پاک، ایران رابطہ اور امن کی نئی امید

پاک، ایران رابطہ اور امن کی نئی امید
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کرنا ایک مثبت اور بروقت اقدام ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں چار ملکی اہم بیٹھک جاری ہے، وہیں وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کررہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والی گفتگو کو محض ایک رسمی سفارتی رابطہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک ایسے حساس وقت میں ایک اہم پیش رفت ہے جب خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں رہنماں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف صورت حال کی سنگینی کو سمجھتے ہیں بلکہ اسے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران پر حملوں، خصوصاً شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت ایک واضح اور جرأت مندانہ موقف ہے۔ پاکستان کا یہ موقف نہ صرف انسانی ہمدردی پر مبنی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے عین مطابق بھی ہے۔ شہری آبادیوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے اقدامات خطے میں مزید بے چینی اور بدامنی کو جنم دیتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ ملتا ہے بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی جاتا ہے کہ مشکل وقت میں اسلامی دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ 1900سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا ایک ذمے دار اور حساس قیادت کی علامت ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ردعمل بھی قابلِ غور ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جنگ میں پہل نہیں کرتا، تاہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، خطے میں موجود کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار اور بھی اہم ہوجاتا ہے جو دونوں اطراف کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے امریکا، خلیجی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی امن کی راہیں تلاش کررہا ہے۔ یہ ایک قابلِ تحسین حکمت عملی ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں کسی ایک ملک کی کوششیں کافی نہیں، بلکہ اجتماعی سفارت کاری ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سی یہ یقین دہانی کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا، نہایت اہم ہے۔ اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ایک ذمے دار ریاست کے طور پر شناخت مزید مستحکم ہوتی ہے، ساتھ ہی ایران کی جانب سے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت ہے۔ جہاں تک اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کا تعلق ہے، وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسے ایک مثبت اور احسن قدم کے طور پر دیکھنا چاہیے، جو خطے میں سفارتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے فورمز مکالمے کے دروازے کھولتے ہیں اور غلط فہمیوں کو کم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، لیکن اصل اثر تب ہی سامنے آتا ہے جب انہیں عملی اقدامات سے جوڑا جائے۔ موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام علاقائی ممالک تحمل، بردباری اور دانش مندی کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستے ہیں جو دیرپا امن کی طرف لے جاتے ہیں۔ پاکستان کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے کیونکہ وہ ایک ایسا ملک ہے جس کے تعلقات مختلف فریقین کے ساتھ متوازن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک موثر ثالث اور سہولت کار بن سکتا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے مزید مضبوط اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ دیگر سفارتی اقدامات، جیسے وزرائے خارجہ کا اجلاس، بھی اپنی جگہ اہم ہیں مگر اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس تعمیری کردار کو مزید فعال بنائے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے، کیونکہ یہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ڈس انفارمیشن کی مذموم بھارتی مہم
موجودہ دور میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے، جہاں ہتھیاروں کے ساتھ معلومات اور بیانیے بھی ایک موثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ حالیہ انکشافات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت منظم ڈس انفارمیشن مہم کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی نیٹ ورک نے جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنا تھا، تاکہ عالمِ اسلام میں بداعتمادی پیدا کی جاسکے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، بھارت کی یہ کارروائیاں انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہیں۔ بھارت کی جانب سے Initiator،Proliferatorاور Amplifierماڈل کے تحت چلائی جانے والی یہ مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ بیانیہ سازی، اس کا پھیلا اور پھر اسے تقویت دینا، یہ سب مراحل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت جدید انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے خلاف ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہیں۔ اگر ریاستیں اس طرح جھوٹے بیانیے گھڑ کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گی تو سفارت کاری اور بین الاقوامی اعتماد کا نظام شدید متاثر ہوگا۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل درحقیقت خطے میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورت حال ایک اہم امتحان ہے۔ ایک جانب اسے اپنی مثبت سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ہے جب کہ دوسری طرف بھارتی پروپیگنڈے کا موثر اور مدلل جواب بھی دینا ہے۔ خوش آئند بات کہ ماہرین اس مہم کو بے نقاب کرکے حقیقت سامنے لائے، جس سے پاکستان کے موقف کو تقویت ملی ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور میڈیا لٹریسی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو بغیر تصدیق کے قبول نہ کریں، کیونکہ بھارت جیسے عناصر اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ان معاملات میں بھارت جیسے ممالک کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام ممالک سچائی، شفافیت اور باہمی احترام کے اصولوں کو اپنائیں۔ بصورتِ دیگر، اس قسم کی ڈس انفارمیشن مہمات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔





