ColumnImtiaz Aasi

عمران خان رہائی تحریک اور رجسٹریشن

عمران خان رہائی تحریک اور رجسٹریشن
تحریر : امتیاز عاصی
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے جب کسی سیاسی جماعت نے حکومت کے خلاف کسی تحریک کا آغاز کیا تو اسے عوام کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مجھے یاد ہے ایوب خان کے خلاف طلبہ نے تحریک کا آغاز راولپنڈی سے کیا تو بس دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ ایک ایسی تحریک چلی جس میں پولی ٹیکنک کالج کا طالب علم، جس کا تعلق پنڈی گھیپ سے تھا پولیس کی گولی سے جاں بحق ہو گیا تھا، جس کے بعد تحریک نے زور پکڑا جس کے نتیجہ میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مذہبی جماعتوں نے تحریک چلائی تو ملک میں مارشل لاء لگ گیا۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے تحریک چلائی اور دھرنے کی بنیاد رکھی۔ جنرل مشرف کے خلاف وکلا اور سول سوسائٹی نے تحریک چلائی تو مشرف کو جانا پڑا۔ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک میں عمران خان نے طویل دھرنا دیا جس کا نتیجہ صفر نکلا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی کی تحریک کا آغاز کرنے سے قبل رجسٹریشن کا آغاز اپنے صوبے سے کر دیا ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں اگر کسی سیاسی جماعت نے تحریک چلانی ہو تو اس مقصد کے لئے لوگوں کی رجسٹریشن کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ سہیل آفریدی کے اخباری بیان کے مطابق انہوں نے آئینی اور قانونی راستے اختیار کرکے دیکھ لئے ہیں، انہیں بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ وہ چاروں صوبوں کے واحد وزیراعلیٰ ہیں جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی ملک کی واحد بڑی جماعت ہے جس کو چاروں صوبوں میں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ ملک میں منصفانہ الیکشن ہو تو یہ بات یقینی ہے عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، مگر اس کے ساتھ اس بات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ سانحہ نو مئی اور ڈی چوک کے واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں نے پی ٹی آئی ورکرز کے حوصلے پست کر دئیے ہیں۔ پھر یہ قدرتی امر ہے پی ٹی آئی قیادت کی اکثریت جیلوں میں قید و بند کی زندگی گزار رہی ہے۔ انسداد دہشت گردی اور فوجی عدالتوں سے سزائوں نے جیلوں سے باہر پی ٹی آئی ورکرز کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی سے پارٹی رہنمائوں اور اہل خانہ کی ملاقاتیں بند ہیں۔ عجیب تماشہ ہے جیلوں میں کوئی خواہ کسی مقدمہ میں ہو ملاقاتوں پر پابندی نہیں ہوتی ہے۔ کسی کا جرم اپنی جگہ، جس کی سزا قیدی نے بھگتنی ہوتی ہے، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا قیدی سے ملاقات پر پابندی ہو۔ بعض حلقوں کے خیال میں بانی پی ٹی آئی جیل میں طرح طرح کی اشیائے خورونوش منگواتے ہیں جس کا خرچ حکومت برداشت کرتی ہے بالکل غلط ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو بی کلاس ملی ہے، بہتر کلاس کے قیدی باہر سے اپنے کھانے کے لئے اپنے اخراجات پر اشیائے خورونوش منگوا سکتے ہیں، جس پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی والوں کو حق تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے بانی پی ٹی آئی کے باہر سے اشیاء خورونوش منگوانے پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے، ورنہ اس حکومت سے کسی اچھے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ ایک سنیئر جیلر سے ایک روز ہم نے پوچھ لیا آپ کے نزدیک آج تک کسی سیاسی قیدی نے بڑے حوصلے سے جیل کاٹی ہے، تو اس کا جواب تھا دو آدمی ہیں جن میں ایک رانا ثناء اللہ اور دوسرا عمران خان، جو جیل میں گھبرائے نہیں۔ درحقیقت پی ٹی آئی میں اتحاد اور یکجہتی کا بڑا فقدان ہے، جو کسی تحریک کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو پرامن جلسے اور جلوسوں کی اجازت ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں تو سب جمہور رہ گیا ہے۔ دراصل حکومت نے پی ٹی آئی کا ناطقہ بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، ملک کے عوام پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، بانی پی ٹی آئی رہا ہو گئے تو ملک میں طوفان برپا ہو جائے گا۔ کوئی حقیقت پوچھے تو اس ملک کا نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، جہاں غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے تر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی اور ٹیکسوں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ پھر جس ملک میں کرپشن عام ہو، کرپشن کرنی والوں کو چھوڑ دیا جائے، ایسے ملک کے حالات کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ قارئین کو یاد ہو گا وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ تھا، جیسے ہی اقتدار میں آئے، قوانین میں ترامیم کرکے اپنے خلاف مقدمہ ختم کرا لیا۔ سوال ہے اگر وہ بے قصور اور بے گناہ ہوتے انہیں عدالت سے بریت لینی چاہیے تھی، نہ کہ قانون بدل کر بریت لے لی۔ نیب قوانین میں ترامیم سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا دال میں کچھ ضرور کالا تھا تو انہیں عدالت سے بریت لینے کی بجائے قانون میں ترمیم کا سہارا لینا پڑا۔ ہم بات کر رہے تھے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عمران خان رہائی کے لئے تحریک چلانے کے لئے رجسٹریشن کی۔ وزیراعلیٰ نے ابھی تک اس بات کا اعلان نہیں کیا ہے رہائی تحریک کا آغاز کب سے ہوگا؟ رجسٹریشن کا عمل کب تک مکمل ہو گا۔ تحریک کا آغاز کس صوبے سے کیا جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا عوام تحریک کے سلسلے میں اپنی رجسٹریشن رضاکارانہ طور پر کرائیں گے۔ سہیل آفریدی اگر تحریک کا آغاز جلد کرنے کے خواہاں ہوتے تو چاروں صوبوں میں رجسٹریشن کا آغاز بیک وقت کر سکتے تھے۔ انہوں نے رجسٹریشن کا آغاز اپنے صوبے سے کیا ہے، جو اس امر کا غماز ہے انہیں ابھی تک دوسرے صوبوں سے گرین سگنل نہیں ملا ہے، ورنہ وہ بیک وقت چاروں صوبوں میں رجسٹریشن کا بیک وقت آغاز آسانی سے کر سکے تھے۔ مجھے نہیں لگتا مستقبل قریب میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی جلد عمل میں آ سکے گی، ان کے خلاف مقدمات اور اپیلوں کی سماعت جس رفتار سے ہو رہی ہے، اس میں سالوں درکار ہوں گے۔ حکومت نے آئینی ترامیم کرکے اعلیٰ عدلیہ کو بھی ماتحت کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی رہنمائوں کو اپنے خلاف مقدمات کی جلد سماعت اور حصول انصاف کی کم ہی توقع کرنی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button