ColumnRoshan Lal

ایران میں کیا ہوا ہے؟

ایران میں کیا ہوا ہے؟
تحریر : روشن لعل
ایران میں شروع ہونے والے پرتشدد مظاہرے تیزی سے ملک کے طول وعرض میں پھیلنے کے بعدریاستی اداروں نے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے انہیں روکا ۔ ایرانی ریاستی اداروں کے سخت اقدامات کے نتیجے میں ایک طرف تو پرتشدد مظاہروں کا زور ٹوٹا اور دوسری طرف ان مظاہروں کے شرکا سے کہیں بڑی تعداد میں لوگ حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ایسا ہونے کے بعد ان لوگوں نے اپنی رائے پر نظر ثانی کا آغاز کر دیا جو یہ خیال ظاہر کر چکے تھے کہ ایران میں فوری رجیم چینج کا وقت آ پہنچا ہے۔ ایسے لوگوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایران میں مذہبی قیادت کی آمرانہ بالادستی کا خاتمہ تو طے ہے لیکن یہ کام اب فورا ً نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوگا۔ اس طرح کی باتیں سامنے آنے کے بعد لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ایرانی مذہبی قیادت کی بالا دستی کے فوری انجام کا امکان ختم ہونے کے بعد کیا ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائیوں کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے ۔
یہ بات کوئی راز نہیں کہ ایران میں مذہبی قیادت کے آمرانہ اقتدار کا فوری خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے اگر وہاں پرتشدد احتجاج روکنے کے لیے سیکیورٹی ادارے ایسے سخت اقدامات کریں جنہیں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی قرار دیا جاسکے اور پھر امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کی آڑ میں وہاں حملہ آور ہو کر اپنی مرضی کی کوئی حکومت مسلط کر دے۔ جو کچھ کہا گیا اس سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ اگر امریکہ ایران میں فوجی مداخلت نہ کرے تو وہاں سخت عوامی احتجاج کے باوجود مذہبی قیادت کے آمرانہ اقتدار کا فوری خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ ایران میں غیر منتخب مذہبی قیادت کی بالادستی کا خاتمہ صرف امریکہ کی کوشش ہی نہیں بلکہ وہاں شخصی آزادیوں ور حقیقی جمہوریت کی متمنی ایرانی عوام کے بہت بڑے حصے کی بھی خواہش ہے۔ امریکہ اور شخصی آزادیوں کی خواہاں ایرانی عوام چاہتے تو وہاں غیر منتخب مذہبی قیادت کی آمرانہ بالادستی کا خاتمہ ہیں لیکن دونوں کے مقاصد میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔ ایران میں معتدل سیاسی رجحانات رکھنے والے جمہوریت پسند ، وہاں ایسے نظام کا نفاذ چاہتے ہیں جو کسی تزویراتی گہرائی نہیں بلکہ عوام کے سیاسی و معاشی مفادات کے تحفظ کے اصولوں پر استوار ہو جبکہ امریکہ کا مقصد ایران میں انتشار پیدا کر تے ہوئے وہاں کے وسائل کو اپنے تصرف میں لانا ہے۔ ایران میں معتدل سیاسی رجحانات رکھنے والے لوگ امریکی افعال، پالیسیوں ، مفادات اور ترجیحات سے بخوبی آگاہ ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اپنے ملک پر ٹرمپ کے ممکنہ حملے کو خوش آمدید کہنے کی بجائے اس کی مخالفت کرتے ہوئے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر یہ ثابت کیا کہ وہ بیرونی مداخلت سے نہیں بلکہ اپنی سیاسی جدوجہد سے ایران میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ یہاں بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ایران میں اعتدال پسند سیاسی قیادت مثبت تبدیلیوں کے لیے طویل عرصہ سے جو جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے امریکی صدر ٹرمپ اسے کس طرح نقصان پہنچا چکا ہے۔
