے اضافہ کیا جا چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ توانائی کے نرخ مسلسل اوپر جارہے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں بار بار اضافے کی ایک بڑی وجہ پیداواری لاگت، گردشی قرضہ اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھائو کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا بوجھ ہمیشہ صارفین پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اس تناظر میں توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات، لائن لاسز میں کمی اور موثر پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ محض قیمتوں میں اضافے کے بجائے طویل المدتی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا، بجلی چوری کی روک تھام اور نظام کی بہتری ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں قیمتوں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ہر ماہ آنے والا نیا نوٹیفکیشن عوامی بے چینی میں اضافہ ہی کرے گا۔ آخر میں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ توانائی کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر یہ ریڑھ ہی کمزور اور مہنگی ہو جائے تو معیشت اور عوام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی ریلیف کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ معاشی دبائو کم ہو اور ترقی کا سفر جاری رہ سکے۔

جواب دیں

Back to top button