Column

تِین میں، نَہ تیرَہ میں

تِین میں، نَہ تیرَہ میں

تحریر: محمد محسن اقبال

برصغیرِ جنوبی ایشیا کی تہذیبی روایت میں رسم و رواج کو ہمیشہ ایک خاموش مگر باوقار اختیار حاصل رہا ہے۔ یہ رسوم محض سماجی ضابطوں تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کی جذباتی ساخت کی تشکیل بھی انہی کے ہاتھوں ہوئی۔ خوشی کا کوئی لمحہ اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا جب تک اسے روایت کی مہر نہ مل جائے، اور غم کا کوئی لمحہ اس وقت تک پورا اظہار نہیں پاتا تھا جب تک رسم اسے شکل نہ دے دے۔ ان روایات میں شادی کی تقریب سب سے زیادہ جامع اور بامعنی ہوتی تھی؛ یہ محض خوشی کا موقع نہ تھا بلکہ صلح و آشتی کا ایک میدان بھی تھا۔ پرانی رنجشیں مٹا دی جاتیں، دور ہو جانے والے رشتہ دار قریب آ جاتے، اور دل خواہ کتنے ہی بوجھل کیوں نہ ہوں، اجتماعی مسرت کے سامنے نرم پڑ جاتے۔

لیکن اس ہم آہنگی کی تہہ میں اکثر ہلکی سی کھنچائو کی لہر بھی موجود رہتی، وہی غیر محسوس رقابتیں جو رشتوں کے پیچیدہ تانے بانے میں اپنی جھلک دکھاتی رہتی ہیں۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی کہ شادی کی دعوت کے انتظام جیسے معاملے پر بھی نازک حساسیت جنم لے لیتی۔ اگر چچا نے میزبانی سنبھال لی تو ماموں کو گلہ ہوتا، اور اگر خالہ پیش پیش ہوئیں تو پھوپھی کو شکوہ رہ جاتا۔ یہ شکایات بظاہر معمولی سہی، مگر ان کی جڑیں اس احساس میں پیوست ہوتیں کہ اس گھر میں میرا حصہ، میرا مقام اور میری پہچان کیا ہے۔ یہ کہنا کہ ’’ اگر اس گھر میں میری کوئی حیثیت ہوتی تو مجھے ضرور پوچھا جاتا‘‘، محض گلہ نہیں بلکہ ایک جذباتی معیشت کا اظہار تھا جہاں عزت اور شمولیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔

وقت کے ساتھ بہت سی روایات دھندلی پڑ گئیں۔ شہری زندگی، تعلیم اور ایک زیادہ عملی طرزِ فکر نے پرانی سختیوں کو نرم کر دیا۔ مگر برصغیر کے بعض گوشوں میں ان روایات کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے، کبھی بدلی ہوئی شکل میں اور کبھی اپنی اصل روح کے ساتھ۔

اسی تہذیبی پس منظر میں قوموں کے رویّے کو سمجھنے کے لیے ایک واضح استعارہ ملتا ہے۔ جس طرح خاندان میں اہم مواقع پر پہچان اور شمولیت کی خواہش ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح عالمی سیاست کے میدان میں ریاستیں بھی اعتراف اور اثر و رسوخ کی متمنی ہوتی ہیں۔ حالیہ خلیجی کشیدگی نے اس حقیقت کو اور نمایاں کر دیا ہے، جس نے نہ صرف ایک مضطرب خطے کی بے چینی کو آشکار کیا بلکہ ہمسایہ ممالک کے متضاد رویّوں کو بھی واضح کر دیا۔

جب دنیا کی نگاہیں خلیج پر مرکوز ہیں اور ممکنہ تصادم کے نتائج پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر امن، مکالمے اور ضبط و تحمل پر مبنی اپنے دیرینہ مقف کا اعادہ کیا ہے۔ اس نے کسی فریق کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور تحمل کی راہ اپنانے کی تلقین کی ہے۔ یہ رویہ محض وقتی مصلحت کا نہیں بلکہ ایک مستقل سفارتی فلسفے کا عکاس ہے جو استحکام کو مشترکہ ذمہ داری اور امن کو اجتماعی بھلائی سمجھتا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس متوازن موقف کو مثبت ردِعمل بھی ملا۔ فریقین نے پاکستان کی متوازن پوزیشن اور تاریخی کردار کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ رابطہ کیا اور ثالثی کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اسرائیل کے علاوہ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مختلف سطحوں پر اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔ یہی اعتماد جو برسوں میں تعمیر ہوا، آج سفارتی معنویت میں ڈھل چکا ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں لے آیا ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں افغانستان سے امریکی انخلا کے عمل میں سہولت کاری کے دوران بھی پاکستان نے پیچیدہ حالات میں رابطے کے پُل کا کردار ادا کیا۔ ایسے اقدامات نے اس کی اس شناخت کو مضبوط کیا کہ وہ تصادم کے بجائے مصالحت اور اختلاف کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتا ہے۔

تاہم، جیسا کہ خاندانی منظرنامے میں ایک فرد کی نمایاں حیثیت کبھی دوسروں میں بے چینی پیدا کرتی ہے، اسی طرح پاکستان کے اس کردار کو بھی سب نے یکساں اطمینان سے قبول نہیں کیا۔ بھارت، جو خطے کا بڑا ملک ہے، وہاں اس صورتحال پر واضح بے چینی دکھائی دیتی ہے۔ بعض سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ تاثر نمایاں ہے کہ ان کی قیادت نے عالمی رہنمائوں سے گرمجوش مصافحوں اور علامتی قربت کے علاوہ کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کیا۔ ان کے مودی جی نے عالمی لیڈروں کو سوائے زبردستی کی جھپیاں ڈالنے کو علاوہ کچھ نہیں کیا اور ہم دنیا میں تنہا رہ گئے۔

یہ ردِعمل اگرچہ داخلی تنقید کے پیرائے میں سامنے آیا، مگر اس کے پسِ پردہ ایک احساس بھی موجود ہے کہ شاید انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ جیسے شادی کے گھر میں کسی کو یہ گلہ ہو کہ اس سے مشورہ نہ کیا گیا، اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی کچھ حلقے اسی کیفیت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر عالمی تعلقات میں محض حجم یا خواہش سے شرکت ممکن نہیں؛ اعتبار اور مستقل مزاجی سے کردار ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارت کی متضاد حکمت عملی اور غیر مستقل اشاروں نے اس کے لیے ایک غیر جانب دار یا قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا متوازن اور مفاد سے بالاتر موقف اس لیے پذیرائی حاصل کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کی عالمی خواہش سے ہم آہنگ ہے۔

تاہم، اس منظرنامے کو محض مسابقت کے زاویے سے دیکھنا درست نہ ہوگا۔ امن کی کوشش کوئی صفر جمع کھیل نہیں اور سفارتی اہمیت کوئی محدود دولت نہیں جسے چھینا یا روکا جائے۔ خلیج اور دنیا کو درپیش مسائل اس قدر سنگین ہیں کہ انہیں محض برتری یا وقار کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق مکالمے کو ترجیح دیں، تنگ نظری سے بلند ہوں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ کسی ایک خطے کا استحکام سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

آخرکار، سبق نہایت سادہ مگر گہرا ہے۔ چاہے معاملہ گھر کا ہو یا عالمی سیاست کا، حقیقی عزت دعوے سے نہیں بلکہ اس طرزِ عمل سے حاصل ہوتی ہے جو اعتماد پیدا کرے۔ جس طرح گھر کا معزز ترین فرد وہ ہوتا ہے جو جوڑتا ہے، بانٹتا نہیں، اسی طرح دنیا میں بھی وہی ریاست معتبر ہوتی ہے جو بے یقینی کے لمحوں میں دوسروں کو قریب لائے۔ پاکستان نے مفاہمت کا راستہ اختیار کر کے اسی اصول کی توثیق کی ہے کہ اصل عزت نمایاں ہونے میں نہیں بلکہ قابلِ اعتماد ہونے میں ہے۔

جواب دیں

Back to top button