آپریشن غضب للحق

آپریشن غضب للحق
محمد مبشر انوار( ریاض)
گزشتہ تحریر ’’ شامت‘‘ میں ریاست پاکستان کی معاشی ابتر صورتحال ، اس کے پس پردہ دہائیوں تک پاکستان کی خدمات عالمی طاقت کو دئیے جانے اور آج لمحہ موجود میں پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ پاکستان کی معاشی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ آج اس کی معیشت کا مکمل انحصار غیر ملکی قرضوں پر ہے اور اس صورت میں پاکستان کسی بھی صورت کسی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور درحقیقت یہی وہ نکتہ ہے کہ بیرونی عناصر پاکستان کو ایک حد تک غیر مستحکم کرنے کے قائل ہیں کہ صرف اسی طرح پاکستان کو مجبور رکھ سکتا ہے وگرنہ بصورت دیگر پاکستان کے پاس اپنی بقاء کے لئے آخری حد تک جائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا امن داؤ پر لگ سکتا ہے، جس کی دنیا کسی بھی صورت متحمل نہیں ہو سکتی البتہ اس دوران اہم ترین پیش رفت عالمی بساط پر یونی پولر دنیا کے خاتمے سے ممکن ہے کہ دنیا اپنے معاملات طے کرنے کے لئے صرف ایک ریاست کی جانب مت دیکھے‘‘ ۔ لیکن بدقسمتی سے خدشات حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں بظاہر پاکستان کی جانب سے ان خدشات کو انتہائی محدود پیمانے تک رکھنے کی کوشش ہو گی کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور خطے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، کسی بھی صورت یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی عسکری فورس، ایک ایسے چنگل میں پھنس کر رہ جائے کہ دوسری سرحدوں کی طرف سے نظر ہٹ جائے۔ اس لئے پاکستان کی کوشش یہی ہوگی کہ جلد از جلد اس قصے کو سمٹیتے ہوئے اپنی نظریں اور ترجیحات اور فوکس کی سمت صحیح رکھ سکے وگرنہ اس لڑائی میں الجھنے کے بعد پاکستان کے پاس خطے و دیگر اہم معاملات سے نظریں ہٹانی پڑیں گی، جس کا پاکستان کسی بھی صورت متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے ارباب اختیار سے ماضی میں بھیانک غلطی ہو چکی ہے جو طالبان جیسے عناصر کو پاکستان کے اثاثے تصور کرکے ان کی آبیاری کی ہے اور یہ تصور کئے رکھا ہے کہ پاکستان کو جب ان کی ضرورت پڑے گی، یہ اپنے تن من دھن سے پاکستان کی حفاظت میں سینہ سپر ہو جائیں گے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہو چکی ہے اور آج بدقسمتی سے یہ طالبان، جن کے لئے کل تک بھارت اپنی آنکھوں میں نفرت سجائے بیٹھا تھا، آج انہی طالبان کا سب سے قریبی حریف بنا، خطے میں بالعموم جبکہ پاکستان کے لئے بالخصوص ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو فنڈ ہی نہیں کر رہا بلکہ ان کے لئے ہتھیاروں کا انتظام بھی بخوبی کر رہا ہے۔ ان عناصر کو مختلف مواقع پر پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹھیک ٹھاک مکو ٹھپا ہے لیکن عقل کل کے خبط میں مبتلا چند جرنیلوں کی جانب سے ، ان عناصر کو بار بار مواقع دینے کی غلطی نے، ان عناصر کو پاکستان کے امن و امان پر ایسے لا بٹھایا ہے کہ آج ملک بھر میں کوئی ایک انچ زمین بھی ایسی میسر نہیں، جہاں ان عناصر کے نقوش نہ ملیں۔ پاکستان اپنے طور پر ان غلطیوں کی درستی کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن لگتا ہے کہ معاملات ضرورت سے زیادہ بڑھ چکے ہیں اور ان کو کنٹرول کرنے کے لئے، پاکستان کو بہرحال تمام حدیں کراس کرنا ہی پڑیں گی، جو تادم تحریر پاکستانی فورسز اپنی باقاعدہ کارروائی کا آغاز آپریشن غضب للحق کی صورت کر چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس آپریشن کا بوجھ سنبھال سکے گا؟ گو کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں کابل، قندھار، پکتیا و دیگر علاقوں میں پاکستانی فضائی حملے کئے گئے ہیں اور ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں دہشت گرد عناصر موجود تھے، علازہ ازیں پاکستان کے جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آپریشن میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اور انتہائی محدود کیا گیا ہے، جس میں صرف دہشت گرد عناصر ہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری طرف افغان حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حملوں میں سویلین آبادی کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس کی ذمہ داری افغان حکومت پاکستان کے عسکری اداروں پر دھر رہی ہے اور اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اس کا پورا پورا بدلہ لے گی، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان کی جانب سے محاذ کو ٹھنڈا رکھنے کی بجائے مزید گرم کیا جائے گا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان کو اس کارروائی کے مضمرات کا اندازہ بھی ہے یا بس آنکھیں بند کئے، کسی دوسرے کی خواہشات کی تکمیل میں، اندھا دھند یا لالچ میں اپنے ایسے ہمسائے، جو افغانستان کا محسن بھی رہا ہے، اس کے شہریوں کی میزبانی بھی کی ہے، کی سالمیت و خود مختاری کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ اگر واقعتا افغانستان کی جانب سے یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے تو کیا پاکستان خاموش رہ سکتا ہے یا اس کا خاطر خواہ علاج کیا جانا چاہے؟ کیا جو علاج پاکستان کرنے جا رہا ہے، آپریشن غضب للحق، کیا وہ واقعی خاطر خواہ علاج ہے یا پاکستان ایک دلدل میں دھنسنے جارہا ہے؟ افغانستان کی تاریخ یہی ہے کہ یہاں جارحیت کا ارتکاب کرنے والی ہر طاقت نے ابتداء میں افغانستان کو فتح کر لیا ہے لیکن اپنی فتح کو قائم رکھنے کے لئے جو قیمت اسے ادا کرنا پڑی ہے، وہ آخر میں اس کی شکست پر ہی منتج ہوئی ہے۔ افغانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ابتداء میں کسی بھی جارح کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے لیکن جیسے ہی جارح کو یہ اندازہ ہوتا ہے، یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ افغانستان کو فتح کر چکا ہے، اسی دن سے اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے کہ افغانی، لڑائی کھلے میدان میں لڑنے کی بجائے، گوریلا جنگ کرنے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں بالخصوص اپنی سرزمین پر جبکہ بیرون ملک ان کا لڑنے کا انداز قطعی مختلف ہے ۔ یہی افغانی تھے، یا وسط ایشیائی ریاستوں کے جنگجو، جو کسی زمانے میں بھارت، جسے اس زمانے میں سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، اس راستے سے بھارت پر لشکر کشی کرتے اور یہاں کے وسائل لوٹ کر واپس چلے جاتے لیکن اس زمانے میں یہ جنگجو، لڑائی کھلے میدان میں بڑے دل گردے، بہادری و دلیری سے لڑتے لیکن جب سے جنگ کے طور طریقے بدلے ہیں، اپنی سرزمین پر ان جنگجوئوں کا طریق جنگ بھی بدل چکا ہے، اب یہ کسی بھی جارح کو اپنی سرزمین میں گھسنے تو دیتے ہیں لیکن نکلنے کے لئے جارح کی حالت اچھی خاصی خراب کر دیتے ہیں۔ جس کی ایک حالیہ مثال امریکہ کی ہے کہ جو آج بھی اپنے زخم چاٹتا دکھائی دیتا ہے جبکہ اس سے قبل سوویت یونین کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہوئی تھی اور اس سے بھی قبل برطانیہ بھی افغانوں پر حکومت کی خواہش دل میں لئے اس خطے سے چلا گیا تھا تاہم جاتے جاتے برطانیہ نے متحدہ بھارت، برطانیہ کے زیر اثر، کو بچانے یا محفوظ رکھنے کے لئے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ضرور افغانوں سے کیا تھا، جو ہنوز قائم ہے۔ البتہ افغان اس ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے پر اب تیار دکھائی نہیں دیتے بلکہ عرصہ دراز سے اس کو اپنے تئیں کالعدم قرار دئیے بیٹھے ہیں اور ان کا دعویٰ پاکستان کے کئی ایک علاقوں پر ہے ، جو ظاہر ہے پاکستان کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتا۔
پاکستان اپنی سالمیت و خودمختاری کم از کم افغانستان کے سامنے تو سرنڈر کرنے سے رہا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ مئی میں پاکستان نے دنیا بھر کو یہ واضح پیغام دیا تھا کہ پاکستان اپنی سالمیت و خودمختاری، اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے سامنے بھی سرنڈر کرنے کے لئے تیار نہیں، اور اپنے روایتی دشمن کو ٹھیک ٹھاک سبق سکھانے میں کامیاب رہا تھا، جس کی تصدیق صدر ٹرمپ کی زبان سے آج بھی جاری رہتی ہے۔ اس سبق کے دوران اور بعد میں، بھارت کے روابط ان دہشت گرد عناصر سے بڑھتے چلے گئے، ان قربتوں میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور آج بھارت، اسرائیلی ایماء پر، ان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستانی جرنیلوں کے اثاثے، ازلی دشمن کے ہاتھوں کھلونا بن کر، اپنے استادوں ( آقا لکھنے سے دانستہ گریزاں ہوں کہ اس میں غلامی کی خو نظر آتی ہے جبکہ پاکستانی جرنیل ان کو اپنے اثاثے گردانتے رہے ہیں) کے سکھائے سبق اپنے استادوں کے نشیمن پر، ہی دہرا رہے ہیں۔ پاکستانی جرنیلوں کو سوچنا ہو گا کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ویسے آپس کی بات ہے کہ یہاں پردیس میں بالعموم افغانی، اپنے استادوں کے متعلق یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ انہوں نے ڈالرز کے عوض، افغان سرزمین کو میدان جنگ بنائے رکھا ہے اور اگر استاد ڈالر کما سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ بہرحال اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے، افغان سرحدی چیک پوسٹوں پر اپنے پرچم لہرا دئیے ہیں، لیکن کیا یہ دائمی ہیں یا افغانوں کی جانب سے بچھایا گیا ایک جال، جیسا وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں؟ اور کیا پاکستان کو افغان سرزمین میں گھسنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ یا آپریشن غضب للحق افغان سرزمین میں موجود اس نرسری کو دائمی طور پر ختم کر پائے گا؟ یا پاکستان کو اس کے اصل ماسٹر مائنڈ یا پاکستان کے اصل دشمن تک جانا ہو گا؟ اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا کہ آپریش غضب للحق کامیاب رہا یا دونوں ممالک کو ایک میز کی ضرورت پڑی؟