یہ بات ایک عیاں حقیقت ہے کہ انقلاب کے فوراً بعد ایران بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ عراق کے ساتھ طویل جنگ کے بعد ایران مزید تنہائی کا شکار ہوا۔ بیرونی دنیا کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش تھی۔ لہذا ایران کو پیش کش کی گئی کہ اگر وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر مغربی دنیا کے تحفظات دور کر دے تو اس پا عائد اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ اس پیشکش کا پس منظر یہ ہے بش جونیئر کے دور صدارت میں جب امریکہ نے ایران، شمالی کوریا اور وینزویلا کو ایک ساتھ برائی کا محور قرار دیا تو وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز امریکہ کے خلاف سہ ملکی اتحاد بنانی کے لیے سرگرم ہو گئے۔ جب ہوگو شاویز امریکہ کے خلاف ایران، شمالی کوریا اور ایران کا اتحاد قائم کرنے کے لیے سرگرم تھے ان دنوں اس اتحاد کو اپنی سلامتی اور مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتے ہوئے یورپی یونین میں شامل ملکوں نے امریکہ کو اپنے خدشات سے آگاہ کرنے کے بعد روس اور چین کی معاونت سے ایران کے سفیروں کے ساتھ اس ایجنڈے کے تحت رابطہ شروع کر دیا تھا کہ اقتصادی تعاون کی شرط پر ایران کو اس کا ایٹمی پروگرام محدود کرنے پر آمادہ کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں رابطوں کا آغاز تو 2006ء میں ہوا مگر مثبت پیش رفت اس وقت ہوئی جب اعتدال پسند سیاسی رجحانات رکھنے والے حسن روحانی ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں نومبر 2013ء میں ایک عبوری معاہدہ طے پایا جو امریکہ اور ایران کے درمیان34 برس میں ہونیوالے پہلا معاہدہ تھا۔ اس تسلسل میں جنوری 2016ء میں ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
ایران پر معاشی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایک طرف تو ایرانی عوام نے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ کرنے والے معتدل مزاج حسن روحانی کو ملائیت کے حامی صدارتی امیدوار کے مقابلے میں پہلے سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ کامیاب کرایا جبکہ دوسری طرف امریکیوں نے ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب کیا ۔ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدہ سی دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اس پر پھر سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں ۔ ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد وہاں حسن روحانی جیسے معتدل سیاسی رجحانات رکھنے والے لیڈر پیچھے چلے گئے اور ملائیت کے حامی پھر سے عوام میں مقبول ہونا شروع ہو گئے۔ جس طرح کے پرتشدد مظاہرے آج ایران میں ہو رہے ہیں جب اسی طرح کے مظاہرے حسن روحانی کے دوسرے دور صدارت میں ہوئے تو ٹرمپ نے کچھ یوں کہا تھا: ’’ ایران میں وسیع پیمانے پر ہنگامے ہو رہے ہیں، ایران کے لوگوں نے دانشمندی سے سمجھ لیا ہے کہ کس طرح ان کی لوٹی ہوئی دولت دہشت گردی کی نظر کی جارہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب وہ مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے، امریکہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے‘‘۔
ایران میں ایک مرتبہ پھر پزشکیان کی صورت میں حسن روحانی جیسا معتدل مزاج صدر منتخب ہوا، گو کہ اس معتدل مزاج صدر کے دور حکومت میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے وہاں کے عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو کر احتجاج پر آمادہ ہوئے لیکن اس احتجاج کی آڑ میں ٹرمپ پھر سے اسی طرح کا کردار ادا کرتے ہوئے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس طرح کا کردار وہ حسن روحانی کے دور میں ادا کر چکا تھا۔ حسن روحانی اور پزشکیان جیسے معتدل مزاج سیاستدان جب ایران میں بتدریج سیاسی تبدیلیاں برپا کرنے کے لیے عوامی حمایت سے کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ٹرمپ جیسے لوگ اپنے استعماری عزائم پورے کرنے کے لیے ایسی جارحیت کا مظاہرہ کر دیتے ہیں کہ قوم پرستی کے احساس سے لیس ایرانی عوام پھر سے ملائیت کی گود میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ ، ایران میں بتدریج مثبت تبدیلیوں کے لیے جاری جدوجہد کی سمت کس طرح تبدیل کر دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button