جنگ کے سائے سے معاشی امکانات تک، پاکستان کا ابھرتا کردار

جنگ کے سائے سے معاشی امکانات تک، پاکستان کا ابھرتا کردار
جاوید اقبال
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی، اگرچہ وقتی اور محدود مدت یعنی پندرہ دنوں کے لیے طے پائی ہے، لیکن اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری پر گہرے نقوش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا پہلے ہی جغرافیائی کشیدگی، توانائی کے بحران، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس تناظر میں اس پیش رفت کو محض ایک علاقائی معاہدہ سمجھنا بڑی سادہ لوحی ہوگی، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن، مفادات اور حکمت عملیوں کا ایک پیچیدہ مظہر ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں عالمی نظام واضح طور پرUnipolarسے Multipolarسمت میں منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ، جو طویل عرصے تک عالمی سیاست کا بلا شرکت غیرے مرکز رہا، اب چین اور روس جیسی طاقتوں کے ابھار کے باعث ایک نئے چیلنج سے دوچار ہے۔ ایران، جو پہلے ہی مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس نئی عالمی صف بندی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں حالیہ جنگ بندی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس عمل میں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی طاقتوں نے بھی پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔ چین، جو مشرقِ وسطیٰ میں اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، پہلے ہی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے۔ اسی طرح روس، جو یوکرین جنگ کے باعث مغرب کے ساتھ شدید کشیدگی میں ہے، مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم کا خواہاں نہیں کیونکہ اس سے عالمی توانائی منڈیوں میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
چین اور روس دونوں کی یہ مشترکہ خواہش رہی ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رہے تاکہ ان کے اقتصادی اور اسٹریٹیجک مفادات محفوظ رہ سکیں۔ چین کے لیے مشرقِ وسطیٰ توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جبکہ اس کا’’ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ بھی اسی خطے سے گزرتا ہے۔ روس کے لیے بھی تیل اور گیس کی عالمی قیمتیں ایک اہم عنصر ہیں، اور کسی بڑے تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اس کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
ان عالمی کاوشوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان، جو تاریخی طور پر مسلم دنیا، مغرب اور چین کے درمیان ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اس نازک موقع پر ایک موثر ثالث کے طور پر ابھرا۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے نہایت محتاط، متوازن اور فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے نہ صرف دونوں فریقین کے ساتھ اپنے روابط کو بروئے کار لایا بلکہ عالمی برادری کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ کشیدگی کو کم کیا جائے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب سفارت کاری نے جنگ کو شکست دی، اور پاکستان نے اس میں ایک پل کا کردار ادا کیا۔
کراچی کی تاجر و صنعتکار برادری نے اس کامیابی کو نہایت سراہا ہے۔ بزنس کمیونٹی کا ماننا ہے کہ اگر یہ جنگ شدت اختیار کر لیتی تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت پر پڑتے۔ پہلے ہی عالمی سطح پر شپنگ کے اخراجات میں اضافہ، انشورنس پریمیم میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو نے پاکستانی صنعت کو دبائو میں رکھا ہوا تھا۔ جنگ کی صورت میں یہ تمام عوامل مزید شدت اختیار کر سکتے تھے۔
کراچی، جو پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے، عالمی تجارت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ بندرگاہی سرگرمیاں، برآمدات، درآمدات اور صنعتی پیداوار سب عالمی حالات سے متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافہ ہوا، کنٹینرز کی دستیابی متاثر ہوئی اور شپنگ لائنز نے اضافی چارجز عائد کیے۔ اس کے علاوہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت کو مزید بڑھا دیا۔
ایسے میں جنگ بندی نے ایک وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا ہے، لیکن تاجر برادری اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اصل چیلنج اب بھی موجود ہے۔ اگر یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل نہیں ہوتی تو غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، جو کاروباری منصوبہ بندی کے لیے نقصان دہ ہے۔
پاکستانی صنعتکاروں نے اس موقع پر حکومت کو متعدد اہم تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مسابقت کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں پیداواری لاگت کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لانا ہوگا۔ بجلی اور گیس کے نرخ، جو پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگر توانائی سستی اور مستحکم دستیاب ہو تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔
ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ اس تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو سستی توانائی میسر آ سکتی ہے، جو صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ بندی کے بعد اس منصوبے پر پیش رفت کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، بشرطیکہ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی آئے۔
اسی طرح برآمدی شعبے کے لیے زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کی بحالی، فریٹ سبسڈی، اور ٹیکس نظام میں اصلاحات بھی بزنس کمیونٹی کے اہم مطالبات میں شامل ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ سبسڈی نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور سازگار کاروباری ماحول درکار ہے۔
عالمی منظر نامے میں دیکھا جائے تو یہ جنگ بندی ایک بڑے ’’ ری سیٹ‘‘ ( Reset) کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ امریکہ، جو طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں فوجی مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہا، اب بتدریج سفارت کاری کی طرف مائل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ چین اور روس کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے بھی امریکہ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ایک نیا توازن قائم ہو، جہاں علاقائی ممالک زیادہ خود مختار کردار ادا کریں اور عالمی طاقتیں پس پردہ رہ کر اثر انداز ہوں۔ اس تناظر میں پاکستان جیسے ممالک، جو مختلف بلاکس کے درمیان توازن قائم کر سکتے ہیں، زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں گے۔
تاہم، اس تمام مثبت پیش رفت کے باوجود خدشات بھی موجود ہیں۔ جنگ بندی کی مدت محدود ہے اور اس کے بعد حالات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار متعدد عوامل پر ہے۔ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے اشتعال انگیزی ہوئی تو صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس موقع کو صرف سفارتی کامیابی تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے معاشی استحکام میں تبدیل کرے۔ کراچی کی تاجر برادری کا یہی مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے تاکہ صنعت، تجارت اور برآمدات کو درپیش مسائل حل کیے جا سکیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ ایران جنگ بندی ایک اہم موڑ ہے، جو دنیا کو ایک ممکنہ تباہی سے بچانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اس میں چین، روس اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کی کاوشیں شامل ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو اور اس کے ثمرات عالمی اور علاقائی معیشت تک پہنچیں۔
پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی ترقی میں بدل دے۔ اگر درست پالیسیوں اور موثر حکمت عملی کے ذریعے اس موقع سے فائدہ اٹھایا گیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ ایک نئے دورِ استحکام اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔







